ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو ایک نیا انداز دے دیا ہے۔ آج بہت سے مشکل اور وقت طلب کام کم وقت میں آسانی سے انجام پا جاتے ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت نے ہماری روزمرہ زندگی میں بہت سی سہولتیں پیدا کر دی ہیں۔ اب ہم گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کی معلومات چند لمحوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی ٹیکنالوجی نے سیکھنے کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ طلبہ گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں، تعلیمی ویڈیوز سے استفادہ کر سکتے ہیں اور دنیا بھر کی کتب و تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح خریداری، بینکاری، سفر کی معلومات اور روزمرہ کے بہت سے ضروری کام بھی انٹرنیٹ کے ذریعے آسانی سے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ یوں ٹیکنالوجی نے علم کے حصول، رابطے اور عملی زندگی کے کئی معاملات کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔
طب کے شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجی نے نمایاں ترقی کی ہے۔ جدید آلات اور مشینوں کی مدد سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ کھیتی باڑی، صنعت، تجارت اور ذرائعِ مواصلات میں بھی ٹیکنالوجی نے انسان کی محنت اور وقت دونوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلاشبہ یہ انسانی زندگی کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
لیکن ہر سہولت کی طرح ٹیکنالوجی کا بھی ایک دوسرا پہلو ہے۔ اس کا بے جا استعمال انسان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال قیمتی وقت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو سستی اور غفلت کا عادی بنا سکتا ہے۔ اگر نوجوان ہر وقت موبائل کی اسکرین میں مصروف رہیں تو ان کی تعلیم، عبادت، صحت اور گھر والوں کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر موجود غیر ضروری، گمراہ کن اور غیر اخلاقی مواد انسان کے خیالات، اخلاق اور کردار پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
اس لیے اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے۔ ایک ہی موبائل فون کسی کے لیے علم حاصل کرنے، قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ کوئی دوسرا شخص اسی موبائل کو گھنٹوں بے مقصد تفریح اور وقت کے ضیاع میں استعمال کر سکتا ہے۔ فرق آلہ میں نہیں، بلکہ اسے استعمال کرنے والے کے مقصد اور طریقۂ استعمال میں ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ حقیقی ترقی صرف جدید مشینیں اور نئی سہولتیں حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے علم، صلاحیت، اخلاق اور کردار کو بہتر بنانا بھی ترقی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی ہمارے علم میں اضافہ کرے، ہماری صلاحیتوں کو نکھارے، ہمارے کام آسان بنائے اور ہمیں دوسروں کے لیے فائدہ مند بنائے تو یہ واقعی نعمت ہے۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی ہمیں غفلت، بے مقصد مشغولیت اور وقت کے ضیاع میں مبتلا کر دے تو یہی نعمت ہمارے لیے آزمائش بن سکتی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ موبائل، انٹرنیٹ اور دیگر جدید ذرائع کا استعمال ضرورت اور مقصد کے مطابق کریں۔ اپنے وقت کی قدر کریں، استعمال کی حدود مقرر کریں اور ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے کے بجائے اسے اپنی ضرورت کے تابع رکھیں۔
آخر میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ٹیکنالوجی انسان کے لیے بنائی گئی ہے، انسان ٹیکنالوجی کے لیے نہیں۔ اگر ہم اسے عقل، اعتدال اور اچھے مقصد کے ساتھ استعمال کریں تو یہ علم، ترقی اور آسانی کا ذریعہ بن سکتی ہے؛ اور اگر ہم اس کے بے جا استعمال کے عادی ہو جائیں تو یہی سہولت ہماری غفلت اور وقت کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، مگر اس کی عادت اور غلامی سے خود کو محفوظ رکھیں۔