مضامین

سیرتِ رسول عربی (ﷺ ) قسط دوم

سعدیہ خاتون
19 اگست 2026
110
0
آفتاب و ماہتاب غار ثور میں:
حضور ﷺ غار ثور پہونچے تو سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غار کے اندر داخل ہوئے، اور اچھے سے غار کی صفائی کی اور غار میں جتنے بھی سوراخ تھے سب بند کر دیے۔ پھر آپ ﷺ غار میں تشریف لائے، اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی گود میں سر مبارک رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تمام سوراخوں کو کپڑے سے بند کر دیا تھا لیکن ایک سوراخ باقی رہ گیا تھا۔ جس کو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی ایڑی سے بند کر رکھا تھا۔ غار میں ایک سانپ تھا جو بار بار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں کاٹ رہا تھا۔ لیکن یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس خیال سے اپنا پاؤں نہیں ہٹایا کہ کہیں جان جاناں ﷺ کی نیند میں خلل نہ پڑ جائے۔ مگر درد کی شدت سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آنکھوں سے نکل پڑے۔ اور آنسوؤں کے چند قطرے آقائے دوعالم ﷺ کے رخسار مبارک نثار ہوگئے۔ جس سے آپ ﷺ بیدار ہوگئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو روتا ہوا دیکھ کر دریافت کیا کہ کیا ہوا؟ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے زخم پر اپنا لعاب دہن لگایا جس سے فوراً شفا مل گئی۔ آپ ﷺ غار ثور میں تین رات تک رونق افروز رہے۔ 
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۱۶۳) 
غار ثور سے مدینہ منورہ کی طرف کوچ: 
جب غار ثور میں تین راتیں گزر گئیں اور تیسری رات کی صبح ہوئی تو عبداللہ بن اریقط جسے آپ ﷺ نے رہبری کے لیے اجرت کے طور پر رکھا تھا۔ وہ دو اونٹ لے کر غار ثور پہونچے اور آپ ﷺ خدمت اقدس میں پیش کر دیے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ آقائے دو جہاں ﷺ ایک اونٹ پر سوار ہوئے جس کا نام "قصواء" تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا ردیف بنایا، اور دوسرے اونٹ پر حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سوار ہوئے۔ آپ ﷺ نے سفر کے لیے ساحلی راستہ اختیار فرمایا۔ اس دن اور پوری رات آپ ﷺ برابر چلتے رہے۔ دوسرے دن دوپہر کے وقت سایہ دار جگہ میں آپ ﷺ نے آرام فرمایا۔ پاس ہی میں ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے دودھ طلب کیا تو وہ فوراً دودھ دوہ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لایا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا۔ پھر جب سرور کونین ﷺ بیدار ہوئے تو ایک پیالہ آپ ﷺ کے لیے بھی منگوایا۔ جس کو آپ ﷺ نے نوش فرمایا۔ پھر سوار ہوکر سفر شروع کر دیا۔
(مدارج النبوۃ: ج۲، ص۸۹/ ۹۰)
دورانِ سفر ایک معجزہ:
دورانِ سفر "مقام قدید" میں آپ ﷺ کا گزر ام معبد عاتکہ بنت خالد خزاعی کے خیمے سے ہوا۔ وہاں ایک عورت رہتی تھی جو اپنے خیمہ میں رہ کر مسافروں کی مہمان نوازی کیا کرتی تھی۔ آپ ﷺ نے اس خاتون سے کچھ کھانا طلب کیا لیکن اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ جس سے وہ آپ ﷺ کی مہمان نوازی کرتی۔‌ آپ کی نظر مبارک اس خاتون کے خیمہ میں گئ جہاں ایک کمزور اور لاغر بکری کھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا میں اس سے دودھ دوہ لوں؟ اس خاتون نے کہا۔ کہ یہ بکری اتنی کمزور ہے کہ اس سے دودھ کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم اجازت دیتی ہو کہ میں اس سے دودھ دوہ لوں؟ اس خاتون نے آپ کو اجازت دے دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے "بسم اللہ" پڑھ کر فرمایا: {اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَھَا فِی شَاتِھَا} (اے اللہ! ام معبد کی اس بکری میں برکت عطا فرما) آپ ﷺ کا اتنا کہنا تھا کہ بکری کا تھن دودھ سے بھر گیا اور اس بکری نے اتنا دودھ دیا کہ سارے لوگ سیراب ہوگئے، ام معبد کے خیمہ میں جتنے بھی برتن تھے سارے برتن دودھ سے بھر گئے۔ آپ ﷺ کا یہ معجزہ دیکھ کر وہ لوگ مسلمان ہوگئے۔ اور آپ ﷺ کا دستِ اقدس لگنے کی وجہ سے وہ بکری اٹھارہ سال تک زندہ رہی۔ 
(مدارج النبوۃ: ج۲، ص۹۰)
سراقہ بن مالک کا واقعہ:
"مقام قدید" میں سراقہ آپ ﷺ کے سامنے آگیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ وہ ہم تک آ پہونچے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں اس کے بعد آپ نے دعا فرمائی جس سے سراقہ کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ یہ دیکھ کر سراقہ نے امان طلب کی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور زمین نے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔ سراقہ نے واپسی پر آپ ﷺ کی خدمت میں کچھ سامانِ سفر پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے قبول نہیں فرمایا۔ 
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص۱۹٦) 
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے بیش قیمت کپڑے: 
دورانِ سفر آپ ﷺ کی ملاقات حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ جو آپ ﷺ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں۔ یہ ملک شام سے تجارت کر کے آ رہے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چند نفیس کپڑے بطور نزرانہ پیش کیے۔ جن کو آپ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قبول فرما لیا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۱۷۰)
سید الانبیاء ﷺ قبا میں: 
جب مدینہ کے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لا رہے ہیں تو وہ روز انہ صبح کے وقت "مقام حرہ" میں آتے اور دوپہر تک آپ ﷺ کا انتظار کرتے اور واپس چل جاتے۔ ایک دن جب وہ سب انتظار کر کے اپنے گھروں کو چلے گئے تو ایک یہودی اپنے قلعے پر کسی کام سے چڑھا تو اس نے آپ ﷺ کو آتا ہوا دیکھ کر اس یہودی سے رہا نہ گیا۔ اس نے زور سے آواز لگائی اۓ قیلہ! ( یہ قبیلۂ اوس اور خزرج کے جدہ کبریٰ کا نام تھا) تمہارا مقصود و مطلوب آگیا۔ یہ سن کر قبیلۂ اوس اور خزرج کے لوگ آپ ﷺ کے استقبال کے لیے نکلے۔ آپ ﷺ قبا میں بنو عمرو بن عوف کے پاس ٹھہرے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ جو کہ مکہ مکرمہ میں تھے۔‌ آپ کے آنے بعد وہ تین دن تک ٹھہرے رہے اس بعد وہ بھی وہاں سے چلے آئے اور قبا میں آکر آپ ﷺ سے جاملے۔ 
قبا میں آپ ﷺ بنو عمرو بن عوف کے ہاں بائیس راتیں ٹھہرے رہے۔ آپ ﷺ نے قبا میں ایک مسجد تعمیر کروائی۔ یہ اسلام میں بنائی جانے والی پہلی مسجد ہے، اور جس میں آپ ﷺ نے اعلانیہ طور پر مسلمانوں کو نماز پڑھائی وہ بھی یہی مسجد ہے۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص۱۹۷/ ۱۹۸)
جاری ہے۔۔۔۔!