اللہ عزوجل کی عطا کردہ نعمتیں بے شمار، بے پایاں اور لا حد ہیں، جن کا احاطہ نہ انسانی عقل کر سکتی ہے اور نہ ہی زبان ان کا پورا حق ادا کر سکتی ہے۔ انہی انمول اور گراں قدر نعمتوں میں ایک عظیم نعمت "دوست" کی صورت میں انسان کو عطا کی گئی ہے، جو بظاہر کسی نسبی یا خونی تعلق کا محتاج نہیں ہوتا، مگر اپنے خلوص، مروّت اور بے لوث محبت کے باعث دلوں میں وہ مقام پیدا کر لیتا ہے جو اکثر قریبی ترین رشتوں کو بھی نصیب نہیں ہوتا۔
اگرچہ انسان کے بے شمار نسبی اور خاندانی رشتے ہوتے ہیں، جو فطری طور پر اس کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، مگر دوستی کا رشتہ اپنی معنویت، گہرائی اور قلبی وابستگی کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایسا پاکیزہ اور لطیف تعلق ہے جو اجنبیت کو اُلفت میں، فاصلے کو قربت میں اور بیگانگی کو اپنائیت میں بدل دیتا ہے۔ ایک سچا دوست انسان کے دکھ سکھ کا شریک، اس کے رازوں کا امین اور اس کی زندگی کا ایسا مخلص رفیق ہوتا ہے جو ہر حال میں اس کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ دوستی محض ایک تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی اور قلبی بندھن ہے جو انسان کی زندگی کو معنویت، سکون اور خوشگواری عطا کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایک مخلص دوست کی موجودگی انسان کے لیے کسی عظیم نعمت سے کم نہیں
دوست کے حقوق
حقوقِ دوستی میں یہ امر نہایت اہم ہے کہ دوست کو نیکی کی ترغیب دی جائے اور اسے برائی سے باز رکھا جائے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوست کو اعمالِ صالحہ کی جانب مائل تو کیا جاتا ہے، لیکن جب وہ کسی معصیت یا بری صحبت میں مبتلا ہو جائے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، اس گمان کے ساتھ کہ اس کی خوشی میں مداخلت مناسب نہیں۔ حالانکہ یہ طرزِ فکر قطعاً درست نہیں۔
درحقیقت، جب دوست کو کسی ناروا عمل میں مبتلا دیکھا جائے تو اخلاص و خیر خواہی کے ساتھ اسے روکنا اور راہِ راست کی طرف متوجہ کرنا عین تقاضائے دوستی ہے، کیونکہ سچی دوستی محض ساتھ نبھانے کا نام نہیں بلکہ اصلاح و رہنمائی کا فریضہ بھی ہے۔
حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اچھا ہم نشین وہ ہے کہ اسے دیکھنے سے تمہیں خدایاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔
( جامع صغیر، حرف الخاء، ص۲۴۷، الحدیث: ۴۰۶۳)
خوشی و غمی میں شریک ہونا:
حقوقِ دوستی میں یہ امر بھی شامل ہے کہ دوست کی مسرت کے ساتھ ساتھ اس کے رنج و الم اور مصیبت میں بھی اس کا ساتھ دیا جائے۔ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ مسرت کے مواقع پر تو ساتھ دیا جاتا ہے، مگر ابتلاء و آزمائش کے ایام میں دوست کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے، جو دوستی کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اگر دوست کو کسی مالی اعانت کی حاجت ہو تو حسبِ استطاعت اس کی مدد کرنا نہایت باعثِ اجر و ثواب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کے کام میں ہو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی میں ہو، اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے اللہ تعالیٰ اس کے عوض قیامت کی مصیبتوں سے ایک مصیبت اس پر سے دور فرمائے گا
[جامع الاحادیث،ص75بحوالہ:فتاوی رضویه ۶۷۶/۲]
ذکرِ خیر اور دعا کرنا:
حقوقِ دوستی میں یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ انسان اپنے دوست کا ذکر ہمیشہ اچھے الفاظ میں کرے اور اس کے لیے دل سے دعاگو رہے۔ سچی دوستی کا تقاضا یہی ہے کہ دوست کی عدم موجودگی میں بھی اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کی جائے اور اس کے لیے خیر و برکت کی دعائیں کی جائیں۔ جو شخص اپنے دوست کے لیے مخلصانہ دعا کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنی دوستی کو مضبوط اور پائیدار بناتا ہے۔
دوست کے لیے وہی پسند کرنا جو اپنے لیے پسند کرے:
