انسان کی زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بے مثال نعمت ہے۔ یہ صرف سانس لینے، کھانے پینے، دولت جمع کرنے یا دنیاوی آسائشیں حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک عظیم مقصد، بلند کردار اور نیک اعمال کے ساتھ اپنے خالق کی رضا حاصل کرنے کا سفر ہے۔ جو شخص زندگی کے اصل مقصد کو سمجھ لیتا ہے، وہ ہر حال میں مطمئن رہتا ہے، جبکہ مقصد سے غافل انسان بے شمار نعمتوں کے باوجود سکون سے محروم رہتا ہے۔
زندگی کا اصل معنی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اس کی عبادت کرے، اس کے احکامات پر عمل کرے اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں فرمایا، بلکہ اسے عقل، شعور اور اختیار عطا کیا تاکہ وہ حق و باطل میں تمیز کر کے نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے، جہاں ہر انسان کے اعمال کا حساب رکھا جا رہا ہے، اور اسی کے مطابق آخرت میں جزا یا سزا دی جائے گی۔
زندگی کی حقیقت کو سمجھنے والا شخص جانتا ہے کہ مال و دولت، شہرت، عہدہ اور طاقت سب عارضی ہیں۔ اصل کامیابی وہ ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات عطا کرے۔ اگر انسان صرف دنیاوی خواہشات کے پیچھے بھاگتا رہے اور اپنے خالق کو بھول جائے تو وہ بظاہر کامیاب ہونے کے باوجود حقیقت میں ناکام ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے، وہ تھوڑی سی دنیاوی آسائش کے باوجود دل کا سکون حاصل کر لیتا ہے۔
زندگی کا حسن صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے میں بھی ہے۔ والدین کی خدمت، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، یتیموں اور محتاجوں کی مدد، سچائی، امانت داری، انصاف، صبر، شکر اور اخلاقِ حسنہ وہ خوبیاں ہیں جو زندگی کو حقیقی معنوں میں کامیاب بناتی ہیں۔ ایک اچھا انسان وہی ہے جس کے کردار سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اور جس کی زبان اور عمل سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔
مشکلات اور آزمائشیں بھی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہر انسان کو کبھی نہ کبھی دکھ، پریشانی، بیماری یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر یہی آزمائشیں انسان کے صبر، ایمان اور حوصلے کا امتحان ہوتی ہیں۔ جو شخص ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھتا ہے، صبر کرتا ہے اور امید کا دامن نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے۔ اس لیے مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کرنا ہی زندگی کی دانش مندی ہے۔
زندگی کا ایک اہم پہلو علم بھی ہے۔ علم انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور کی روشنی عطا کرتا ہے۔ علم کے ساتھ اگر اچھا کردار اور اعلیٰ اخلاق شامل ہو جائیں تو انسان معاشرے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح وقت کی قدر کرنا بھی زندگی کی کامیابی کا بنیادی اصول ہے، کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک سفر ہے، منزل نہیں۔ اس سفر میں ہر قدم انسان کو اپنی آخرت کے قریب لے جا رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر لمحہ نیک اعمال، اچھے اخلاق اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزارا جائے۔ دنیا کی چمک دمک چند روزہ ہے، مگر آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ عقل مند وہی ہے جو عارضی زندگی کے بجائے دائمی کامیابی کی فکر کرے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ زندگی کا اصل معنی اللہ تعالیٰ کی بندگی، انسانیت کی خدمت، اچھے اخلاق، علم، صبر، شکر اور نیک اعمال کے ذریعے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنا ہے۔ جو شخص ان اصولوں کو اپنا لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں کامیاب، خوش نصیب اور باوقار انسان ہے۔ ایسی زندگی نہ صرف اپنے لیے باعثِ سکون بنتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خیر، محبت اور روشنی کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
ازقلم : سید عرفان رضا القادری