رسول کریم( ﷺ ) کی مکی زندگی
نسب نامہ:
پیارے آقا ﷺ کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے:
حضرت محمد (ﷺ) بن عبداللہ، بن عبد المطلب، بن ھاشم، بن عبد مناف، بن قصی، بن کلاب، بن مرہ، بن کعب، بن لوی، بن غالب، بن فہر، بن مالک، بن نضر، بن کنانہ، بن خزیمہ، بن مدرکہ، بن الیاس، بن مضر، بن نزار، بن معد، بن عدنان۔
والدہ ماجدہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کا نسب شریف:
حضرت محمد (ﷺ) بن آمنہ، بنت وہب، بن عبد مناف، بن زہرہ، بن کلاب، بن مرہ۔
رسول کائنات ﷺ کے والدین کا نسب مبارکہ "کلاب بن مرہ" پر جاکر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں ایک ہوجاتے ہیں۔ اور "عدنان" تک آپ ﷺ کا نسبِ مبارکہ صحیح سندوں کے ساتھ ثابت ہے، اور جب بھی آپ ﷺ اپنا نسب شریف بیان فرماتے تو "عدنان" تک ہی ذکر فرماتے تھے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۴۹/ ۵۰)
ولادتِ مبارکہ:
پیارے آقا ﷺ کی تاریخِ ولادت میں اختلاف ہے۔ لیکن جمہور اہل سیر اور ارباب تواریخ کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول کریم (ﷺ) کی ولادتِ باسعادت "عام الفیل" کے چالیس یا پچپن دن بعد ہوئی ہے۔ بعض بارہ ربیع الاول شریف کو کہتے ہیں، اور بعض دو ربیع الاول، اور بعض آٹھ ربیع الاول شریف کی رات گزرنے کے بعد کہتے ہیں۔ لیکن مشہور یہی ہے کہ آپ (ﷺ) کی ولادتِ مبارکہ بارہ ربیع الاول شریف روز دو شنبہ کو ہوئی۔ اور اسی پر اہل مکہ کا عمل ہے کہ ولادتِ مبارکہ کے مقام کی زیارت اُسی رات کرتے ہیں اور میلاد شریف پڑھتے ہیں۔
(مدارج النبوۃ: جلد ۲، ص۳۰)
تاریخ عالم میں یہ وہ مبارک اور عظمت والا دن ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ کہ اسی روز عالم وجود کا باعث، بشارتِ حضرت (عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام)ابن مریم کا ظہور، کائنات کے بگڑتے ہوئے نظام کو سدھارنے والا، بیواؤں اور بیٹیوں کو دوبارہ زندگی دینے والا، بے سہاروں کا سہارا، یتیموں کا ماویٰ یعنی سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ عالم وجود میں جلوہ گر ہوئے۔
پاکیزہ بدن خوشبو میں بسے ہوئے، ناف بریدہ، ختنہ کیے ہوئے، اور زبانِ مبارک پر "رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِی" کی صدا لیے ہوئے بحالت سجدہ، مکہ کی سر زمین پر حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے گھر پیدا ہوئے۔
اسمِ مبارک:
آپ (ﷺ) کی پیدائش کے بعد آپ (ﷺ) کے دادا جان حضرت عبد المطلب (رضی اللہ عنہ) آپ (ﷺ) کو کعبہ شریف میں لے جا کر خیر و برکت کی دعا مانگی اور آپ (ﷺ) کا اسمِ گرامی "محمد" رکھا۔
(سیرتِ مصطفیٰ (ﷺ): ص ۷۱)
حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ میں شبِ ولادت کعبہ شریف کے پاس تھا۔ جب آدھی رات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ کعبہ شریف مقام ابراہیم کی طرف جھکا اور سجدہ کیا ہوا ہے، اور اس سے تکبیر کی آوازیں آ رہی ہیں، اور غیب سے ندا آئی رب کعبہ کی قسم کعبہ کو برگزیدکی ملی۔ خبردار ہو جاؤ کعبہ کو ان کا قبلہ، اور ان کا مسکن ٹھہرایا۔ اور وہ بت جو نصب تھے سب ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور سب سے بڑا بت منہ کے بل گر پڑا۔ غیب سے ندا آئی کہ سیدہ آمنہ سے محمد مصطفی ﷺ پیدا ہوگئے، اور ابر رحمت ان پر اتر آیا ہے۔
(مدارج النبوۃ: جلد ۲، ص۳۳)
میلادِ پاک کی برکت سے ثویبہ کی آزادی:
جب آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی تو ابو لہب کی لونڈی "ثویبہ" ابو لہب کو حضور ﷺ کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی تو اس نے خوشی میں اپنی شہادت کی انگلی کے اشارہ سے"ثویبہ" کو آزاد کر دیا۔ جس کا اسے یہ ثمرہ ملا کہ جب اس کا انتقال ہوا، تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اسے خواب میں دیکھا، اور پوچھا کیا حال ہے؟ تو اس نے بتایا کہ بھتیجا پیدا ہونے کی خوشی میں جس انگلی سے "ثویبہ" کو آزاد کیا تھا۔ اس انگلی کے ذریعہ کچھ پانی میسر ہوجاتا ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۷۱)
دودھ پینے کا زمانہ:
پیارے آقا (ﷺ) نے سب سے پہلے ابو لہب کی لونڈی "حضرت ثویبہ" (رضی اللہ عنہا) کا دودھ نوش فرمایا پھر اپنی کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب (رضی اللہ عنہا) کے دودھ سے سیراب ہوتے رہے، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) آپ کو اپنے ساتھ اپنے قبیلے لی گئیں اور آپ (ﷺ) کے دودھ پینے کا زمانہ حضرت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) کے قبیلے ہی میں گزرا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۷۳)
حضور ﷺ شکم مادر میں تھے کہ والد صاحب کا انتقال ہوگیا:
پیارے آقا ﷺ ابھی شکم مادر ہی میں تھے۔ کہ آپ ﷺ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ تجارت کی غرض سے ملک شام تشریف لے گئے۔ واپسی پر مدینہ منورہ ٹھہرے اور وہیں پر بیمار ہوگئے، اور پچیس سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
مشہور قول کے مطابق حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ دارِ نابغہ میں مدفون ہوئے، اور ایک قول کے مطابق مقام ابواء میں دفن ہوئے۔
(انوار البیان: ج۱، ص۴۲۹)
آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ اور دادا جان کی وفات:
رسول اللہ ﷺ کی عمر شریف جب سات برس کی ہوئی تو آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ آپ ﷺ کو لےکر آپ کے دادا کے نانھیال مدینہ منورہ گئیں یا آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لیے گئیں، اور اس سفر میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی باندی امِ ایمن رضی اللہ عنہ بھی تھیں۔ واپسی پر "ابواء" نامی گاؤں میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں اور وہیں مدفون ہوئیں۔
آپ ﷺ کے والد ماجد کا سایہ آپ ﷺ کے سر سے پہلے ہی اٹھ گیا تھا۔ اور اب والدہ ماجدہ کی آغوشِ شفقت کا خاتمہ ہوگیا۔
اس کے بعد آپ ﷺ اپنے دادا جان حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے آغوشِ تربیت میں رہیں، اور جب آپ ﷺ کی عمر شریف آٹھ برس کی ہوئی تو آپ ﷺ کے دادا جان کا بھی وصال ہوگیا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۸۱/ ٨٢)
اُمِّی لقب:
رسول کائنات ﷺ کا لقب "اُمِّی" ہے اس لفظ کے دو معنی ہیں یا تو یہ "ام القریٰ" کی طرف نسبت ہے۔ "ام القریٰ" مکہ شریف کا لقب ہے۔ لہذا "امی" کے معنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہوئے۔ یا "امی" کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے دنیا میں کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ یہ رسول عربی ﷺ کے "معجزوں" میں سے ایک بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے۔ کہ دنیا میں کسی نے بھی آپ کو لکھایا پڑھایا نہیں۔ مگر اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو اس قدر علم عطا فرمایا کہ آپ ﷺ کا سینہ اولین و آخرین کے علوم و معارف کا خزینہ بن گیا۔ اور آپ پر ایسی کتاب نازل ہوئی جس کی شان {تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ} ہر ہر چیز کا روشن بیان ہے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۸۴)
حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی تجارت کے لیے آپ (ﷺ) کا سفر مبارک:
رسول اکرم (ﷺ) اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارت کے لیے ملک شام اور یمن وغیرہ کا سفر کرچکے تھے۔ پھر رسول معظم ﷺ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے لیے تجارت کی خاطر ان کے غلام میسرہ کو ساتھ لے کر بصریٰ کے بازار میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی۔ آپ ﷺ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے، تو نسطورا راہب نے کہا کہ اس درخت کے نیچے نبی کے علاوہ کوئی نہیں اترا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا غلام میسرہ نے دیکھا کہ دو فرشتے آپ ﷺ پر سایہ کیے ہیں، اور جب آپ ﷺ مکہ مکرمہ پہونچے تو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اپنے بالا خانے پر بیٹھ کر قافلے کی آمد کا انتظار کر رہی تھیں تو انہوں نے بھی دیکھا کہ دو فرشتے آپ ﷺ کے سر مبارک پر دھوپ سے سایہ کیے ہوئے ہیں۔
(المواہب اللدنیه: ص۱۲۳)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح:
اس واقعہ کے دو ماہ چند روز بعد آپ ﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوگیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس وقت آپ ﷺ کی عمر شریف اکیس سال اور ایک قول کے مطابق تیس سال تھی۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا دور جاہلیت میں "طاہرہ" کے نام مشہور تھیں۔ اور اس سے قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا دو نکاح ہوچکا تھا جن سے کچھ اولاد بھی ہوئے۔ اور جب حضور ﷺ سے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا تو اس وقت حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی، اور آپ نے خود رسول اللہ ﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضور ﷺ نے اس رشتے کو اپنے چچاؤں کے سامنے پیش کیا۔ ان میں سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ گئے، اور خویلد سے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا۔
آپ کے مبارک نکاح میں آپ کے چچا اور دوسرے معزز سردارانوں نے شرکت کی اور سب کی موجودگی میں آپ ﷺ کے چچا ابوطالب نے آپ ﷺ کے نکاح کا خطبہ پڑھا۔ حق مہر میں بیس جوان اونٹ مقرر ہوئے، اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ ﷺ سے نکاح کر دیا گیا۔
(المواہب اللدنیه: ص۱۲۳)
ابتدائے وحی کی حدیث:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر وحی کی ابتداء نیند کی حالت میں سچے خوابوں کے ذریعہ ہوا۔ آپ ﷺ جو خواب دیکھتے وہ صبح کے نور کی طرح روشن ہوتا اور آپ غارِ حرا تشریف لے جاتے اور کئی کئی راتیں وہاں رہ کر عبادت کرتے، اور ساتھ میں کچھ کھانے پینے کا سامان لے جاتے ، اور جب سامان ختم ہو جاتا تو واپس آتے اور مزید سامان لے جاتے، حتی کہ اچانک ایک دن آیا اور آپ ﷺ غار حرا میں تشریف فرما تھے۔
ایک فرشتہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا "اقرأ" (پڑھیے) آپ ﷺ نے کہا میں پڑھنے والا نہیں ہوں، تو اس نے مجھے پکڑ کر بھینجا حتی کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا، اور کہا پڑھیے۔ میں نے کہا میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس نے پھر مجھے پکڑا اور بھینجا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی۔ پھر چھوڑا اور کہا پڑھیے میں نے کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اور اس نے پھر مجھے پکڑا اور تیسری مرتبہ بھینجا اور پھر چھوڑا اور کہا:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ (1)خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ( 2) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙا (3) لَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ (4)عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْﭤ(5)*
(سورہ علق)
ترجمۂ کنز الایمان:
پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔ آدمی کو سکھایا؛ جو نہ جانتا تھا ۔
اس کے بعد آپ ﷺ گھر تشریف لائے، اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "مجھے چادر اوڑھاؤ، مجھے چادر اوڑھاؤ" حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو چادر اوڑھایا اور آپ کا خوف زائل ہو گیا تو فرمایا: اے خدیجہ! (رضی اللہ عنہا) مجھے کیا ہوگیا تھا؟ پھر خود ہی فرمایا: مجھے اپنی جان کا خوف پیدا ہوگیا تھا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ہرگز نہیں اللہ کی قسم! اللہ رب العزت آپ کو کبھی رسوا نہیں کرےگا کیوں کہ آپ حق بات کہتے ہیں، لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں، اور امور حق پر ان کی مدد کرتے ہیں
پھرحضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے چچازاد بھائی تھے۔ یہ وہ شخص تھے جو دورِ جاہلیت میں عیسائی رہے اور وہ کتاب کو عبرانی زبان میں لکھتے تھے۔ یہ بہت بوڑھے ہوچکے تھے، اور بینائی بھی چلی گئی تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا وہ ورقہ بن نوفل کو بتایا۔ ورقہ بن نوفل نے کہا: کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اترا، کاش! میں اس وقت زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر سے نکال دے گی۔ اس پر آپ ﷺ نے پوچھا کیا وہ مجھے نکالیں گے؟ ورقہ بن نوفل نے کہا ہاں جو بھی شخص نبوت لے کر آیا جو آپ لے کر آئے ہیں لوگوں نے ان سے دشمنی کی۔ اگر مجھے وہ دن حاصل ہوا تو میں آپ کی مدد کروں گا۔
(المواہب اللدنیه: ص۱٢٦/ ١٢٧)
لیکن اس کے بعد زیادہ دن نہیں گزرا کہ ورقہ بن نوفل کا انتقال ہوگیا۔ اور وحی کا سلسلہ بھی رک گیا حتی کہ آپ ﷺ غمگین ہوگئے، اور بے قرار رہنے لگے۔ یہاں کہ ایک دن آپ ﷺ باہر تشریف لے جا رہے تھے کہ کسی نے کہا "یا محمد" ﷺ آپ ﷺ نے سر اقدس آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ یعنی (حضرت جبرائیل علیہ السلام) جو غار حرا میں آتے تھے آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ ﷺ کے قلب مبارک میں خوف کی کیفیت پیدا ہوگئ، اور آپ ﷺ مکان پر آکر لیٹ گئے اور کہا: "مجھے کمبل اوڑھاؤ! مجھے کمبل اوڑھاؤ" چنانچہ آپ ﷺ کو کمبل اوڑھایا گیا کہ ناں گہاں آپ ﷺ پر "سورہ مدثر" کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ (1)قُمْ فَاَنْذِرْﭪ (2) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْﭪ (3)وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْﭪ (4)وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ (5)
(المدثر)
ترجمۂ کنز الایمان: اے بالا پوش اوڑھنے والے ۔کھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ۔اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو۔
ان آیات کے نزول کے بعد آپ ﷺ کو اللہ رب العزت نے دعوتِ اسلام کے منصب پر فائز کر دیا، اور آپ ﷺ بحکم خدا دعوت حق اور تبلیغ اسلام کرنے لگے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۱۱۰)
دعوتِ اسلام کے تین دور:
اس کے بعد آپ ﷺ نے نہایت ہی خفیہ طور پر رازداری سے تبلیغ اسلام کیا۔ اور عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، اور مردوں میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، اور بچوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم، اور غلاموں میں زید زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔
اس کے بعد دھیرے دھیرے پوشیدہ طور پر مرد و خواتین مسلمان ہوتے رہے، اور تین برس کی اس خفیہ دعوتِ اسلام میں مسلمانوں کی ایک جماعت تیار ہوگئ۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ پر سورہ "شعراء" کی آیت *{وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ}* نازل ہوئی اللہ رب العزت نے فرمایا: "اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ" اس کے بعد ایک دن آپ ﷺ کوہ صفا پر چڑھ کر "یا معشر القریش" کا نعرہ بلند کیا، تو سارے قریش والے جمع ہوگئے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے میری قوم! اگر میں تم سے یہ کہوں کہ پہاڑ کے دوسرے جانب ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے؟ تو سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہاں ہاں ہم یقین کر لیں گے کیونکہ آپ کو ہمیشہ سچا اور ایمان دار پایا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھا تو میں تمہیں عذابِ الٰہی سے ڈرا رہا ہوں اگر تم ایمان نہ لاؤ گے، تو تم پر عذابِ الٰہی نازل ہوگا۔ یہ سن کر تمام قریش سخت غصہ ہوگئے، اور سب کے سب چلے گئے، اور آپ ﷺ کی شان اقدس میں اول فول بکنے لگے۔
اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو علی الاعلان تبلیغ اسلام کرنے کا حکم دے دیا۔ اور آپ ﷺ بحکم خدا علانیہ طور پر اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ اور کفار و مشرکین کے خداؤں کو کھلم کھلا برا بھلا کہنے لگے جس کی وجہ سے تمام اہل مکہ آپ ﷺ کی مخالفت پر اتر آیا۔ آپ ﷺ اور تمام مسلمانوں کی ایذا رسانی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ:ص ۱۱۱/ ۱۱۲/ ۱۱۳)
رحمت عالم اور مسلمانوں پر ظلم و ستم:
اس کے بعد کفار مکہ آپ ﷺ اور مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے لگے۔ کبھی آپ ﷺ کے پیچھے شریر لڑکوں کا ایک گول لگا دیا جاتا لوگ آپ ﷺ کے اوپر پتھر پھینکتے۔ کبھی حالت سجدہ میں آپ ﷺ کے دوش مبارک پر اوجھڑی ڈال دی جاتی۔ کبھی آپ ﷺ کے گلے مبارکہ میں چادر کا پھندہ ڈال دیتے جس سے آپ ﷺ کا دم گھٹنے لگتا۔ لوگ آپ ﷺ کے معجزات کو دیکھ کر آپ ﷺ کو جادو گر کہتے۔ اسی طرح آپ ﷺ اور خاندان بنو ہاشم نے مسلسل تین سال "شعب ابی طالب" میں گزارے یہ تین سال بہت ہی کٹھن اور مشکل سے گزارے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے طرح طرح کے مظالم برداشت کیے لیکن کبھی بھی آپ ﷺ نے بد دعائیں نہیں کیں۔
اسی طرح مسلمانوں پر بھی کفار مکہ نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر امیہ ابن خلف نے جو ظلم کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسی طرح حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو کفار گرم بالو پر لٹا کر اس قدر مارتے کہ وہ بے ہوش ہوجاتے۔ اسی طرح ان کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو ملعون ابو جہل نے ان کے ناف کے نیچے نیزہ مار کر شہید کر دیا، اور آپ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ عنہ بھی ظلم ستم کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ اسی طرح بہت سے مسلمانوں پر کفار مکہ نے ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ)
حضرت حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا ایمان لانا:
اعلانِ نبوت کے چٹھے سال آقائے نامدار ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ یوں ہے کہ ایک روز بد بخت ابو جہل نے سرکار دو جہاں ﷺ کو بہت گالیاں دی اور ایذا پہونچائی۔ اس کی خبر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شکار سے واپسی پر طواف خانۂ کعبہ کے دوران ملی۔ یہ خبر سنتے ہی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غضبناک ہوکر سیدھے ابو جہل کے پاس گئے۔ تیر اور کمان ان کے پاس پہلے ہی موجود تھا کیوں کہ وہ ابھی ابھی شکار سے لوٹے تھے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کمان کھینچ کر ملعون ابو جہل کے سر پر رسید کی جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: محمد ﷺ کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ میں ان کے دین پر ہوں۔ پھر وہاں سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور ایمان میں داخل ہوگئے۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے تین دن بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ سرکار دو عالم ﷺ نے دعا مانگی تھی کہ "یا اللہ! عمرو بن ہشام یا عمر بن خطاب" کے ذریعہ اسلام کو عزت دے۔ تو وہ دعا آپ کے حق میں قبول ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ بہت ہی مشہور ہے اس لیے یہاں تفصیل سے ذکر نہیں کیا گیا۔
(مدارج النبوۃ: ج۲، ص٦٦)
ابو طالب اور حضرت بی بی خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی وفات:
"شعب ابی طالب" سے باہر آنے کے بعد آقائے دوعالم ﷺ کے چچا "ابو طالب" بیمار ہوگئے، اور گھاٹی سے باہر آنے کے آٹھ ماہ بعد انتقال کر گئے۔ "ابو طالب" کی وفات سے آپ ﷺ کو بہت رنج ہوا۔ کیوں کہ "ابو طالب" نے آپ ﷺ کی بہت ہی پیار اور محبت سے پرورش کی تھی، اور ہر موڑ پر آپ ﷺ کے ساتھ رہے اگر چہ وہ ایمان نہیں لائے تھے۔
حضور اکرم ﷺ کے قلب مبارک پر ابھی آپ کے چچا ابوطالب کے وفات کا زخم تازہ ہی تھا، اور ان کی وفات ہوئے تین یا پانچ دن ہوئے تھے۔ کہ حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے ہمیشہ آقائے دوعالم ﷺ کی نصرت و حمایت میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ جب اس دنیا میں آپ ﷺ کا کوئی مخلص و غمخوار نہیں تھا اس وقت حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں۔ جو آپ ﷺ کی غمخواری کرتی تھیں۔ آقائے دو جہاں ﷺ کو حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا اور "ابو طالب" کی وفات سے آپ ﷺ کے قلب مبارک پر اتنا عظیم صدمہ گزرا کہ آپ ﷺ نے اس کا نام "عام الحزن" (غم کا سال) رکھ دیا۔
حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اعلان نبوت کے دسویں سال رمضان المبارک وفات پائی۔ اور بوقتِ وفات آپ رضی اللہ عنہا کی عمر پینسٹھ 65 سال تھی۔ مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں مدفون ہوئیں۔ اور خود آقائے دوعالم ﷺ ان کی قبر میں اترے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں سپرد خاک فرمایا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص١٤١/١٤٣)
مدینہ منورہ میں اسلام کیونکر پھیلا:
