مضامین

زوال امت اور ہماری غفلت

سلمیٰ شاہین امجدی
110
0
ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ظاہری ترقی کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے، مگر باطن اندھیروں میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ ہماری نسلیں، جو کل کا مستقبل ہیں، آج ایسے طوفانوں میں گھری ہوئی ہیں جن کا ہمیں شاید صحیح اندازہ بھی نہیں۔ موبائل، سوشل میڈیا اور ایک ایسا تعلیمی نظام جو روح سے خالی ہے۔ یہ سب مل کر آہستہ آہستہ ہمارے بچوں کے دلوں سے ایمان کی روشنی چھین رہے ہیں، اور افسوس کہ ہم اس سب کو معمول سمجھ کر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
یہ کوئی معمولی خطرہ نہیں، بلکہ ایک خاموش زوال ہے۔ جب بچہ اپنے رب کو پہچانے بے غیر دنیا کی چکاچوند میں قدم رکھتا ہے تو وہ علم حاصل تو کر لیتا ہے، مگر مقصدِ حیات کھو دیتا ہے۔ اسی درد کو محسوس کرتے ہوئے میں ایک جملہ کہتی ہوں اور یہ ایک میری درد بھری پکار ہے۔"ابھی سنبھلو، ورنہ پچھتاؤ گے" یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک بیداری کی صدا ہے، ایک ایسی تنبیہ جو دلوں کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا حل بھی ہمیں بتایا گیا ہے، اور وہ حل نہایت سادہ مگر مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ سب سے پہلے ہر مسجد میں مکتب کا قیام تاکہ بچوں کی پہلی پہچان دنیا نہیں بلکہ اللہ ہو۔ جب دل میں ابتدا ہی سے ایمان کی جڑیں مضبوط ہوں گی تو زمانے کے طوفان بھی اسے ہلا نہیں سکیں گے۔ اسی طرح ایسے اسلامی اسکولوں کی ضرورت ہے جہاں جدید تعلیم کے ساتھ ایمان کی حفاظت بھی ہو، جس سے صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار ہی اصل کامیابی کی بنیاد ہے۔
آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ بھی ہے کہ ہماری بچیاں، جو کل کی مائیں ہیں، دین سے جڑی رہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کے ماحول میں وہ کئی فکری آزمائشوں سے گزرتی ہیں، ایسے میں ان کے لیے رہنمائی اور کونسلنگ سینٹرز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ علم کے ساتھ ایمان کی حفاظت بھی کر سکیں۔
مساجد کو بھی صرف عبادت گاہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں علم و ہدایت کا مرکز بنایا جائے، جہاں درسِ قرآن کے ذریعے لوگوں کو موجودہ فتنوں کا جواب دیا جائے۔ قرآن وہ نور ہے جو ہر دور کے اندھیروں کو چیر سکتا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس نور کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں۔
معاشرتی سطح پر بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اگر ہمارے محلے میں کوئی غریب صرف مجبوری کی وجہ سے اپنے ایمان پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جائے تو یہ ہم سب کی ناکامی ہے۔ اس لیے بیت المال جیسے نظام کو زندہ کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی شخص صرف دنیاوی تنگی کی وجہ سے دین سے دور نہ ہو۔ اسی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، کیوں کہ اسلام صرف باتوں سے نہیں بلکہ کردار سے پھیلتا ہے۔
لیکن ان سب سے بڑھ کر ایک چیز ہے۔ اور وہ ہے بیداری۔ غفلت کا پردہ چاک کرنا ہوگا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا وہ منظر یاد کیجیے جب وہ آخری وقت میں بھی اپنی اولاد کے ایمان کی فکر کر رہے تھے۔ یہ ایک پیغام ہے۔ کہ ایک سچے مؤمن کی سب سے بڑی فکر اس کی نسل کا ایمان ہوتا ہے۔
آج ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا۔ کیا ہم بھی اپنی اولاد کے ایمان کے لیے اتنے ہی فکرمند ہیں؟ یا ہم نے دنیا کی دوڑ میں اس سب کو پسِ پشت ڈال دیا ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انتظار چھوڑ دیں۔ تبدیلی کسی اور سے نہیں، ہم سے شروع ہوگی۔ اپنے گھر سے، اپنی اولاد سے، اپنی مسجد سے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا تو کل پچھتاوا بھی ہمارے کسی کام نہ آئے گا۔
یاد رکھیں! وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور ہر گزرتا لمحہ ہمیں یا تو اپنے رب کے قریب کر رہا ہے، یا اس سے دور۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو روشنی دیں یا اندھیروں کے حوالے کر دیں۔