امتحان میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ طالبِ علم امتحان کی تاریخ، وقت اور کتاب کی مقدار سے مکمل واقف ہو۔ سب سے پہلے یہ بات دل میں بٹھا لیں کہ امتحان کوئی خوف ناک چیز نہیں بلکہ روزمرہ معمول کا حصہ ہے، لہٰذا امتحان کے خوف کو ذہن سے نکال دیں اور حوصلے اور اعتماد کے ساتھ تیاری شروع کریں۔ امتحان آنے سے پہلے ہی تمام اسباق کی تیاری مکمل کرلیں۔
مثال کے طور پر اگر کتاب پچاس صفحات پر مشتمل ہے تو پہلے یہ معلوم کریں کہ کون سے اسباق کمزور ہیں یا مشکل ہیں۔ اُن اسباق پر نشان لگائیں اور سب سے پہلے انہیں مضبوط کریں۔ ابتدا میں پوری کتاب نہ پڑھیں بلکہ صرف کمزور حصوں کو مضبوط کریں، جب کمزور حصہ مضبوط ہو جائے گا تو پوری کتاب آسان اور یکساں محسوس ہونے لگے گی۔
اس کے بعد دہرائی کا نظام بنائیں۔ دن کے اوقات متعین کریں، مثلاً فجر کے بعد پانچ صفحات، ظہر کے بعد پانچ صفحات اور شام کو پانچ صفحات۔ اسی طرح ہر مضمون کے لیے باقاعدہ جدول بنائیں اور طے کریں کہ کتنے وقت میں کتنے صفحات مکمل کرنے ہیں۔ جب پوری کتاب کی تیاری مکمل ہو جائے تو امتحان سے ایک رات قبل صرف مجموعی طور پر کتاب کا جائزہ لیں، تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ عزوجل کے فضل سے سب بہتر ہوگا، گھبرائیں نہیں۔ ایک اصول یہ ہے کہ پہلے دیکھ کر یاد کریں پھر بغیر دیکھے دہرائیں۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے:
السبقُ حرفٌ والتکرارُ ألفٌ
یعنی سبق ایک مرتبہ اور تکرار ہزار مرتبہ۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے کہ غور و فکر کرو، ان شاء اللہ عزوجل جو مقصد ہے وہ حاصل ہو جائے گا۔
تیاری کے لیے پرسکون جگہ منتخب کریں، ذہنی سکون بہت ضروری ہے۔ حافظے کو کمزور کرنے والی چیزوں سے بچیں جیسے زیادہ کھٹی چیزیں اور زیادہ چکنائی والی غذائیں۔ مسواک حافظہ کے لیے نہایت مفید ہے، اس کا اہتمام کریں۔ یاد رکھیں کہ کامیابی کا سب سے بڑا راز تکرار ہے۔
امتحان والے دن کی نصیحت یہ ہے کہ رات جلدی سوئیں، صبح غسل کرکے تازہ دم ہو کر جائیں، ضروری سامان ساتھ لے جائیں۔ پرچہ ملنے کے بعد فوراً لکھنا شروع نہ کریں بلکہ پورا پرچہ پہلے اچھی طرح پڑھیں۔ جو سوال آسان لگے اسے پہلے حل کریں اور سب سے مشکل سوال آخر میں حل کریں۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے ان شاء اللہ عزوجل کامیابی مقدر بنے گی۔
✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی