اسی بستی کی ایک قدیم مگر پُرسکون عمارت میں چند لوگ خاموشی سے اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ کسی کے ہاتھ میں قلم تھا، کوئی صفحات ترتیب دے رہا تھا، کوئی موصول ہونے والی تحریروں کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔
نہ وہاں شہرت کی خواہش تھی، نہ دولت کی دوڑ، نہ نام و نمود کی فکر؛ صرف ایک جذبہ تھا کہ سچ لکھا جائے، قوم کو جوڑا جائے، اور علم کی شمع روشن رکھی جائے۔
عائشہ نامی ایک نوجوان قلم کار پہلی مرتبہ اس ادارے میں حاضر ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں چند صفحات تھے، مگر دل میں بے شمار اندیشے۔ راستے بھر وہ یہی سوچتی آئی تھی کہ شاید اس کی معمولی سی تحریر کسی قابل نہ سمجھی جائے، شاید یہاں بیٹھے تجربہ کار لوگ اسے واپس بھیج دیں۔
دروازے پر پہنچ کر اس کے قدم دو بار رکے، مگر پھر ہمت کر کے وہ اندر داخل ہوئی۔ اس نے جھجکتے ہوئے اپنے اوراق پیش کیے اور خاموشی سے ایک گوشے میں بیٹھ گئی، نظریں فرش پر جمائے۔
چند لمحوں بعد ایک بزرگ، جنہیں سب مولانا صاحب کہہ کر پکارتے تھے، انہوں نے
نے مسکراتے ہوئے اس کی تحریر اٹھائی۔ عینک درست کی، پوری توجہ سے ہر سطر پڑھی، پھر شفقت بھرے لہجے میں فرمایا:
بیٹا، الفاظ میں خامیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اگر نیت خالص ہو تو قلم خود راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔
عائشہ نے سر اٹھا کر دیکھا، آنکھوں میں حیرت اور راحت ملی جلی تھی۔ یہ ایک جملہ اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔
سیکھنے کا سفر
اس دن کے بعد عائشہ صرف لکھنے والی نہیں رہی بلکہ سیکھنے والی بھی بن گئی۔ وہ ہر ہفتے نئی تحریر لکھتی، مولانا صاحب اور دیگر سینئر ارکان سے اصلاح کرواتی، ان کی نگارشات پڑھتی، اپنی غلطیوں سے سبق لیتی۔ کبھی کوئی جملہ رد ہوتا تو دل میں تھوڑی دیر کے لیے مایوسی جھلکتی، مگر اگلے ہی لمحے وہی جملہ یاد آ جاتا نیت خالص ہو تو قلم خود راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔آہستہ آہستہ اس کا قلم پختہ ہوتا چلا گیا۔
وہ ادارہ بھی عجیب تھا۔ وہاں نئے لکھنے والوں کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ ان کی ہمت بندھائی جاتی، ان کی اصلاح کی جاتی، اور انہیں یہ احساس دلایا جاتا کہ علم کا سفر مقابلے سے نہیں بلکہ اخلاص سے طے ہوتا ہے۔
ایک دن عائشہ نے مولانا صاحب سے پوچھا: یہاں اتنے بڑے بڑے قلم کار آتے ہیں، پھر بھی ہم جیسے نوآموزوں کو اتنی توجہ کیوں دی جاتی ہے؟
مولانا صاحب مسکرائے: کیوں کہ کل کا بڑا قلم کار بھی کبھی ایسا ہی نووارد تھا جیسے آج تم ہو۔
اگر ہم نے اسے اس وقت نہ تھاما ہوتا تو شاید وہ قلم آج خاموش ہوتا۔
وقت گزرتا گیا۔ ہر ہفتہ ایک نیا شمارہ شائع ہوتا، ہر شمارے کے ساتھ کسی نئے قلم کو اعتماد ملتا، کسی نوجوان کو حوصلہ ملتا اور کسی قاری کو فکر کی نئی جہت ملتی۔ اس ادارے نے صرف خبریں شائع نہیں کیں بلکہ علم، ادب، تحقیق، اصلاحِ معاشرہ، دینی شعور اور ملی فکر کو بھی اپنے صفحات میں جگہ دی۔
دریا میں ملتے چشمے
سرحدیں اگرچہ ملکوں کو الگ کرتی ہیں، مگر قلم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف شہروں، مختلف ملکوں اور مختلف طبقوں سے اہلِ قلم اپنی تحریریں بھیجنے لگے۔ کوئی عالمِ دین تھا، کوئی استاد، کوئی محقق، کوئی صحافی اور کوئی طالبِ علم؛ لیکن جب سب کی تحریریں ایک جگہ جمع ہوتیں تو یوں محسوس ہوتا جیسے مختلف سمتوں سے بہنے والے چشمے ایک ہی دریا میں آ ملے ہوں۔
اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہاں نام سے زیادہ کام کو اہمیت دی جاتی تھی۔ اگر کوئی معروف قلم کار لکھتا تو اس کی قدر ہوتی، اور اگر کوئی نوآموز لکھنے والا خلوص کے ساتھ قلم اٹھاتا تو اس کے ہاتھ بھی تھام لیے جاتے۔
عائشہ نے خود یہ منظر کئی بار دیکھا ایک دور دراز گاؤں سے آئی طالبہ کی تحریر کو اتنی ہی عزت ملتی جتنی کسی شہرت یافتہ عالم کے مضمون کو۔
یہی انصاف اس علمی ادارے کا اصل سرمایہ تھا۔
سنگِ میل
ایک دن ادارے میں غیر معمولی خوشی کا ماحول تھا۔ مسلسل محنت کے بعد وہ ایک اہم سنگِ میل تک پہنچ چکے تھے۔ ہر شخص کے چہرے پر اطمینان تھا، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی کے لہجے میں غرور نہ تھا۔ سب کی زبان پر صرف ایک جملہ تھا:یہ ہماری محنت سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
اسی موقع پر ان اہلِ قلم کو بھی یاد کیا گیا جنہوں نے مسلسل لکھ کر اس سفر کو مضبوط بنایا تھا۔ ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا، انہیں عزت دی گئی، اور یہ پیغام دیا گیا کہ قلم کی قدر کرنے والی قوم ہی فکری طور پر زندہ رہتی ہے۔
عائشہ، جو کبھی لرزتے ہاتھوں سے اپنی پہلی تحریر لے کر آئی تھی، خاموشی سے ایک طرف کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خوشی بھی تھی اور شکر کے آنسو بھی۔ اسے احساس ہوا کہ اصل کامیابی شہرت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسان کا قلم کسی کے دل میں امید جگا دے، کسی کو علم کی طرف راغب کر دے اور کسی کے ایمان کو تازگی بخش دے۔
شام ڈھلنے لگی۔ کھڑکی سے باہر پہاڑوں پر سنہری روشنی پھیل رہی تھی۔ عائشہ نے اپنی ڈائری بند کی اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں دعا کی:
اے اللہ! میرے قلم کو کبھی غرور کا شکار نہ ہونے دینا۔ اسے ہمیشہ حق لکھنے، خیر پھیلانے اور تیری رضا کے لیے استعمال ہونے کی توفیق عطا فرما۔
ہوا کا ایک نرم جھونکا آیا، میز پر رکھا قلم ہلکا سا حرکت میں آیا، اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ خاموش قلم بھی یہی کہہ رہا ہو:
قلم کی اصل طاقت لفظوں میں نہیں، بلکہ اخلاص میں ہوتی ہے۔