کل ایک بزرگ خاتون گھر تشریف لائیں۔ ناشتے کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہوں نے نماز، روزے کی پابندی، امور خانہ داری اور ادب و احترام کے متعلق نہایت پیاری اور نصیحت آموز باتیں ارشاد فرمائیں۔
اسی دوران علمِ دین کے سیکھنے اور سکھانے کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فوراً فرمایا: ”بیٹا! کیا آپ ہمیں پڑھا دیں گی؟“ اللہ اللہ! بظاہر یہ ایک مختصر سا جملہ تھا، لیکن اس میں نہ جانے کتنی طلب علم، شوق دین اور سیکھنے کی تڑپ پوشیدہ تھی۔
یہ بات سن کر دل و دماغ میں ماضی کی بزرگ خواتین کا تصور تازہ ہو گیا، جو علمِ دین سیکھنے اور سکھانے کی کتنی حریص ہوا کرتی تھیں۔ علم حاصل کرنے کے لیے مشقتیں برداشت کرتیں، وقت نکالتیں اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی بھی فکر رکھتیں۔
اور ایک ہم ہیں کہ علم کے بے شمار ذرائع اور سہولتیں میسر ہونے کے باوجود سستی، غفلت اور کاہلی کا شکار ہیں، اور علم کے نور سے خود کو محروم کیے ہوئے ہیں۔ الا ما شاءاللہ تعالیٰ!
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی علمِ دین سیکھنے اور سکھانے کا وہی جوش، شوق اور جذبہ عطا فرمائے، جو ہماری صالحات و طیبات کا وصف تھا۔ آمین یا رب العالمین!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ29 ذی الحجہ 1447
16 جون 2026، بروز منگل