حقوقِ دوستی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے دوست کے لیے بھی وہی خیر و بھلائی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے لیے عزت و توقیر، نرمی و شفقت اور حسنِ سلوک کا خواہاں ہے تو لازم ہے کہ اپنے دوست کے ساتھ بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کرے۔ اسی طرح اگر وہ تمسخر، طعن و تشنیع، بدگمانی اور دل آزاری کو اپنے لیے ناگوار سمجھتا ہے تو اپنے دوست کے حق میں بھی ان امور سے اجتناب کرے۔ درحقیقت یہی طرزِ فکر اخلاصِ دوستی، پاکیزہ معاشرت اور بلند اخلاق کی حقیقی علامت ہے۔
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :
لاَ يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِاَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ ی
عنی تم میں سے کوئی بھی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
(بخاری ، 1 / ص 14 ، حدیث : 13)
آدابِ دوستی
ہر رشتے کے اپنی جگہ کچھ آداب اور تقاضے ہوتے ہیں جن کی پابندی سے وہ رشتہ مضبوط اور خوشگوار بنتا ہے۔ اسی طرح دوستی بھی ایک اہم اور خوبصورت رشتہ ہے، جس کے کچھ مخصوص آداب ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
دوستی کے آداب یہ ہیں کہ انسان اپنے دوست کی خوبیوں کو ظاہر کرے اور اس کی خامیوں کو چھپا کر تنہائی میں اصلاح کرے، اپنے حقوق کے بجائے اس کے حقوق ادا کرنے کی فکر رکھے اور ہر حال میں اس کی خیرخواہی کرے۔ دوست کی عزت اس کے کردار کی بنیاد پر کرے، نہ کہ اس کے حالات یا مال و دولت کی وجہ سے۔
اسی طرح اختلافِ رائے کو برداشت کرے، دوست کے جذبات و نظریات کا احترام کرے اور کسی معاملے میں زبردستی کے بجائے اس کی رضا کو مقدم رکھے۔ محبت بڑھانے کے لیے کبھی کبھار تحائف کا تبادلہ بھی کرے اور مشورہ دے مگر فیصلہ اس پر نہ تھوپے۔
مزید یہ کہ دوستی اعتماد پر قائم ہوتی ہے، اس لیے بدگمانی، جاسوسی اور تکلف سے بچنا چاہیے اور سادگی و خلوص کے ساتھ تعلق نبھانا چاہیے۔ ایک اچھا دوست مشکل وقت میں ساتھ دیتا ہے، مدد کرتا ہے اور اپنے دوست کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے۔
دوست کس کو بنائیں:
انسان کو چاہیے کہ دوستی کے لیے ایسے اشخاص کا انتخاب کرے جو نیک پرہیز گار،خوش اخلاق اور باکردار ہوں۔ کیونکہ انسان اپنے دوست کے رنگ میں رنگ جاتا ہے، اس لیے نیک اور صالح افراد کی صحبت انسان کو بھلائی، دیانت اور حسنِ عمل کی طرف مائل کرتی ہے،
لہٰذا ضروری ہے کہ دوست بنانے میں ظاہری چمک دمک یا وقتی مفاد کے بجائے دین داری، اخلاقِ حسنہ اور اخلاص کو معیار بنایا جائے، تاکہ دوستی دنیا و آخرت دونوں میں نفع بخش ثابت ہو۔
چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ [زخرف،پ25،آیۃ67]
ترجمۂ کنز الایمان:
گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایمان والوں کی آپس میں محبت اور دوستی قیامت کے دن کام آئے گی
لہذا ہمیں چاہیے کہ متقی دوست کا انتخاب کریں_
چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيْلِهِ ، فَلْيَنْظُرْ اَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے ، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی کررہا ہے
[جامع الاحادیث،ص88]
اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی نفع اور ساتھ صرف متقی اور پرہیزگار لوگوں کا ہی ہوتا ہے، کیونکہ دنیا کی وقتی دوستی اکثر ختم ہو جاتی ہے، جبکہ نیک اور خدا ترس افراد کی رفاقت دنیا و آخرت دونوں میں کام آتی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ ایسے دوست اختیار کرے جو تقویٰ اور نیکی میں اس کا ساتھ دیں۔
انسان کو چاہیے کہ بری صحبت اور بدکردار لوگوں کی رفاقت سے اجتناب کرے، کیونکہ ایسا دوست انسان کو آہستہ آہستہ برائی اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
برے مصاحب سے بچ کہ تو اسی کے ساتھ پہچانا جائے گا
مزید ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
ساتھی کو ساتھی پر قیاس کرو_
[جامع الاحادیث،ص87 بحوالہ فتاوی رضویہ حصہ اول9/12]
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں نیک، مخلص اور متقی دوست عطا فرمائے اور ہمیں بھی دوسروں کے لیے بہترین دوست بننے کی توفیق عطا کرے، اور ہماری دوستیوں کو دنیا و آخرت میں باعثِ خیر و سعادت بنائے۔ آمین۔
✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی