رسول کریم (ﷺ) کی مدنی زندگی: ہجرت کا پہلا اور دوسرا سال
قبا سے مدینہ منورہ کی طرف :
سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ ﷺ، جمعہ کے دن قبا سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں جمعہ کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے قبیلۂ بنی سالم میں جمعہ کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے۔ شہر قریب آ گیا، پردہ نشیں عورتیں گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئیں اور استقبالیہ اشعار پڑھنے لگیں۔
طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا
مِنَ ثَنِيَّاتِ الوَدَاع
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعِی
ترجمہ: ہم پر چاند طلوع ہو گیا، وداع کی گھاٹیوں سے۔ ہم پر شکر واجب ہے، جب تک اللہ سے دعا مانگنے والے دعا مانگتے رہیں۔
مدینہ منورہ کی چھوٹی چھوٹی بچیاں جوشِ مسرت میں دف بجا کر گیت گا رہی تھیں:
`نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَنِی النَّجَّارٖ، یَا حَبَّذا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارٖ`
"ہم خاندانِ بنو نجار کی بچیاں ہیں، واہ! کیا خوب ہوا کہ رحمتِ عالم ﷺ ہمارے پڑوسی ہو گئے۔
رحمتِ عالم ﷺ نے بچیوں کی والہانہ محبت سے متاثر ہو کر پوچھا: "کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟" تو انہوں نے یک زبان ہو کر کہا: "جی ہاں!" یہ سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔"
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۱۷۵، ۱۷۶، ۱۷۷)_
رسولِ کائنات ﷺ کی اونٹنی:
نبی کریم ﷺ جب بھی کسی انصاری کے مکان سے گزرتے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھر ٹھہرنے کی دعوت دیتے۔ آپ ﷺ فرماتے: "اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو، اسے خدا کی جانب سے حکم ملا ہے۔" آپ ﷺ نے لگام کو ڈھیلا کر دیا۔ اونٹنی دائیں بائیں دیکھتی رہی، حتیٰ کہ مالک بن نجار کے مکان کے پاس آئی اور مسجدِ نبوی کے دروازے پر بیٹھ گئی۔ وہ جگہ اس وقت دو یتیم بچوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ تھی۔ پھر اونٹنی وہاں سے اٹھی اور حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آ کر بیٹھ گئی۔
_(المواہب الدنیہ، ج ۱، ص ۲۰۰)_
رسول اللہ ﷺ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں:
حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے خوشی خوشی آقائے دو عالم ﷺ کا سامان اٹھا کر اپنے مکان میں پہنچا دیا۔ اور آپ ﷺ نے انہی کے مکان پر قیام فرمایا۔ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اوپر کی منزل پیش کی، لیکن لوگوں کی آسانی کے لیے آپ ﷺ نے نیچے کی منزل پسند فرمائی۔ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ صبح و شام آپ ﷺ کے لیے کھانا لاتے، اور آپ ﷺ کا بچا ہوا کھانا وہ تبرک سمجھ کر کھاتے۔ آپ ﷺ نے اس وقت تک حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں قیام فرمایا، جب تک مسجدِ نبوی اور آس پاس کے حجرے تیار نہیں ہو گئے۔ جب وہ حجرے تیار ہو گئے تو آپ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ ان حجروں میں قیام پذیر ہو گئے۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۱۷۸)_
مسجدِ نبوی کی تعمیر:
مدینہ منورہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں مسلمان اکٹھا ہو کر جماعت سے نماز پڑھ سکیں، اس لیے ایک مسجد ضروری تھی۔ جب مسجدِ نبوی اور آپ ﷺ کے مکان کا تعمیری کام شروع ہوا، تو آپ ﷺ خود اس کام میں شریک ہوئے تاکہ مسلمانوں کو رغبت ہو۔ چنانچہ انصار و مہاجرین نے بہت ہی جوش و خروش سے اس تعمیری کام میں حصہ لیا۔ صحابہ کرام میں سے ایک صحابی نے یہ اشعار پڑھے، جس کا ترجمہ یہ ہے: "اگر ہم بیٹھ جائیں اور نبی ﷺ کام کرتے رہیں تو بے شک یہ ہمارا کام گمراہی کا ہے۔"
_(ابن ہشام: ج ۱، ص ۳۳۲)_
صفہ مبارکہ:
مسجدِ نبوی شریف میں ایک سایہ دار جگہ تھی، جسے صفہ کہا جاتا تھا۔ وہاں مساکین پناہ لیتے، اور وہاں پناہ لینے والے حضرات کو "اصحابِ صفہ" کہا جاتا ہے۔ نبیِ رحمت، شفیعِ امت ﷺ انہیں رات کے وقت بلاتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں تقسیم کر دیتے۔ اور ایک جماعت سرکارِ دو جہاں ﷺ کے ساتھ عشاء کا کھانا کھاتی تھی۔
_(المواہب الدنیہ: ج ۱، ص ۲۰٦)_
حضور ﷺ کے اہلِ خانہ مدینہ منورہ میں:
ابھی آپ ﷺ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان ہی میں تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہما کو پانچ سو درہم اور دو اونٹ دے کر روانہ فرمایا، تاکہ حضرت سیدہ فاطمہ، حضرت ام کلثوم، حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہن اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کو لے کر آئیں۔ چنانچہ یہ حضرات ان سب کو لے کر آئے، اور ان کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فرزند حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی مع اہل و عیال مدینہ منورہ آ گئے۔
_(مدارج النبوۃ: ج ۲، ص ۹۹)_
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضور ﷺ سے مکہ مکرمہ میں ہو چکا تھا، مگر ان کی رخصتی ہجرت کے پہلے سال مدینہ منورہ میں ہوئی۔ اور آپ ﷺ نے ایک پیالہ دودھ سے دعوتِ ولیمہ فرمائی۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۱۸۴)_
انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات:
مدینہ منورہ پہنچنے کے دو ماہ بعد سید الانبیاء ﷺ نے انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ دو دو شخص کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ اور یہ نوے افراد کی ایک جماعت تھی، دونوں جماعتوں سے پینتالیس پینتالیس افراد تھے۔ ان کی مواخات حق بات، غم خواری اور ایک دوسرے کا وارث بننے پر تھی۔ یہ سلسلہ جاری رہا، حتیٰ کہ غزوۂ بدر کے بعد یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
`وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ`
_(الانفال: ۷۵)_
ترجمۂ کنز الایمان: "اور رشتہ والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں۔"
لیکن اب اسلامی محبت باقی رہ گئی، اور وراثت کا سلسلہ رشتہ داروں میں جاری ہوا۔
_(المواہب الدنیہ: ج ۱، ص ۲۰۸)_
نمازوں کی رکعت میں اضافہ:
اب تک فرض نمازوں میں صرف دو ہی رکعتیں تھیں، مگر ہجرت کے پہلے سال ہی ظہر، عصر اور عشاء میں چار رکعتیں فرض ہو گئیں۔ لیکن حالتِ سفر میں اب بھی وہی دو رکعتیں ہی ہیں۔ اسی کو حالتِ سفر میں نمازوں کو قصر کہتے ہیں۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۱۹۱)_
ہجرت کے پہلے سال اور بھی واقعات رونما ہوئے۔ اذان کی ابتداء ہجرت کے پہلے سال ہوئی، اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کے پہلے سال ہی مشرف بہ اسلام ہوئے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص١٨٤، ۱۹۰)
اور حضور اکرم ﷺ کے تین جاں نثار صحابہ کرام حضرت کلثوم بن ہدم، حضرت براء بن معرور انصاری اور حضرت اسعد بن زرارہ انصاری رضی اللہ عنہم کی وفات ہوئی۔ ان کی وفات پر یہودی اور منافقین بہت خوش ہوئے، اور حضور ﷺ کو طعنہ دینے لگے کہ اگر آپ ﷺ پیغمبر ہوتے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو صدمات کیوں پہنچاتا؟ لیکن خدا کی شان دیکھیے کہ ٹھیک اسی زمانے میں کفار و مشرکین کے دو بڑے سردار مر کر مردار ہو گئے۔ ایک "عاص بن وائل سہمی" جو فاتحِ مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا باپ تھا، دوسرا "ولید بن مغیرہ" جو فاتحِ شام حضرت خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ کا باپ تھا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ : ص۱۹۲، ۱۹۳)
ہجرت کا دوسرا سال:
تحویل قبلہ:
جب تک آقائے نامدار ﷺ مکہ شریف میں رہے، خانۂ کعبہ کی جانب چہرۂ انور کر کے نماز پڑھتے رہے۔ لیکن جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اللہ رب العزت کا حکم ہوا کہ آپ بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائیں۔ اس کے بعد سرکارِ دو عالم ﷺ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ لیکن آپ ﷺ یہ چاہتے تھے کہ خانۂ کعبہ ہی قبلہ رہے۔ چنانچہ سرکارِ مدینہ ﷺ اکثر آسمان کی جانب چہرۂ اقدس اٹھا اٹھا کر اس کے لیے وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے۔ یہاں تک کہ ایک دن اللہ تبارک و تعالیٰ نے آرزوئے رسول ﷺ کی خاطر قرآن پاک کی یہ آیتِ کریمہ نازل فرما دی:
`قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ`
_(البقرہ: ۱۴۴)_
ترجمۂ کنز الایمان: "ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا، تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے۔ ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجدِ حرام کی طرف۔"
چنانچہ حضورِ اقدس، قاسمِ نعمت ﷺ، ایک دن قبیلۂ بنی سلمہ کی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ حالتِ نماز ہی میں یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی، اور آپ ﷺ نے نماز ہی میں بیت المقدس سے مڑ کر خانۂ کعبہ کی جانب چہرۂ اقدس کر لیا۔ تمام مقتدیوں نے بھی آپ ﷺ کی اقتداء کی۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا، اس مسجد کو "مسجد القبلتین" کہتے ہیں۔ اور آج بھی یہ تاریخی مسجد زیارت گاہِ خواص و عوام ہے۔ یہ مدینہ منورہ سے دو کلومیٹر دور شمال مغرب میں واقع ہے۔
_(سیرتِ مصطفیٰ، جانِ رحمت ﷺ: ص ۸۱۸، ۸۱۹)_
زکوٰۃ، روزۂ رمضان، نمازِ عید، صدقۂ فطر:
۲ ہجری کے واقعات میں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت، نمازِ عید اور صدقۂ فطر ہے۔ یہ واقعہ اٹھارہ ماہ گزرنے کے بعد کا ہے، جب سرورِ کونین ﷺ مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے۔
_(مدارج النبوۃ: ج ۲، ص ۱۱۱)_
جہاد و قتال کا حکم:
۲ ہجری کے واقعات میں جہاد و قتال کا حکم واقع ہونا ہے۔ چنانچہ اللہ رب العزت نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُ`
_(الحج: ۳۹)_
ترجمۂ کنز الایمان: "پروانگی عطا ہوئی انہیں، جن سے کافر لڑتے ہیں، اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا۔ اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔"
اس کے علاوہ اور بھی آیتیں اس کے حق میں نازل ہوئیں۔ اس سے قبل سرکارِ مدینہ ﷺ کو جہاد سے منع کیا گیا تھا۔ صحابہ کرام مجروح آتے، انہیں دیکھ کر آپ ﷺ فرماتے: "مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔" لیکن جب آپ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اجازت دے دی گئی۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں مشرکین کی تعداد زیادہ تھی، انہیں غلبہ حاصل تھا اور مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ اس لیے اللہ رب العزت نے قتال کی مشروعیت کو اس وقت تک مؤخر رکھا، جب تک کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں رونق افروز نہ ہو گئے اور صحابہ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ایک جمعیت قائم نہ ہو گئی۔
_(مدارج النبوۃ: ج ۲، ص ۱۱۱، ۱۱۲)_
غزوات و سرایا:
ہر وہ لشکر، جس میں رسول اللہ ﷺ بذاتِ خود موجود ہوں، اسے غزوہ کہتے ہیں۔ اور غزوات کی تعداد ستائیس ہے، جیسا کہ المواہب الدنیہ میں ہے۔ ان غزوات میں نو غزوات ایسے ہیں جن میں جہاد بھی ہوا، اور وہ یہ ہیں: غزوۂ بدر، احد، احزاب، بنو قریظہ، بنو المصطلق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور طائف۔
اور جس لشکر میں سرکارِ مدینہ ﷺ تشریف نہیں لے گئے، بلکہ کوئی فوج روانہ فرمائی، اسے "سریہ" اور "بعث" کہتے ہیں۔ سرایا کی تعداد سینتالیس ہے اور بعض چھپن کہتے ہیں۔
_(مدارج النبوۃ: ج ۲، ص ۱۱۲)_
سریۂ حمزہ:
جہاد کی آیت نازل ہونے کے بعد سب سے پہلے حضورِ اقدس ﷺ نے کفار کے مقابلے کے لیے تیس مہاجرین کی تعداد میں ایک چھوٹا سا لشکر روانہ فرمایا۔ اس کا نام "سریۂ حمزہ" ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک سفید پرچم عطا فرمایا اور اسلامی لشکر کو کفار کے مقابلے کے لیے بھیجا، جو تین سو کی تعداد میں تھے اور ان کا سپہ سالار ابو جہل تھا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ "سیف البحر" پہنچے۔ دونوں طرف کے لشکر لڑنے کے لیے تیار ہو گئے تھے کہ ایک شخص "مجدی بن عمرو"، جو دونوں فریق کا حلیف تھا، بیچ میں پڑ کر لڑائی موقوف کرا دی۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۰۴)_
غزوۂ ابواء:
اس غزوہ کو "غزوۂ ودان" بھی کہتے ہیں۔ اور یہ سب سے پہلا غزوہ ہے۔ سرکارِ دو عالم ﷺ جہاد کے ارادے سے صفر کے مہینے میں تشریف لے گئے۔ اور آپ ﷺ کے ساتھ ساٹھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تھے۔ اور آپ ﷺ قریش کا ارادہ رکھتے تھے۔ حضور ﷺ نے پرچم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا، اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا عامل مقرر فرمایا۔
لیکن اس غزوہ میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ بنو ضمرہ نے اس بات پر صلح کر لی کہ وہ حضور ﷺ کے خلاف نہ تو جنگ کریں گے اور نہ ہی دشمنوں کی مدد کریں گے۔
_(المواہب الدنیہ: ج ۱، ص ۲۲۰)۔
اس کے علاوہ ۲ ہجری میں اور بھی دیگر غزوات اور سرایا واقع ہوئے۔ لیکن اس میں پیش آنے والا غزوہ "غزوۂ بدر" قابلِ ذکر ہے، جس میں باقاعدہ جہاد ہوا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔
غزوۂ بدر:
مقامِ بدر مدینہ منورہ سے تقریباً اسّی میل کے فاصلے پر ایک گاؤں کا نام ہے۔ یہاں ایک کنواں تھا جس کے مالک کا نام "بدر" تھا، جس کی نسبت سے اس جگہ کا نام "بدر" رکھ دیا گیا۔ اسی مقام پر کفارِ قریش اور مسلمانوں کے درمیان جنگِ بدر کا وہ عظیم الشان معرکہ پیش آیا، جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتحِ مبین عطا فرمائی۔ جس کے بعد اسلام کا پرچم اتنا سربلند ہو گیا کہ کفارِ قریش کی عظمت و شوکت خاک میں مل گئی۔ اللہ رب العزت نے اس جنگِ بدر کا نام "یوم الفرقان" رکھا اور قرآن پاک کی "سورۂ انفال" میں اسے تفصیل سے اور دوسری سورتوں میں اجمالاً بار بار ذکر فرمایا۔
چنانچہ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
`وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ`
_(آل عمران: ۱۲۳)_
ترجمۂ کنز الایمان: "اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جب تم بالکل بے سر و سامان تھے۔ تو اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار ہو۔"
اس جنگ میں کل چودہ مسلمان شہید ہوئے، جن میں سے چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔ جن کے نام یہ ہیں: حضرت عبیدہ بن الحارث، حضرت عمیر بن ابی وقاص، حضرت ذوالشمالین عمیر بن عبد عمرو، حضرت عاقل بن ابی بکیر، حضرت مہجع، حضرت صفوان بن بیضاء، حضرت سعد بن خیثمہ، حضرت مبشر بن عبد المنذر، حضرت حارث بن سراقہ، حضرت معوذ بن عفراء، حضرت عمیر بن حمام، حضرت رافع بن معلیٰ، حضرت عوف بن عفراء، حضرت یزید بن حارث رضی اللہ عنہم اجمعین۔
ان میں سے تیرہ میدانِ بدر میں ہی مدفون ہوئے، مگر حضرت عبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہ نے واپسی پر "مقامِ صفراء" میں وفات پائی، اس لیے ان کی قبرِ مبارک "مقامِ صفراء" میں ہے۔
اور کفارِ قریش کے کل ستر آدمی قتل ہوئے اور ستر گرفتار ہوئے اور باقی فرار ہو گئے۔ اور اس معرکے میں کفارِ قریش کے نامور سردار عتبہ، شیبہ، ابو جہل، ابوالبختری، زمعہ، عاص بن ہشام، امیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث وغیرہ مارے گئے۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۱۰، ۲۳۲، ۲۳۳)_
غزوۂ سویق:
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب ابوسفیان بدر سے بھاگ کر مکہ پہنچا تو اس نے قسم کھائی کہ جب تک اپنے مقتولین کا بدلہ محمد ﷺ سے جنگ کر کے نہ لے گا، سر میں تیل نہ ڈالے گا اور نہ ہی غسلِ جنابت کرے گا۔ ابو سفیان اپنی قسم پوری کرنے کے لیے دو سو سوار لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا اور مقامِ صدرِ قناۃ میں، جو ایک پہاڑ کے قریب ہے جس کو "نیب" کہتے ہیں، وہاں جا کر اترا۔ یہ مقام مدینہ کے قریب واقع ہے۔ ابو سفیان رات کے وقت مدینہ منورہ کے اندر بنو نضیر کے قبیلے میں "حی بن اخطب" کے پاس آیا، دروازے پر دستک دی، لیکن حی بن اخطب نے دروازہ نہیں کھولا۔ اس کے بعد ابو سفیان سلام بن مشکم کے پاس گیا، جو کہ قبیلۂ بنو نضیر کا سردار تھا۔
ابو سفیان اس سے ملاقات کر کے اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور چند لوگوں کو مدینہ منورہ کی طرف روانہ کیا۔ یہ لوگ مدینہ منورہ کے ایک کنارے "مقامِ عریض" کی طرف آئے۔ یہاں ایک انصاری کا کھیت اور کچھ درخت بھی تھے، ان میں شیطانوں نے آگ لگا دی اور انصاری اور ان کے ساتھیوں کو سوتے ہوئے شہید کر دیا، اور پھر وہاں سے فرار ہو گئے۔
جب یہ خبر رسولِ کریم ﷺ کو موصول ہوئی تو فوراً حضرت بشیر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر کر کے ابو سفیان کا تعاقب کیا۔ لیکن ابو سفیان اور اس کے ساتھی اس قدر بدحواس ہو کر بھاگے کہ بھاگتے ہوئے ستوؤں کی بوریاں بھی پھینکتے گئے۔ مسلمانوں نے وہ سب اپنے قبضے میں لے لیے۔ اسی سبب اس غزوہ کا نام "غزوۂ سویق" پڑا۔ واپسی پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عرض گزار ہوئے: "یا رسول اللہ ﷺ! کیا یہ بھی ہمارے لیے غزوہ ہے؟ یعنی اس کا بھی ہمیں ثواب ملے گا؟" آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہاں۔"
_(ابن ہشام: ج ۲، ص ۷۰، ۷۱)_
۲ ہجری میں ہونے والے واقعات:
۲ ہجری میں چھوٹے چھوٹے غزوات ہوئے جن میں حضور، تاجدارِ دو جہاں ﷺ نے شرکت فرمائی، لیکن ان غزوات میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۴۹)_
اور اسی سال "غزوۂ بنی قینقاع" کا واقعہ پیش آیا۔
اور اسی سال حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا نکاح منعقد ہوا۔
_(المواہب الدنیہ: ج ۱، ص ۵۵، ۵۸)_
جاری ہے ۔۔۔۔!