مضامین

باب رضویات میں اپنی نوعیت کا منفرد اور اولیں کام

Tariq Mehmood Razvi
13 اگست 2026
61
0
الحمد للہ! اس وقت اہل سنت میں فکری بیداری کی ایک خوش آئند لہر اٹھ رہی ہے. اس بیداری کا ایک اہم اور روشن پہلو "یاد رفتگاں ضائع مکن"، بالفاظ دیگر اسلاف شناسی ہے. اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ اسلاف کے علمی و فکری ورثے کو محض تبرک اور تذکرے کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے اس پر علمی، فنی اور تحقیقی زاویوں سے ازسرنو کام کیا جائے. ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اسلاف شناسی پر مشتمل ہمارا موجودہ ذخیرہ علمی و فنی اعتبار سے کس قدر وزنی اور مؤثر ہے؟ اس میں اہل عرب وعجم کے لیے عصر حاضر کے فکری و عملی مسائل کا حل کس حد تک موجود ہے؟ اور کہاں یہ محض معلومات کے انبار اور اقوال کے مجموعے کی صورت اختیار کر گیا ہے؟ ان سوالات کی کوکھ سے اسلاف شناسی کا ایک جدید اور عصری ماڈل تشکیل پانے لگا کہ اسلاف امت کو صرف قابل احترام شخصیات کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ انہیں علمی و فکری رول ماڈل مان کر ان کے علوم وفنون، تحقیقات وتدقیقات اور مناہج وافکار کو منظم انداز میں نئی نسل تک منتقل کیا جائے، تاکہ اہل سنت فکری و فنی لحاظ سے دنیا کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں.
   اس تناظر میں دار الملک کی خدمات خصوصی توجہ کی مستحق ہیں، جو ۲۰۱۷ء میں بروز جمعہ بریلی شریف سے اپنے علمی سفر کا آغاز کرنے والا ایک منفرد تحقیقی واشاعتی ادارہ ہے. اس ادارے نے نہایت مختصر مدت میں برصغیر کے علماء، بالخصوص سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے علمی اور تحقیقی کارناموں کو اہل عرب کے سامنے معیاری انداز اور عصری اسلوب میں پیش کر کے ایک نمایاں خلا کو پر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے. لمبے عرصے سے یہ احساس شدت اختیار کر چکا تھا کہ امت مسلمہ کی فکری کشتی کو تلاطم افکار سے نکالنے کے لیے سیدی حضور اعلیٰ حضرت کے عظیم علمی و فنی ورثے کو جدید طریقے سے عرب دنیا تک منتقل کیا جائے، تاکہ اہل عرب آپ کے مقام و مرتبہ، علمی وسعت، فقہی بصیرت، حدیثی مہارت اور تجدیدی خدمات سے براہ راست آگاہ ہو سکیں، اور وہ خلا جو آپ اور اہل عرب کے درمیان پیدا ہوگیا، اسے پر کیا جا سکے.
یہی وجہ ہے کہ بانی ادارہ حضرت مولانا شیخ شیراز احمد ملک نظامی ازہری حفظہ اللہ کی تمنائے شوق ہر آن قوت فکر وعمل کو مہمیز دیتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال عرس رضوی کے مبارک موقع پر دیدہ زیب اور مخصوص نور و نگہت کے ساتھ اپنے حسین خوبصورت اور دلکش انداز میں ایک قیمتی علمی خزانہ بزم علماء کی زینت بنتا رہتا ہے، جس سے  ایک طرف مسلک اعلی حضرت کی خدمات بھی ہو رہی ہوتی ہے، وہیں دوسری طرف سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت بھی پیش ہو جاتا ہے، جس سے یہ پیغام دینا بھی پیش نظر ہوتا ہے کہ عرس کا مقصد صاحب عرس کی تعلیمات کو عصری منہج کے مطابق زیادہ سے زیادہ عام کرنا ہونا چاہیے. اب آپ گزشتہ عرس رضوی کے پرنور منظر کو اپنی نگاہوں میں لائیے تو آپ کو علمائے عرب کے قرطاس وقلم کی میز پر ایک گلدستہ روح افزا چھ جلدوں کی حسین صورت میں اپنی علمی عظمت واشاعتی حسن کے ساتھ باذوق حضرات کی نگاہوں کو خیرہ کرتا ہوا نظر آئے گا، اس گلدستے کا پہلا مجموعہ چار جلدوں پر مشتمل ہے، القول المرتضي في ترجمة الإمام أحمد رضا، جهود الامام البريلوي وآثاره في التفسير، جهود الامام البريلوي وآثاره في الحديث وعلومه، جهود الامام البريلوي وآثاره في إصلاح الأمة. اور دوسرا مجموعہ جو کہ پانچویں جلدی ہے مجموعة خطبات وأسانيد وإجازات کے نام سے  اور تیسرا مجموعہ جو کہ چھٹی جلد ہے بنام مجموعة رسائل في رسم الإفتاء اپنی برکتوں کے ساتھ شائع ہوئے، جنہوں نے عرب علمی حلقوں میں رضویات کے تعارف کی ایک نئی راہ ہموار کی.
