کہانی

رضائے الٰہی کے لیے جیت کی قربانی

اے۔ایس۔رضویہؔ
16 ستمبر 2026
41
1
علی اور عاصم سگے بھائی تھے۔ دونوں کے درمیان بہت گہری محبت تھی۔ علی ہمیشہ عاصم کی خوشی کا خیال رکھتا اور عاصم بھی اپنے بڑے بھائی کی عزت اور محبت میں کوئی کمی نہ کرتا۔ دونوں کے درمیان محبت کا یہ رشتہ صرف دنیاوی تعلق نہیں تھا، بلکہ علی ہمیشہ یہی چاہتا تھا کہ اس کا بھائی خوش رہے اور وہ اس کے لیے آسانی کا سبب بنے۔
ایک دن علی ایک اہم مقابلے کے آخری مرحلے میں پہنچا۔ اسے یقین تھا کہ وہ یہ مقابلہ جیت سکتا ہے، لیکن آخری مرحلے میں اس کے سامنے اس کا اپنا بھائی عاصم تھا۔
مقابلہ شروع ہوا تو علی نے محسوس کیا کہ وہ عاصم سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ وہ چاہتا تو اپنی پوری صلاحیت استعمال کرکے جیت سکتا تھا، مگر اسی لمحے اس کے دل میں خیال آیا: کیا میں اپنی جیت کے لیے اپنے بھائی کو شکست دوں، یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہش کو قربان کر دوں؟
علی نے اپنی خواہش کو پیچھے کر دیا اور عاصم کو جیتنے کا موقع دے دیا۔
مقابلے کے بعد استاد عبدالرحمن نے علی سے پوچھا: بیٹا تم جیت سکتے تھے، پھر تم نے ایسا کیوں کیا؟
علی نے ادب سے جواب دیا: استاد محترم میں جیتنے کی صلاحیت رکھتا تھا، لیکن میں نے اپنی خواہش کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر ترجیح نہیں دی۔ میں نے اپنے بھائی کی خوشی کے لیے اپنی جیت چھوڑ دی اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس ایثار کو قبول فرمائے گا۔
استاد عبدالرحمن نے کہا: بیٹا یاد رکھو، اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہش قربان کرنا کبھی حقیقی خسارہ نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش پر اللہ کی رضا کو ترجیح دے۔
کبھی کبھی انسان میدان میں جیتنے کے باوجود ہار جاتا ہے، اور کبھی اپنی جیت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرکے ایسی کامیابی حاصل کر لیتا ہے جس کا اجر دنیا نہیں، بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ عطا فرماتا ہے۔
۱۶/ستمبر/۲۰۲۶، بروز: بدھ