مضامین

خود ستائ اور اس کے انجام

ہمشیرہ اخلاق برکاتی
79
0
موجودہ دور میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، جہاں ہر شخص اپنی شناخت، خیالات اور سرگرمیوں کو نمایاں کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ اسی ماحول میں بعض اسلامی بہنیں دینی نسبتوں اور علمی القابات کو اپنی شناخت کا نمایاں ذریعہ بناتے ہوئے مختلف انداز کی آئی ڈیز، ڈی پیز اور نام اختیار کرتی ہیں۔ اگرچہ علمِ دین ایک عظیم شرف اور قابلِ قدر نعمت ہے، لیکن اس کے اظہار کا طریقہ، اسلوب اور نیت نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
 یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، تاکہ دینی وقار، حیا اور اخلاص کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے صحیح اور معتدل طرزِ عمل اختیار کیا جاسکے۔ 
`خود پسندی قرآن کی روشنی میں`
چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
"لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَفْرَحُوْنَ  بِمَاۤ  اَتَوْا  وَّ  یُحِبُّوْنَ  اَنْ  یُّحْمَدُوْا  بِمَا  لَمْ  یَفْعَلُوْا  فَلَا  تَحْسَبَنَّهُمْ  بِمَفَازَةٍ  مِّنَ  الْعَذَابِۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  اَلِیْمٌ"
 (سورہ آل عمران،آیت 188)
 ترجمۂ کنز الایمان: ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو ایسوں کو ہر گز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ 
یہ آیت اُن لوگوں کے لیے سخت وعید  ہے جو تعریف، شہرت اور عزت کے طلبگار رہتے ہیں۔ جب انسان یہ چاہنے لگے کہ لوگ اسے بڑا سمجھیں، اس کی بے جا تعریف کریں، ایسے القابات سے پکاریں جن کا وہ اہل نہیں، تو یہ حبِّ جاہ اور خود پسندی کی علامت ہے۔ یاد رکھئے! جو دل لوگوں کی واہ واہ کا اسیر ہوجائے، وہ اخلاص کی دولت سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ظاہری عزت کی چاہت بسا اوقات انسان کو باطنی ذلت، قلبی سختی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی تک پہنچا دیتی ہے۔
`خود پسندی حدیث کی روشنی میں` 
حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۲۴۷، الحدیث: ۶۴۹۹)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، ۲ / ۱۹۳، الحدیث: ۵۰۶۴)
حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ 
(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)
میری عزیز اسلامی بہنو! ذرا غور کریں، قرآن و حدیث میں خود پسندی، نمود و نمائش اور اپنی تعریف پسند کرنے والوں کے لیے کتنی سخت وعیدیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ پھر بھی آج بعض بہنیں اپنی ڈی پی، آئی ڈی، تحریروں اور ناموں کے ساتھ “عالمہ”، “فاضلہ” اور دیگر القابات اس انداز سے لکھتی ہیں کہ گویا لوگوں کی توجہ اور تعریف مطلوب ہو، حالانکہ علمِ دین کی اصل شان عاجزی، پردہ، حیا اور اخلاص ہے، نہ کہ اپنی بڑائی ظاہر کرنا۔
یاد رکھئے! انسان جتنا اپنے آپ کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے عزت عطا فرماتا ہے، اور جو خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ خود پسندی اور ریاکاری جیسے خطرناک امراض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
ذرا اپنے اکابرینِ دین کے اندازِ زندگی پر بھی نظر کیجئے۔ ہمارے عظیم مشائخ اور علمائے کرام، جن کے علم و فضل کا زمانہ معترف ہے، انہوں نے ہمیشہ عاجزی اور انکساری کو اختیار فرمایا، کبھی اپنی تعریف اور خود نمائی کو پسند نہ کیا۔
چنانچہ امامِ اہلِ سنت، سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، جو محدث، مفسر، مفتی، محقق اور مجددِ وقت تھے، آپ نے اپنی عظمت کے باوجود کبھی خود کو بڑا ظاہر نہ فرمایا۔ بلکہ خود فتاویٰ رضویہ شریف کے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں: 👇
“لم یخطر ببالي قط أني من العلماء، أو زمرة الفقهاء”
ترجمہ:“کبھی میرے دل میں یہ خطرہ نہ گزرا کہ میں عالم ہوں یا فقہاء کے گروہ سے ہوں۔”
(فتاویٰ رضویہ، جلد 1، صفحہ 93،مطبوعہ:رضا فاونڈیشن لاہور )
جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم علمی شخصیت نے اپنے لیے اس قدر عاجزی اختیار فرمائی، تو ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے دلوں کا محاسبہ کریں اور ہر اُس عمل سے بچیں جس میں ریا، خود نمائی اور شہرت کی طلب پائی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے وہ ہیں جو اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے بجائے اپنے نفس کی اصلاح میں لگے رہتے ہیں۔
لہٰذا علمِ دین کو عاجزی، حیا اور اخلاص کے ساتھ اختیار کیجئے اور اپنی اصل پہچان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بنانے کی فکر کیجئے، نہ کہ لوگوں کے دلوں میں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی، اخلاص اور حقیقی حیا نصیب فرمائے اور خود ستائی و ریاکاری سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

`✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی`