تعلیم وہ ہے جو انسان کے کردار کو سنوارتی ہے۔ تعلیم ہمیں صرف لکھنا پڑھنا نہیں سکھاتی، بلکہ اسے عمل میں لانے کا طریقہ بھی بتاتی ہے، اور جہالت کے اندھیرے کو ختم کر کے علم کی روشنی فراہم کرتی ہے۔
تعلیم ہمارے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ تعلیم ہی کی بدولت انسان حلال و حرام میں فرق کرتا ہے، اور اسی کے ذریعے علمائے کرام، والدین، پڑوسیوں اور بچوں کے حقوق کو پہچان کر انہیں ادا کیا جاتا ہے۔ تعلیم انسان کو ہر چیز کا ہنر اور صلاحیتیں فراہم کرتی ہے۔
ایک پڑھے لکھے اور ان پڑھ شخص میں فرق:
ایک پڑھا لکھا شخص علم کی روشنی میں صحیح اور غلط کا فرق واضح کرتا ہے، لوگوں کے حقوق کو پہچان کر انہیں بہتر طریقے اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کا ادب کرتا ہے، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی تعظیم کرتا ہے، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر کسی سے بحث و مباحثہ نہیں کرتا۔
اور ان پڑھ شخص صحیح اور غلط کو نہیں پہچانتا، اور نہ ہی وہ کسی کے حقوق کو پہچانتا ہے۔ وہ چھوٹی سی بات پر لوگوں سے بحث و مباحثہ کرنے لگتا ہے، اور نہ ہی وہ والدین اور علمائے کرام کی قدر و منزلت کو پہچانتا ہے۔ ایک پڑھے لکھے اور ان پڑھ شخص کے درمیان بہت فرق ہے۔
مرد اور عورت دونوں کے لیے تعلیم یکساں طور پر ضروری ہے، تاکہ وہ اپنے فرائض کو باخوبی انجام دے سکیں۔ انہیں حقوقِ زوجین کا صحیح علم ہو۔
ایک عورت جب علمِ دین حاصل کرتی ہے، تو وہ اپنے گھر کو بہتر طریقے سے چلاتی ہے، گھر کے ہر فرد کی ذمہ داری کو اچھے سے نبھاتی ہے، اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتی ہے، اور انہیں بہتر اخلاق عطا کرتی ہے۔ وہ ان کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اور مردوں کے لیے تعلیم، خود کفالت، اچھا اخلاق اور گھر کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے ضروری ہے، تاکہ وہ تعلیم کے ذریعے معاشی استحکام کو بہتر طریقے سے قائم رکھ سکے، اور آقائے دو عالم ﷺ کی تعلیم کو عام کر سکے، اور ان کی سنتوں کو پھیلائے، اور اپنے والدین، بیوی اور بچوں کے حقوق کو اچھے سے پہچانے اور انہیں ذمہ داری سے نبھائے۔
آقائے دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"علم کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔"
(اسلامی اخلاق و آداب: ص، 271)
*ایک اور جگہ آقائے دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:*
`مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ`
(صحیح بخاری، ص ۲۵۲)
ترجمہ: "اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو اس لیے علم طلب کرے تاکہ عالموں کا مقابلہ کرے، یا اس لیے علم حاصل کرے تاکہ جاہلوں سے جھگڑا کرے، یا اس لیے علم حاصل کرے تاکہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے، تو ان سب کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کرے گا۔"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اس علم کو، جو رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اس نیت سے حاصل کرے تاکہ اس کے ذریعے دنیا کا سامان پالے، تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔"
(جواہر الحدیث: ص، 37)
تعلیم کے انفرادی فوائد:
تعلیم انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے، اور خود کو پہچاننے کا موقع دیتی ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعے اچھے اور برے کی پہچان ہوتی ہے، اور یہ بہتر ملازمت کا ذریعہ بنتی ہے، جس سے معاشی حالات بہتر ہوتے ہیں۔ دینی تعلیم حاصل کر کے انسان اپنی زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق گزار سکتا ہے، جس سے دینی اور دنیوی زندگی دونوں بہتر ہو سکتی ہیں۔
قومی فوائد:
جب انسان تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس سے ملک ترقی کرتا ہے۔ انسان علم کے ذریعے نئی نئی چیزوں کو ایجاد کرتا ہے، جس سے باشندوں کو سہولت ملتی ہے، غربت کا خاتمہ ہوتا ہے، اور ملک میں خوشحالی آتی ہے۔ معاشرے میں امن و سکون قائم ہوتا ہے، اور جرائم میں کمی آتی ہے۔ تعلیم شہر کے باشندوں کو ان کے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے، جس سے ایک بہتر جمہوری معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
تعلیم کی کمی کے نقصانات:
تعلیم کی کمی کی وجہ سے معاشی اور ذاتی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ جہالت اور گمراہی عام ہوتی ہے، اور غلط فیصلوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، اور معاشرتی ناانصافی ہوتی ہے۔
تعلیم کی کمی صحت پر بھی برا اثر ڈالتی ہے، کیونکہ صحت کے بنیادی اصولوں سے کم آگاہی کی وجہ سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے صفائی و ستھرائی کا معاشرے میں کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا، جس سے کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم صفائی و ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔
ہمارا کردار:
ہمیں چاہیے کہ ہم محنت سے علم حاصل کریں، اور لوگوں کو بھی علم کی دعوت دیں، تاکہ ہر طرف علم کی روشنی پھیلے اور جہالت کی تاریکی کا خاتمہ ہو۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو علم کا زیور عطا کریں۔ انہیں دینی اور دنیوی دونوں تعلیم دلوائیں، تاکہ وہ اپنی دنیا و آخرت دونوں سنواریں۔
اور ہر شخص کو چاہیے کہ وہ تعلیمِ رسول ﷺ کو عام کرے، اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تعلیمِ رسول ﷺ سے جوڑے، اور دنیوی تعلیم کو بھی لوگوں تک پہنچائے، تاکہ لوگوں کی معاشی حالات بہتر ہو سکیں، اور انہیں ایک اچھی زندگی ملے۔
تعلیم سے ملک اور قوم دونوں ترقی کرتی ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ ہی معاشرے اور قوم کو کامیابی کی جانب لے جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دینی اور دنیوی دونوں تعلیم حاصل کرنے کا عزم کریں، اور ایسا علم حاصل کریں جو نسلوں تک پہنچایا جا سکے اور وہ اس علم سے فائدہ اٹھائیں۔