مضامین

امتحان کا تعارف

ہمشیرہ اخلاق برکاتی
138
0
ہمارے دینی و عصری تعلیمی اداروں میں تعلیمی سال کا آغاز ماہِ شَوّال سے ہوتا ہے اور ماہِ شعبان تک جاری رہتا ہے۔ اس عرصے کے دوران دو مرتبہ امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلبہ و طالبات کی صلاحیت، قابلیت، فہم اور لیاقت کی جانچ کی جائے اور یہ پرکھا جائے کہ انہوں نے اپنے اسباق کتنی دلجمعی سے پڑھ کر سمجھے ہیں۔ امتحان دراصل ایک ایسا عملی پیمانہ ہے جس سے محنت اور کمزوری دونوں واضح ہو جاتی ہیں۔
جہاں تک امتحان کے تصور کے پس منظر کا تعلق ہے، اس بارے میں مختلف روایتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک مشہور روایت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں ہنری فشل نامی شخص نے تعلیمی اداروں میں امتحانی نظام کا تصور رائج کیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شخص یہودی تھا۔ اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہودی ہمیشہ سے مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں اور ہر زمانے میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ چنانچہ اگر آج کوئی شخص امتحان کی سختیوں اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے اس یہودی کا نام لے کر اسے برا بھلا کہہ دے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ دشمن کے بارے میں سخت الفاظ کہنا کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں، بالخصوص جب وہ اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ہو۔
ایک دوسری روایت کے مطابق امتحان کا باقاعدہ آغاز ساتویں صدی میں چین کے شاہی خاندان کے دور میں ہوا، مگر وہ امتحانات تعلیمی نہیں تھے بلکہ سرکاری افسروں کے انتخاب کے لیے لیے جاتے تھے تاکہ یہ پرکھا جاسکے کہ کون شخص سرکاری ذمہ داری کے قابل ہے۔ اس لحاظ سے چین امتحان کا پہلا مرکز مانا جاتا ہے، جبکہ موجودہ تعلیمی امتحانات کی باقاعدہ تشکیل کا سبب وہی یہودی اسکالر بنا، جس کے بعد وقت کے ساتھ اس نظام میں بہت سی تبدیلیاں آتی رہیں اور آج ہم جس نظامِ امتحان سے گزر رہے ہیں وہی اس کی جدید شکل ہے۔
لفظ "امتحان" بابِ افتعال سے مصدر ہے اور اس کے معنی ہیں: آزمائش، جانچ اور پرکھ۔ اسی مفہوم میں قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى﴾
یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ عزوجل نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے۔
امتحانات کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں: تعلیمی امتحان، ملازمت حاصل کرنے کے لیے امتحان، اور عملی زندگی کے وہ امتحانات جن کا سامنا انسان ہر قدم پر کرتا ہے۔ امتحان انسان کی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں اور مستقبل کی کامیابی کے راستے کھولتے ہیں۔ اگرچہ طلبہ کے لیے یہ ایک سخت آزمائش ہوتی ہے، مگر یہی آزمائش انسان کی عملی زندگی کے بڑے امتحانات کے لیے اسے تیار کرتی ہے۔
✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی