مضامین

خواب ِ سعید

بنت اسلم برکاتی
13 اگست 2026
69
0
میں جب زمانۂ طالب علمی میں تھا تو ایک شب خواب میں حضور سیدی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت سے مشرف ہوا۔ منظر یہ تھا کہ ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہے، اسٹیج پر جلیل القدر علماء کرام جلوہ افروز ہیں اور اُن ہی کے درمیان حضور سیدی اعلیٰ حضرت بھی جلوہ فرما ہیں۔ اسی دوران آپ نے ایک صاحب کو ارشاد فرمایا: نعت شریف پڑھئے۔ وہ شخص بلند آواز سے آپ ہی کا لکھا ہوا کلام پڑھنے لگا:
سونا جنگل رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے؛
سونے والو! جاگتے رہیو۔۔۔۔۔
فوراً میری آنکھ کھل گئی اور میں خواب سے بیدار ہو گیا۔ پھر سونے کی کوشش کی تاکہ دوبارہ حضور سیدی اعلیٰ حضرت کی زیارت ہو، مگر نیند نہ آئی۔ خواب پر غور کیا تو دل نے گواہی دی کہ حضور اعلیٰ حضرت مجھے حقیقت میں یہ پیغام عطا فرما رہے تھے کہ: *”اب سونا نہیں ہے بلکہ جاگنا ہے، اور دوسروں کو بھی جگانا ہے۔”*
الحمد للہ! اُس دن سے میں خود بھی جاگ رہا ہوں اور دوسروں کو بھی جگا رہا ہوں۔
جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ لکھنؤ میں منعقد عرسِ رضوی کے موقع پر یہ بابرکت کلمات اُس ہستی نے ارشاد فرمائے جنہیں دنیا حضور محدثِ کبیر مدظلہ العالی کے لقب سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ ولی ہیں۔ تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ کے سچے اور پکے وارث ہیں، اور اُن پر حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ اور حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کا خصوصی فیضان ہمیشہ جاری و ساری ہے
آپ کی عمرِ مبارک نوّے برس سے متجاوز ہو چکی ہے، مگر آج بھی دین کی خدمت اور مخلوق کی رہنمائی حسن و خوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے شب وروز خدمتِ دین میں بسر ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ہمیشہ یہ تلقین فرماتے ہیں کہ مسلکِ اعلیٰ حضرت پر مضبوطی سے قائم رہو، کیونکہ یقیناً یہی مسلک ہماری نجات کا ضامن ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب پر حضور اعلیٰ حضرت اور حضور محدثِ کبیر کا فیضان جاری فرمائے، ہمیں تا دمِ مرگ مسلکِ اعلیٰ حضرت پر ثابت قدم رکھے، اور حضور محدثِ کبیر کو صحت و عافیت کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!