شادی صرف ایک لفظ نہیں بلکہ خوشیوں کا میلہ، دو لوگوں کی ایک نئی زندگی اور نئے رشتوں کا مجموعہ ہے، جس میں بس خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں۔ مگر اس پُرفتن دنیا میں شادی ایک بوجھ نظر آتی ہے، جس بوجھ کے نیچے ایک باپ کی پوری زندگی دب کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔
جن کی مالی حالت عمدہ ہو، ان کی بات الگ ہے، مگر جن کی مالی حالت عمدہ نہ ہونے کے باوجود لوگوں کے طنز کی وجہ سے شادیوں میں کیے جانے والے فضول اخراجات، دلہے کو دی جانے والی بڑی رقم اور دیگر غیر ضروری رسم و رواج پورے کرنے پڑتے ہیں، ان کے لیے شادی خوشی کے بجائے پریشانی کا سبب بن جاتی ہے۔ ایک بوڑھا باپ، جس کی ساری زندگی اپنی اولاد کی زندگی سنوارنے میں گزر گئی، اپنی بیٹی کی شادی کے لیے نہ جانے کتنے قرض اپنے سر لے لیتا ہے۔
حالانکہ اسلام نے نکاح کو مشکل نہیں بلکہ آسان بنایا ہے۔ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے نکاح میں آسانی اور سادگی کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے، جس میں اخراجات کم ہوں۔
[مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3097]
افسوس کہ آج ہم نے نکاح جیسی بابرکت سنت کو فضول رسم و رواج، دکھاوے اور غیر ضروری اخراجات کی وجہ سے مشکل بنا دیا ہے۔ اس پر اہلِ علم کی خاموشی بھی بعض اوقات حالات کو مزید مشکل بناتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ شادی کو اپنی استطاعت کے مطابق سادہ رکھیں، تاکہ کسی باپ کو اپنی اولاد کی خوشی کے لیے قرض کے بوجھ تلے دب کر اپنے بڑھاپے میں در در بھٹک کر قرض ادا نہ کرنا پڑے۔ شادی خوشی کا موقع ہے، اسے کسی باپ کے لیے عمر بھر کی پریشانی اور قرض کا بوجھ نہ بننے دیں۔
14 اگست 2026 بروز بدھ
۳۰ صفر المظفر ۱۴۴۸