سوال1: زکوٰۃ کی شرعی تعریف کیا ہے؟
جواب: زکاۃ شریعت میں ﷲ ربّ العزت کے لیے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے، مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے، اور اپنا نفع اُس سے بالکل جدا کر لینا۔ ( بہار شریعت: ص، 880)
سوال2: زکوٰۃ کا حکم کیا ہے؟
زکوٰۃ کا حکم فرض ہے۔
( بہار شریعت: ص،أیضا)
سوال3: زکوٰۃ نہ دینے والے کا کیا حکم ہے؟
جواب: زکوٰۃ نہ دینے والے شخص کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسق اور قتل کا مستحق و مردود الشہادۃ ہے۔( بہار شریعت: ص، أیضا)
سوال4: کیا غلام پر زکوٰۃ واجب ہے؟
جواب: غلام پر زکاۃ واجب نہیں ، اگرچہ ماذون ہو یا مکاتب یا ام ولد یا مُستسعٰی ہو۔
( بہار شریعت: ص، 882)
سوال5: غشی طاری ہونے والے پر زکاۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب: غشی طاری ہونے والے پر زکاۃ واجب ہے، اگرچہ غشی سال بھر رہے۔
( بہار شریعت: ص، أیضا)
سوال6: اگر کوئی مسلمان معاذ اللہ مرتد ہوجائے تو گزشتہ زکاۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر کوئی مسلمان معاذ اللہ مرتد ہوجائے تو زمانۂ اسلام کی وہ زکاۃ جو ادا نہیں کی تھی، وہ ساقط ہو گئ۔
( بہار شریعت: ص، 881)
سوال7: کیا فقیر کو زکاۃ کی نیت سے کھانا کھلانے سے زکاۃ ادا ہوجاتی ہے؟
جواب: جی نہیں، زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، کیوں کہ اس میں مالک بنانا نہیں پایا گیا۔
( بہار شریعت: ص، 880)
سوال8: زکاۃ واجب ہونے کی پہلی شرط کیا ہے؟
جواب: زکاۃ واجب ہونے کی پہلی شرط مسلمان ہونا۔
( بہار شریعت: ص، 881)
سوال9: حاجتِ اصلیہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: جس چیز کی زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہو۔
( بہار شریعت: ص، 886)
سوال10: کیا حاجتِ اصلیہ میں شامل چیزوں پر زکاۃ واجب ہے؟
جواب: جی نہیں، حاجتِ اصلیہ میں شامل چیزوں پر زکاۃ واجب نہیں ہے۔
( بہار شریعت: ص، أیضا)