مضامین

اے راہ علم کے مسافرو۔۔۔۔!

بنت اسلم برکاتی
12 اگست 2026
113
1
عزیز طلبہ و طالبات! رب تبارک و تعالیٰ کا کروڑوں شکر و احسان عظیم ہے کہ اس نے آپ کو اس راہ کا مسافر بنایا، جس کی منزل جنت ہے۔ آپ کو علم دین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور عام انسانوں کی فہرست سے نکال کر انبیاءِ کرام علیہم السلام کے وارثین کی صف میں لا کھڑا کیا۔
یہ ایسی راہ ہے جس پر ہر کوئی نہیں چل سکتا! ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ سو میں سے دس افراد بھی اس راہ پر نہیں چلتے؛ لیکن جو چلتے ہیں، وہ چنندہ اور خوش نصیب ہوتے ہیں۔ جب یہ راہ اتنی عظیم ہے، تو اس پر چلنے والے بھی کتنے عظیم اور خوش نصیب ہوں گے!
زندگی کے ہر موڑ پر امتحانات آتے ہیں، اور ہمارا اس دنیا میں آنا بھی ایک امتحان کی تیاری کے لیے ہے۔ اسی طرح حصول علم دین کی راہ میں بھی امتحانات آتے ہیں۔ یہ امتحانات آپ کی قابلیت کو پختہ کرنے اور خوبیوں کو مزید نکھارنے کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ آپ کو اس راہ سے ہٹانے کے لیے!
چند سالوں سے مدارس دینیہ کے امتحانات کو لے کر جس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے، وہ قابل افسوس ہے۔ جیسے ہی امتحانات کی تاریخ کا اعلان کیا جاتا ہے، طلبہ و طالبات عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ ان کے اسٹیٹس اور اسٹوریز دیکھی جائیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا میں پہلی بار کوئی امتحان ہونے جا رہا ہے اور یہ دنیا کے پہلے افراد ہیں جو امتحان دینے والے ہیں۔
ایسے ایسے میمز اور ہنسی مذاق کی ویڈیوز کہ اللہ کی پناہ! اب تو معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ امتحانات کو “قیامت صغریٰ” کا نام دیا جانے لگا ہے اور باقاعدہ اس کی مبارک باد دی جانے لگی ہے۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ قیامت صغریٰ آخر کہتے کس کو ہیں؟ یا بس یوں ہی کسی کا اسٹیٹس دیکھا اور کاپی پیسٹ کر دیا؟
آپ وارثین انبیاءِ کرام علیہم السلام کی صف میں شامل ہونے والے افراد ہیں۔ آپ کے ہر قول و فعل پر نہ صرف اپنوں؛  بل کہ غیروں کی بھی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔ مدارس دینیہ اور طلبہ و طالبات کو لے کر اغیار تو ویسے بھی ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے ہیں اور اگر آپ بھی اس میں شامل ہو گئے، تو کیا بنے گا؟ 
اس طرح امتحانات کا مذاق اڑانا اور انہیں یوں پیش کرنا کہ جیسے کوئی انہیں پاس ہی نہیں کر سکتا، انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک طرف پہلے ہی علم دین کی طرف بہت کم لوگ آتے ہیں، اور دوسری طرف اگر آپ ہی اپنے قول و فعل اور حرکات و سکنات سے لوگوں کو اس راہ سے خوف زدہ کرنے لگیں، تو یہ قابل فکر بات ہے۔
ذرا سوچیے! آپ کے ایک اسٹیٹس یا اسٹوری سے اگر کوئی ایک شخص بھی اس راہ سے دور ہو گیا، یا علم دین حاصل کرنے کی نیت رکھنے والا اپنا ارادہ بدل بیٹھا، تو اس کا نقصان صرف آپ تک محدود نہیں رہے گا؛ بل کہ دین کو جو نقصان ہوگا، وہ بیان سے باہر ہے۔ اے راہ جنت کے مسافرو!
اپنی قدر و قیمت کو جانیے اور ہمہ وقت خود کو ایسی حرکات سے بچائیے، جو آپ کی وجہ سے دین پر انگلی اٹھنے کا سبب بنیں۔ اور جو غافل ہیں ان کو اتنا ہی کافی ہے کہ علم دین کی قدر نہ کرنے والے اس لائق ہی نہیں کہ وہ اس نور کا حصہ حاصل کریں؛ جس کا سر چشمہ (مبارک) سینۂ رسول اللہ ﷺ ہے۔
قلب و ذہن کو فضولیات سے بچائیے، خوب محنت کیجیے، دل لگا کر پڑھیے اور امتحانات دیجیے۔ اس نیت کے ساتھ کہ ہمیں دنیا کی خاطر نہیں؛ بل کہ فقط رب و رسول ﷺ کی رضا کی خاطر علم حاصل کرنا ہے، اس پر عمل کرنا ہے اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔
رب تبارک و تعالیٰ ہم سبھی کو دونوں جہانوں میں کام یابیاں عطا فرمائے اور ہر ایسے قول و فعل سے محفوظ فرمائے، جو دین کے نقصان کا سبب بنے۔ آمین! اللّٰہم آمین یا رب العالمین!
ــــــــــــــــــــــــــ
28 صفر المظفر 1448
12 اگست 2026، بروز بدھ