مضامین

حسن ظن دلوں کو جوڑ دینے والی صفت

ہمشیرہ اخلاق برکاتی
24
0
عیبوں کو ڈھونڈتی ہے عیب جو کی نظر
جو خوش نظر ہیں وہ ہنر و کمال دیکھتے ہیں
میری پیاری اسلامی بہنو!
ہماری روزمرہ زندگی میں بسا اوقات کسی بہن کی کوئی بات، لہجہ، خاموشی یا کسی پیغام کا جواب نہ ملنا ہمیں ناگوار گزرتا ہے، اور ہم حقیقت جانے بغیر فوراً دل میں یہ خیال بٹھا لیتے ہیں کہ ’’شاید یہ مجھ سے ناراض ہے، جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے یا مجھے اہمیت نہیں دیتی۔‘‘ حالانکہ ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو جو ہم نے سمجھ لی۔ ممکن ہے وہ مصروف ہو، کسی پریشانی میں ہو یا اس کی کوئی مجبوری ہو۔ حقیقت جانے بغیر کسی کے بارے میں برا گمان قائم کرنا بدگمانی ہے، جبکہ اچھا پہلو اختیار کرنا حسنِ ظن ہے۔
عربی کا مشہور مقولہ ہے:
اِذَا سَاءَ فِعْلُ الْمَرْءِ سَاءَتْ ظُنُوْنُہُ
یعنی: جب کسی کے کام برے ہوجائیں تو اس کے گمان بھی برے ہوجاتے ہیں
شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
’’حسنِ ظن میں کوئی نقصان نہیں اور بدگمانی میں کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
پیار ی بہنو! ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر خاموشی بے رخی نہیں، ہر تاخیر بے اعتنائی نہیں اور ہر لغزش بدنیتی نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی مسلمان بہن کے بارے میں بلاوجہ برا گمان کرنے کے بجائے اس کے لیے اچھا عذر تلاش کرنا چاہیے۔
حسنِ ظن کا حکم
صدرالافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ گمان کی مختلف قسمیں ہیں؛ اللہ عزوجل کے ساتھ اچھا گمان رکھنا واجب، نیک مؤمن کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا مستحب، جبکہ اللہ عزوجل یا مؤمن کے ساتھ بدگمانی کرنا حرام ہے۔
(خزائن العرفان، پارہ 26، سورۃ الحجرات، تحت الآیۃ 12)
اور فرمایا:
’’حسنِ ظن کبھی واجب ہوتا ہے، جیسے اللہ عزوجل کے ساتھ اچھا گمان رکھنا، اور کبھی مستحب، جیسے کسی نیک مؤمن کے ساتھ نیک گمان کرنا۔‘‘
حدیثِ پاک میں ہے:
حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ
یعنی: حسنِ ظن اچھی عبادت میں سے ہے۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الظن، حدیث: 4993)
لہٰذا اگر کسی بہن کا فون یا پیغام کا جواب نہ آئے تو فوراً بدگمانی نہ کریں۔ اپنے دل کو سمجھائیں: ’’ہوسکتا ہے کوئی مجبوری ہو۔‘‘ کیونکہ ایک معمولی بدگمانی آگے چل کر غیبت، شکایت اور دل آزاری کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ حسنِ ظن دلوں میں محبت اور اپنائیت پیدا کرتا ہے۔
آئیے! اپنے دلوں کو بدگمانی سے پاک کریں، دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے ان کی خوبیاں دیکھیں، اور جہاں اچھا گمان رکھنے کی گنجائش ہو وہاں ہمیشہ حسنِ ظن سے کام لیں۔ 
✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی