اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(سورہ احزاب آیت ٥٦٥٦56)
ترجمۂ کنز الایمان
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والوان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
درودِ پاک۔۔۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ روح کی راحت، زبان کی مٹھاس، دلوں کا نور اور غم زدہ دلوں کے لیے مرہم ہے۔ یہ وہ خوشبو ہے جو زندگی کے ہر لمحے کو مہکا دیتی ہے، وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔
درود شریف وہ عظیم عبادت ہے جس کا ذکر خود ربِ کائنات نے قرآنِ پاک میں فرمایا۔ سوچیں! جس عمل کو اللہ تعالیٰ خود اختیار فرمائے اور اپنے فرشتوں کو بھی اس میں شامل کرے، اُس کی عظمت کیا ہوگی؟ جب بندہ ایک مرتبہ خلوص سے درود پڑھتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں، دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے درجات بلند کر دیے جاتے ہیں۔
درودِ پاک عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے حسین اظہار ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو بندے کو اپنے آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جوڑ دیتا ہے۔ جب کوئی دل کی گہرائی سے درود پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنی محبت، اپنی وفاداری اور اپنی عقیدت کو بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کر رہا ہوتا ہے۔
کثرتِ درود دلوں کی بے چینی کو سکون میں بدل دیتی ہے، آنکھوں کو نم کر دیتی ہے اور روح کو ایک عجیب سی طمانیت عطا کرتی ہے۔ یہ انسان کو دنیا کی الجھنوں سے نکال کر محبتِ مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سمندر میں غرق کر دیتا ہے۔
اور کیا ہی خوش نصیب ہوں گے وہ لوگ، جن کے بارے میں فرمایا گیا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ قریب وہی ہوگا جو دنیا میں سب سے زیادہ درود پڑھنے والا ہوگا۔
آئیں آج ہی، ابھی سے، اپنی مصروف زندگی کے ہنگاموں میں سے چند لمحے نکالیں۔ اپنی زبان کو درودِ پاک سے تر کریں، اپنے دل کو اس نور سے منور کریں۔ کیونکہ یہی وہ عمل ہے جو ہمیں دنیا میں سکون، آخرت میں کامیابی اور اپنے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قربت عطا کرے گا۔