مضامین

امام ابومنصور ماتریدی

Tariq Mehmood Razvi
06 ستمبر 2026
33
0
فاضل جلیل حضرت مولانا اسماعیل ازہری صاحب کے کتابچے علم ہدیٰ امام اہل سنت امام ابو منصور ماتریدی حیات و خدمات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ احساس شدت سے پیدا ہوا کہ ہم اہل سنت ماتریدیہ نے اپنے اس عظیم امام کی ذات و خدمات سے جو بے اعتنائی برتی ہے، وہ یقینا نہایت ناگفتہ بہ ہے. ایک ایسے امام جنہوں نے علم کلام کو نہ صرف وضع کیا ، بلکہ اس کی توسیع کے ساتھ اخلاف کو ایک بہترین منہج بھی عطا فرمایا، عقائد میں جن کے متبعین مشرق سے مغرب تک کروڑوں کی تعداد میں ہیں، اور سیدی امام اعظم علیہ الرحمہ کی مرویات میں جن کا قول حجت کی حیثیت رکھتا ہے، ایسی جلیل القدر شخصیت کی حیات وخدمات سے بے توجہی یقینا ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے.
حضرت مولانا اسماعیل ازہری صاحب نے اس مختصر سے کتابچے میں نہایت عمدہ اور تحقیقی مواد جمع کیا ہے، مطالعے کے دوران بہت سے ایسے گوشے نگاہوں کے سامنے آئے جو اس سے قبل فقیر کی نگاہوں سے نہیں گزرے تھے، اور اس نوع کے تحقیقی مواد سے محظوظ ہونا تو لازم ہی ہے. البتہ ایک بات نے ضرور متوجہ کیا کہ حضرت نے تصنیف میں جدید تحقیقی منہج سے قدرے صرف نظر فرمایا ہے، ممکن ہے اس کا سبب ہندوستانی قارئین کی رعایت ہو، یا وقت کی وہ تنگی جس کا حضرت نے خود ذکر فرمایا ہے، اسی طرح خدمات کے ذیل میں زیادہ تر تصنیفات ہی کا ذکر ملتا ہے، حالاں کہ اہل علم پر مخفی نہیں کہ خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، ممکن ہے کہ خدمات سے پہلے تصنیفی مقدر ہو یا خدمات سے مراد تصنیفی خدمات ہوں. بہرحال، کتابچہ اپنی جگہ معلومات افزا اور قابل مطالعہ ہے، بہت کچھ ایسا پڑھنے کو ملا جو اس سے پہلے نگاہوں سے اوجھل تھا. اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اسماعیل ازہری صاحب کی عمر و علم و قلم میں برکت عطا فرمائے اور امام اہل سنت امام ابو منصور ماتریدی علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کے تمام گوشوں پر تفصیلی روشنی ڈالنے کی جو خواہش حضرت نے ظاہر فرمائی ہے، اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں آسانیاں عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین.

طارق محمود رضوی