زینب جدید ماحول میں پرورش پا کر آہستہ آہستہ دین سے دور ہوتی جا رہی تھی۔ بچپن میں وہ قرآنِ مجید پڑھنے، نماز کی پابندی کرنے اور دینی باتیں سننے کا شوق رکھتی تھی، مگر وقت کے ساتھ اس کی ترجیحات بدلنے لگیں۔ سوشل میڈیا، موبائل فون اور مختلف فضول مشغولیات نے اس کی زندگی میں ایسی جگہ بنا لی تھی کہ اسے اپنے رب کے ساتھ کمزور ہوتے تعلق کا احساس ہی نہ رہا۔
بظاہر وہ خوش رہتی تھی۔ دوستوں کے ساتھ ہنستی، باتیں کرتی اور سوشل میڈیا پر اپنی مصروفیات شیئر کرتی، لیکن دل کے اندر ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ گھنٹوں موبائل استعمال کرنے کے باوجود اسے حقیقی سکون حاصل نہیں ہوتا تھا۔ کبھی نماز قضا ہو جاتی تو اسے افسوس ضرور ہوتا، مگر وہ اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتی کہ بعد میں پابندی شروع کر دوں گی۔ یوں دن گزرتے گئے اور غفلت اس کی زندگی کا حصہ بنتی چلی گئی۔
ایک دن عصر کے وقت زینب اپنے کمرے میں بیٹھی موبائل فون استعمال کر رہی تھی۔ اچانک اسے برابر والے کمرے سے قرآنِ مجید کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔ اس کی چھوٹی بہن نہایت پُرسوز آواز میں قرآنِ مجید پڑھ رہی تھی۔ زینب نے بے اختیار موبائل ایک طرف رکھ دیا اور خاموشی سے بہن کی تلاوت سننے لگی۔
تلاوت کرتے ہوئے اس کی بہن کی زبان پر یہ آیت آئی: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورۃ الرعد: ۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
یہ آیت سنتے ہی زینب کے دل پر جیسے ایک گہری دستک ہوئی۔ اسے محسوس ہوا کہ یہ الفاظ اسی کے لیے ہیں۔ وہ کتنے عرصے سے سکون اور خوشی کو موبائل، سوشل میڈیا اور دنیاوی مشغولیات میں تلاش کر رہی تھی، مگر اس کا دل پھر بھی بے چین تھا۔ آج اسے اپنی بے سکونی کی اصل وجہ سمجھ آ گئی تھی۔
اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ اسے اپنا بچپن یاد آ گیا، جب وہ بھی شوق سے قرآنِ مجید پڑھا کرتی تھی، نماز کے لیے وقت پر اٹھتی تھی اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں اسے حقیقی سکون محسوس ہوتا تھا۔ اسے یاد آیا کہ کبھی اس کا دل گناہوں سے گھبراتا تھا، لیکن اب وہ کتنی آسانی سے غفلت کی زندگی گزارنے لگی تھی۔
زینب نے اپنے دل میں سوال کیا: آخر میں کس چیز کے پیچھے بھاگ رہی ہوں؟ کیا یہی چند لمحوں کی خوشی میری زندگی کا مقصد ہے؟ کیا سوشل میڈیا کی مصروفیات میرے دل کو وہ سکون دے سکتی ہیں جس کی مجھے تلاش ہے؟ اسے احساس ہوا کہ دنیا کی چمک دمک نے اسے اپنے رب سے دور کر دیا ہے، جبکہ چند لمحوں کی قرآن کی تلاوت نے اس کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
اسی لمحے زینب نے اپنے رب کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے سچے دل سے اپنے گزشتہ گناہوں پر ندامت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ اس نے عزم کیا کہ اب وہ اپنی زندگی کو غفلت میں نہیں گزارے گی۔ اس نے نماز کی پابندی شروع کی، قرآنِ مجید کی تلاوت کے لیے روزانہ وقت مقرر کیا اور غیر ضروری مشغولیات کو کم کرنے لگی۔
ابتدا میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پرانی عادتیں آسانی سے نہیں چھوٹتی تھیں۔ کبھی دل دوبارہ موبائل اور فضول مشغولیات کی طرف مائل ہوتا، مگر زینب اپنے اس لمحے کو یاد کرتی جب قرآن کی ایک آیت نے اس کے دل کی دنیا بدل دی تھی۔ وہ خود کو سمجھاتی کہ جس سکون کی تلاش میں وہ دنیا بھر میں بھٹکتی رہی، وہ تو اس کے رب کے ذکر میں موجود ہے۔
آہستہ آہستہ اس کی زندگی بدلنے لگی۔ جو وقت پہلے بے مقصد مشغولیات میں گزر جاتا تھا، اب قرآنِ مجید کی تلاوت، ذکر، دینی مطالعے اور مفید کاموں میں صرف ہونے لگا۔ نماز اس کے لیے بوجھ نہیں رہی بلکہ سکون کا ذریعہ بن گئی۔ اس کے دل کی بے چینی کم ہونے لگی اور چہرے پر اطمینان نمایاں ہونے لگا۔
زینب نے یہ بھی سمجھ لیا کہ انسان چاہے کتنا ہی دین سے دور کیوں نہ ہو جائے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ اگر انسان سچے دل سے اپنے رب کی طرف پلٹ آئے تو توبہ کا راستہ اس کے لیے ہمیشہ موجود ہے۔ ماضی کی غفلت اس کے لیے ایک سبق بن گئی اور اس نے اپنے حال کو بہتر بنانے کی کوشش شروع کر دی۔
اب زینب دوسروں کو بھی یہی سمجھانے لگی کہ حقیقی خوشی دنیاوی چیزوں کے حصول میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔ وہ اپنی چھوٹی بہن کی اس تلاوت کو کبھی نہیں بھولی جس نے اس کے دل کو بیدار کر دیا تھا۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ قرآنِ مجید صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ بھٹکے ہوئے انسانوں کے لیے ہدایت اور پریشان دلوں کے لیے سکون کا ذریعہ ہے۔
یوں ایک پُرسوز تلاوت اور قرآنِ مجید کی ایک آیت نے زینب کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ جو لڑکی غفلت کے راستے پر آگے بڑھ رہی تھی، وہ اب ہدایت کی راہ پر چل پڑی تھی۔ اس نے جان لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ انسان جب سچے دل سے ایک قدم اپنے رب کی طرف بڑھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔
زینب کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وقتی خوشیوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ہمیں اپنے دل کے حقیقی سکون کو تلاش کرنا چاہیے، اور وہ سکون اللہ تعالیٰ کے ذکر، قرآنِ مجید کی تلاوت اور اس کی اطاعت میں ہے۔ کیونکہ قرآنِ مجید خود اعلان کرتا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
"سن لو اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
اور یہی زینب کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بن گئی کہ راہِ غفلت سے نکل کر راہِ ہدایت پر چلنے والا دل ہی حقیقی سکون اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔
تحریر: اے۔ایس۔رضویہؔ
04/مںٔی/2026/بروز: پیر
04/مںٔی/2026/بروز: پیر