پانچویں جلد پر انجام دیا جانے والا کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہے، بلکہ باب رضویات میں اسے ایک اوّلین اور امتیازی کاوش قرار دیا جانا زیادہ مناسب ہے، چنانچہ مقدمہ کتاب میں خود اس کی انفرادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے:
هذه المجموعة تكون بإذن الله تعالى مفيدة جداً؛ لأنها لم تطبع من قبل بهذا الشكل، فالآن تُنشر لأول مرة بهذا الترتيب من قبل مؤسستنا العلمية دار الملك.
اس مجموعہ کے افتتاحی خطبہ میں سیدی حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے ایک سو پچہتر رسائل کے نام یکجا کیے گئے ہیں، جو اس مجموعہ کے مرتب کی دقت نظر اور غیر معمولی علمی صلاحیت کا بین ثبوت ہیں. 
یہ مجموعہ چار ابواب پر مشتمل ہے. پہلے باب میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے رسائل سے ماخوذ ایک سو تیس افتتاحی خطبات جمع کیے گئے ہیں، ان خطبات میں وارد قرآنی آیات  واحادیث طیبہ کی تخریج وتحقیق اور أعلام وأسماء کی جامع ومختصر تشریح حواشی میں نہایت عمدہ انداز سے پیش کی گئی ہے، جس نے اس باب کی علمی افادیت کئی گنا بڑھا دی ہے.
دوسرا باب اسانید وطرق کے روح پرور گلستان سے معطر ہے، اور یہ چار فصلوں پر مشتمل ہے. پہلی فصل میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی سند فقہ حنفی کو ذکر کیا گیا ہے. دوسری فصل میں آپ کی سند حدیث اور حدیث مسلسل بالأولیہ کی اسانید کو شیخ عبد الحق محدث دہلوی، شاہ عبد العزیز دہلوی اور شیخ احمد حسن صوفی مرادآبادی رحمہم اللہ کے تین طرق سے نقل کیا گیا ہے. تیسری فصل مصافحات کی اسانید سے متعلق ہے، جس میں جنیہ، خضریہ، معمریہ اور منامیہ کی چار اسانید جمع کی گئی ہیں. جبکہ چوتھی فصل میں سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کی سند کو نہایت اہتمام کے ساتھ درج کیا گیا ہے. 
تیسرا باب سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے حاصل کی گئی اجازات کے لیے خاص کیا گیا ہے، اور یہ دو فصلوں میں تقسیم ہے. پہلی فصل علماء عرب کو عطا کی گئی اجازات پر مشتمل ہے، جس میں پچیس مباحث شامل ہیں، جبکہ دوسری فصل علماء ہند سے متعلق اجازات کو محیط ہے، اور اس میں پانچ مباحث ذکر کیے گئے ہیں. 
اس مجموعہ نے اہل علم و دانش کے حلقوں میں شائع ہوتے ہی غیر معمولی پذیرائی حاصل کی اور اپنی انفرادیت اور علمی تحقیق کے باعث خوب داد و تحسین سمیٹی.
تیسرا مجموعہ، یعنی چھٹی جلد، سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فقہ حنفی میں رسم افتاء، اس کے اصول، آداب اور قواعد سے متعلق تین نہایت اہم رسائل پر مشتمل ہے:أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقاً على قول الإمام، جلي النص في أماكن الرخص، الفضل الموهبي في معنى: إذا صحّ الحديث فهو مذهبي.  ان میں سے ہر رسالہ رسم افتا میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی غیر معمولی مہارت، وسعت نظر اور دقیق فقہی بصیرت کا ایسا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اسے دیکھ کر چشم فلک بھی دیدۂ حیراں بن جائے اور مخالفین انگشت بدنداں رہ جائیں. یہ چھ جلدیں عربی زبان میں اہل علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہیں، اور اب ان شاء اللہ بہت جلد سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا تیس جلدوں پر مشتمل عظیم علمی خزانہ بھی اسی تحقیقی اور عصری اسلوب کے ساتھ حقیقت کا پیکر بن کر نگاہوں کے سامنے ہوگا. اور یہ رضویات کی تاریخ کا ایک عظیم سنگ میل اور ایک تاریخ ساز کارنامہ ہوگا، جس کی گونج مدتوں تک سنائی دے گی اور جسے رہتی دنیا تک قدر وتحسین کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اس کے ذریعے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے افکار و تحقیقات نئی نسل خصوصا اہل عرب تک منتقل ہوں گے. 
اردو زبان میں عظیم خدمات
عربی ایڈیشن کی طرح سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مکمل رسائل جدید تحقیقی منہج اور عصری ماڈل کے مطابق اردو زبان میں مرحلہ وار زیور طباعت سے آراستہ کیے جائیں گے. اس عظیم منصوبے کی پہلی کڑی رواں سال عرس رضوی کے پربہار موقع پر مجموعہ خطبات، اسانید و اجازات اور دوسری کڑی رسائل رسم افتاء کی صورت میں منظر عام پر آئے گی، یوں ہی اس سلسلے کی تیسری کڑی رسائل کتاب الطہارہ، چوتھی کڑی رسائل کتاب الصلاۃ ھلم جرا بہت جلد ہماری نگاہوں کے سامنے ہوں گی. اور یہ خدمت بھی رضویات کے میدان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد خدمت ہوگی، اس عظیم منصوبے کو شائع کرنے کا اعزاز بھی دار الملک کے حصے میں آیا ہے، جو رضویات کے احیا اور فروغ کے لیے اس ادارے کی سعی پیہم وجہد مسلسل کا منہ بولتا ثبوت ہے. اللہ تعالیٰ پر یقین ہے کہ یہ منصوبہ جلد حقیقت قالب میں ڈھل جائے گا ان شاء اللہ.
اردو رسائل پر کام کی کچھ تفصیل 
 رسم افتاء سے متعلق رسائل پر جس محنت، دقت نظر اور عرق ریزی کے ساتھ کام کیا گیا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقاً على قول الإمام اور جلي النص في أماكن الرخص کی تحقیق میں دو دو مطبوعہ نسخوں سے تقابل کیا گیا، جبکہ الفضل الموهبي في معنى: إذا صحّ الحديث فهو مذهبي کی تحقیق میں تین مختلف نسخوں کو بنیاد بنایا گیا. مزید برآں، ان تمام نسخوں کے رموز بھی قاری کی سہولت کے لیے متعین کر دیے گئے ہیں، تاکہ اختلاف نسخ کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے. 
 تحقیق متن کے ساتھ کتاب کی تصحیح، ترتیب، تسہیل اور عصری تحقیقی تقاضوں کی رعایت کے ساتھ متعدد قابل قدر خدمات بھی انجام دی گئی ہیں، جن میں نمایاں طور پر درج ذیل امور شامل ہیں:
جدید قواعد کتابت کے مطابق مکمل کمپوزنگ، نیز علامات ترقیم اور پیرا بندی کا اہتمام. 
کتاب میں موجود لفظی اور املائی اغلاط کی حسب استطاعت اصلاح.
اردو رسائل میں تمام عربی عبارات پر مکمل اعراب کا اہتمام.
آیات قرآنیہ، احادیث مبارکہ اور اقوال ائمہ کی مکمل تخریج.
مفہوم کی وضاحت کے لیے حسبِ ضرورت بعض توضیحی عبارات کو [ ] کے درمیان درج کرنا. 
مشکل الفاظ اور دقیق اصطلاحات کی تشریح کے لیے مفید حواشی و تعلیقات کا اضافہ.
موضوعات کی آسان تفہیم کے لیے ذیلی عناوین (سرخیاں) کا اہتمام، اور جو سرخیاں ادارے کی جانب سے اضافہ کی گئی ہیں، انہیں قوسین میں رکھا گیا ہے. 
طویل عبارات اور تفصیلی مباحث میں نمبرنگ کا اہتمام، تاکہ مطالعہ مزید سہل اور منظم ہو سکے. 
فارسی عبارات کا اردو ترجمہ بھی شامل کیا گیا ہے، جو (۳۰ جلدوں والی) فتاویٰ رضویہ سے ماخوذ ہے. 
کتاب میں مذکور شخصیات کا مختصر تعارف بھی حواشی میں درج کیا گیا ہے، تاکہ قارئین ان کے علمی مقام اور خدمات سے واقف ہو سکیں، انہیں اپنا نمونۂ عمل بنائیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں. 
آغاز کتاب میں مصنف رحمۃ اللہ علیہ کا جامع تعارف پیش کیا گیا ہے. 
آخر میں مندرجات، مصادر و مراجع اور دیگر ضروری فہرستوں کو بھی نہایت عمدہ ترتیب کے ساتھ شامل کیا گیا ہے.
الحاصل یہ کہ مجموعہ خطبات وأسانيد وإجازات اور مجموعہ رسائل رسم افتا باب رضویات کے محققین اور ارباب افتاء کے لیے مدتوں تک مرجع و ماخذ کی حیثیت رکھے گا، اور دار الملک کے تحقیقی ذوق اور اشاعتی معیار کا روشن مظہر ثابت ہوگا.

طارق محمود رضوی 
بتاریخ: ٢٠/صفر المظفر ١٤٤٨ھ 
مطابق: ٥/اگست ٢٠٢٦ء