جوں جوں زمانہ ترقی کر رہا ہے، تعلیم کا اصل مقصد پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ آج تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی اور اچھے نمبروں کا حصول بن کر رہ گیا ہے، حالانکہ علم حاصل کرنے کا حقیقی مقصد رضاے الٰہی اور انسان کی اصلاح ہونا چاہیے۔
افسوس کہ والدین، اساتذہ اور طلبہ تینوں کی توجہ کا مرکز صرف نتیجہ (Result) بن چکا ہے۔ کسی بھی طریقے سے کامیابی حاصل کر لینا، خواہ وہ طریقہ درست ہو یا غلط—یہی ذہن بنا لیا گیا ہے۔ اسی لیے اکثر اوقات بچے دوسروں کے نوٹس لے کر، کتب چھوڑ کر صرف خلاصہ یاد کرکے یا شروحات اور گائیڈوں کے سہارے امتحان پاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف محنت کو بے معنی کرتا ہے بلکہ سوچنے، سمجھنے اور تحقیق کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔
بعض اوقات مقصد صرف یہ رہ جاتا ہے کہ دوسروں کو پیچھے چھوڑا جائے اور اول پوزیشن حاصل کی جائے، خواہ اس کے لیے کسی بھی اصول کو توڑنا پڑے۔ یہ روحِ تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔
امتحانات کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ کئی بچے رٹنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ان کی تخلیقی قوت، عقل و فہم اور دلیل سے سوچنے کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ کچھ بچے امتحانی دباؤ اور خوف کے سبب اس قدر پریشان ہو جاتے ہیں کہ ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے، نیند اُڑ جاتی ہے، اور ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ امتحانات کے فائدوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان نقصانات سے بچنے کی کوشش کریں اور تعلیم کا اصل مقصدعلم، تربیت، اخلاق اور رضاے الٰہی کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی