مضامین

حدود کی حفاظت ایک اصلاحی تحریر

سلمیٰ شاہین امجدی
149
2
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور کی نعمت عطا فرمایا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠
(سورۃ الاسراء 70)
ترجمۂ کنز الایمان:
اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا۔
مگر آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں رابطے آسان ہو گئے ہیں، وہیں خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو قریب کیا ہے، وہیں بہت سی نوجوان نسلوں کو ایسے راستوں پر ڈال دیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ شیطان کا کام یہی ہے کہ وہ انسان کو آہستہ آہستہ گمراہ کرے۔ پہلے چھوٹی چھوٹی باتوں سے، پھر بڑے بڑے گناہوں تک۔
ایک لڑکی تھی عام سی، سادہ سی، خواب دیکھنے والی۔ اس کے دل میں محبت کی تڑپ تھی، زندگی سے کچھ پانے کی چاہ تھی۔ ایک دن اس کے پاس ایک پیغام آیا۔ انجان، مگر میٹھا۔
پھر باتیں ہوئیں، پھر آہستہ آہستہ ایک تعلق بن گیا۔ اس نے سوچا۔ یہ تو بس دوستی ہے، کوئی حرج نہیں۔ پھر تصویر دی، پھر نمبر، پھر باتیں بڑھتی گئیں۔ دل کو لگا شاید یہی محبت ہے۔ مگر یہ محبت نہیں تھی، یہ ایک دھوکہ تھا جو شیطان نے خوب صورت لباس پہنا کر پیش کیا تھا۔
وقت گزرتا گیا، حدود ٹوٹتی گئیں، اور وہ خود بھی سمجھ نہ سکی کہ کب وہ ایک ایسے راستے پر آگئی جہاں واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
ایک دن وہی تعلق بکھر گیا۔ نہ وعدے رہے، نہ ساتھ، نہ عزتِ نفس کا وہ سکون۔ بس رہ گئیں کچھ یادیں، کچھ پچھتاوا، اور ایک سوال
آخر غلطی کہاں ہوئی؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
(سورۃ الاسراء: ٣٢)
ترجمۂ کنز الایمان:
اور بدکاری کے پاس نہ جاؤبیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
اللہ نے صرف زنا سے نہیں روکا بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا۔ یعنی وہ تمام راستے جو اس گناہ تک پہنچاتے ہیں، وہ سب حرام ہیں۔ انجان لڑکے سے بات کرنا، تصویریں بھیجنا، تنہائی میں گفتگو کرنا۔ یہ سب وہی قدم ہیں جو انسان کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
غلطی کہاں ہوئی؟
غلطی کسی ایک قدم میں نہیں ہوتی وہ آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ
( صحیح البخاری: 7171)
شیطان کبھی ایک دم بڑا گناہ نہیں کرواتا۔ وہ پہلے چھوٹی چھوٹی غلطیاں کرواتا ہے۔ پہلے ایک پیغام، پھر ایک بات، پھر ایک تصویر۔ اور پھر آہستہ آہستہ انسان اتنی گہرائی میں چلا جاتا ہے کہ نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی عزت کی حفاظت کریں۔ اللہ تعالیٰ نے مومن عورت کی عزت کو ہیرے سے بھی قیمتی بنایا ہے۔ اپنی عزت، اپنی حدود اور اپنے دین کی حفاظت خود کرنی ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی عزت کو خود نہیں سنبھالتا تو دنیا اسے پاؤں تلے روندتی ہے۔
ہر چمک محبت نہیں
ہر چمکتی چیز محبت نہیں ہوتی، اور ہر قریب آنے والا مخلص نہیں ہوتا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ الشَّيْطَانُ ثَالِثَهُمَا
(سنن الترمذی: 2165)
ترجمہ:کوئی مرد کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو، کیوں کہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
*اللہ کی رضا سب سے پہلے*
جو رشتہ اللہ کی رضا کے بے غیر شروع ہو، وہ سکون نہیں دیتا۔ صرف آزمائش بن جاتا ہے۔ حلال راستہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو دل کو سکون اور زندگی کو برکت دیتا ہے۔
ابتدا میں روکو
برائی کو ابتدا میں ہی روکنا آسان ہوتا ہے۔ پہلا پیغام، پہلی بات، پہلا قدم۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہاں رک جاؤ تو آگے کی تمام مشکلات سے بچ جاؤ گی۔ والدین اور معاشرے کی ذمہ داری یہ ذمہ داری صرف لڑکیوں پر نہیں۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: تم میں سے ہر ایک نگہبان (ذمہ دار) ہے، اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(صحیح البخاری: 7138)
بچوں کو دین کی تعلیم دینا، ان سے کھل کر بات کرنا اور ان کی صحیح رہنمائی کرنا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب گھر میں محبت اور اعتماد کا ماحول ہوگا تو بچے باہر سے اعتماد نہیں ڈھونڈیں گے۔
توبہ کا دروازہ کھلا ہے
یہ تحریر مایوسی کا پیغام نہیں۔ بلکہ یہ ایک جاگنے کی دعوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ
(سورۃ الزمر: 53)
کہہ دو اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔
جو بھی غلطی ہو جائے، سچی توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ مگر بہتر یہی ہے کہ انسان پہلے ہی ہوشیار رہے اور اپنے آپ کو بچائے۔
یہ صرف ایک لڑکی کی نہیں۔ یہ آج کے دور کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو، اپنی بہنوں کو اور اپنے آپ کو یہ سمجھانا ہوگا کہ: اپنی عزت کی حفاظت خود کرنی ہے کیوں کہ یہ وہ دولت ہے جو ایک بار کھو جائے تو واپس نہیں آتی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حدود کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہر برے راستے سے محفوظ رکھے، اور ہمارے دلوں میں اپنی رضا کی محبت ڈال دے۔
آمین ثم آمین۔