اعلان نبوت کے گیارہویں سال حج کے موقع پر معمول کے مطابق آقائے دوعالم ﷺ قبائل کو دعوتِ اسلام دینے کے لیے "منی" میں تشریف لے گئے اور قرآن کریم کی آیات تلاوت فرما کر لوگوں کے سامنے اسلام پیش فرمانے لگے۔ آقائے دوعالم ﷺ "منی" میں عقبی کی گھاٹی میں تشریف فرما تھے۔ کہ مدینہ منورہ سے قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی آپ ﷺ کے پاس آ گئے۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے بھی قرآن پاک کی تلاوت فرما کر اسلام کی دعوت دی جس سے یہ لوگ بے حد متاثر ہوئے اور اسلام کے دامن سے وابستہ ہوگئے۔ اور پھر مدینہ منورہ جا کر اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو بھی اسلام کی دعوت دی۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۱۵۰/ ۱۵۱)
بیعت عقبۂ اولی اور عقبۂ ثانی:
اعلان نبوت کے بارہویں سال حج کے موقع پر مدینہ منورہ کے بارہ اشخاص چھپ کر اسی "منی" کی گھاٹی میں مشرف بہ اسلام ہوئے، اور آقائے دوعالم ﷺ سے بیعت بھی ہوئے۔ تاریخ اسلام میں اس بیعت کا نام "بیعت عقبہ اولی" ہے۔ اور آپ ﷺ نے ان کی درخواست پر ان کے ساتھ کچھ صحابہ کرام کو بھی بھیجا اسلام کی تبلیغ کے لیے۔
اسی طرح اعلان نبوت کے تیرہویں سال حج کے موقع پر مدینہ منورہ کے بہتر اشخاص نے چھپ کر "منی کی گھاٹی" میں مشرف بہ اسلام ہوئے، اور آقائے دو جہاں ﷺ کے مقدس و نورانی ہاتھ پر بیعت بھی ہوئے۔ تاریخ اسلام میں اس بیعت کا نام "بیعت عقبہ ثانی" ہے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۱۵۱/ ۱۵۲)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہجرت کی اجازت
جب عقبہ کی گھاٹی میں بیعت مکمل ہوگئ تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم اجمعین کو بھی ہجرت کی اجازت دے دی۔ تو وہ لوگ گرہوں کی صورت میں اور تنہا بھی نکل گئے۔ حتی کہ حضرت علی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما رہ گئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہجرت کی اجازت طلب کرتے تو آپ ﷺ فرماتے: جلدی نہ کرو شاید اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارا کوئی ساتھی بنا دے۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص۱۸۱)
قریش کی شوریٰ:
پھر قریش دارالندوہ میں اکٹھے ہوئے اور ان کے ساتھ ملعون ابلیس بھی شیخ نجدی کی صورت میں موجود تھا۔ انہوں نے مشورہ کیا اور یہ رائے قائم کی کہ معاذ اللہ! آپ ﷺ کو شہید کر دیا جائے۔ لیکن انہیں کیا معلوم کہ جس کا محافظ خود رب تبارک و تعالیٰ ہو دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کا ایک بال بھی بانکا نہیں کر سکتی۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص۱۸۲)
حضرت علی حضور ﷺ کے بستر مبارک پر اور مشرکین آپ ﷺ کے خانۂ اقدس کے ارد گرد:
پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ اس بستر پر نہ آرام کریں جس پر روز انہ آرام فرماتے ہیں۔ کیوں کہ باہر کفار آپ ﷺ پر حملہ کرنے کے لیے کھڑے ہیں۔ کہ آپ ﷺ آرام فرما ہوں اور ہم حملہ کریں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آرام کرنے کا حکم دیا، اور آپ ﷺ خود وہاں آرام فرمانے لگے۔
پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور ایک مٹھی خاک اٹھا کر ان کے سروں پر ڈال دیا اور "سورہ یسین" کی ابتدائی آیات کا ورد کرتے رہے۔ پھر آپ ﷺ ادھر تشریف لے گئے جدھر آپ کو جانا تھا۔
کفار قریش کے پاس کسی آنے والے نے کہا کہ تم یہاں کس کے انتظار میں ہو؟ ان لوگوں نے کہا کہ حضرت محمد (ﷺ) کے تو اس شخص نے کہا کہ وہ تو تمہارے سروں پر مٹی ڈال کر جاچکے ہیں۔ جب ان لوگوں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا تو مٹی پایا۔
پھر آپ ﷺ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائیں ان کو اور کچھ سامانِ سفر ساتھ لے کر غار ثور پہونچے جو مکہ مکرمہ کے زریں حصے میں ایک پہاڑ میں ہے۔
(المواہب الدنیہ: ص۱۸۳/ ۱۸۵)
جاری ہے۔۔۔۔!