سوال 1: مفقود کسی کہتے ہیں؟
جواب: مفقود جس کا کوئی پتا نہ ہو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ زندہ ہے یا مرگیا۔
(بہار شریعت: ح،10 ص،489)
سوال 2:اگر مفقود شخص نے اپنی زندگی میں کسی کو ان امور کے لیے وکیل مقرر کر دیا ہو تو کیا ہوگا؟
جواب:اگر مفقود شخص نے اپنی زندگی میں کسی کو ان امور کے لیے وکیل مقرر کر دیا ہو تو، مقرر کردہ وکیل تمام امور انجام دے گا، اور قاضی کو بلا ضرورت دوسرا وکیل مقرر کرنے کی حاجت نہیں ہوگی۔( بہار شریعت: ص، 489)
سوال 3: شرکت کی کتنی قسمیں ہیں مع تعریف بیان کرے ؟
جواب: شرکت دو قسم ہے: شرکت ملک، شرکت عقد۔ شرکت ملک کی تعریف یہ ہے، کہ چند شخص ایک شے کے مالک ہوں اور باہم عقد شرکت نہ ہوا ہو۔ شرکت عقد یہ ہے، کہ باہم شرکت کا عقد کیا ہو مثلاً ایک نے کہا میں تیرا شریک ہوں ، دوسرے نے کہا مجھے منظور ہے۔
(بہار شریعت: ص، 493)
سوال 4: شرکت مفاوضہ کی صورت کیا ہے؟
جواب: شرکت مفاوضہ کی صورت یہ ہے کہ دو شخص باہم یہ کہیں کہ ہم نے شرکت مفاوضہ کی اور ہم کو اختیار ہے کہ یک جائی خرید و فروخت کریں یا علٰیحدہ علٰیحدہ ، نقد بیچیں خریدیں یا اُدھار اور ہر ایک اپنی رائے سے عمل کریگا اور جو کچھ نفع نقصان ہوگا اُس میں دونوں برابر کے شریک ہیں۔
(بہار شریعت: ص، 495,496)
سوال 5: شرکت عنان کس کس کے درمیان ہو سکتی ہے ؟
جواب:شرکت عنان مرد و عورت کے درمیان ،مسلم و کافر کے درمیان ،بالغ اور نا بالغ عاقل کے درمیان جب کہ نا بالغ کو اس کے ولی نے اجازت دیدی ہو اور آزاد و غلام ماذون کے درمیان ہو سکتی ہے۔
( بہار شریعت: ص، 503)
سوال نمبر 6: ایک نے کسی کی کوئی چیز غصب کر لی یا ہلاک کردی تو اس کا مطالبہ و مؤاخذہ کس ہوگا ؟
جواب: ایک نے کسی کی کوئی چیز غصب کرلی یا ہلاک کردی تو اس کا مطالبہ و مؤاخذہ اسی سے ہوگا اس کے شریک سے نہ ہوگا اور بطور بیع فاسد کوئی چیز خریدی اور اس کے پاس سے ہلاک ہوگئی تو اس کو تاوان دینا پڑیگا مگر جو کچھ تاوان دےگا اُس کا نصف یعنی بقدر حصّہ شریک سے واپس لے گا کہ وہ چیز شرکت کی ہے اور تاوان دونوں پر ہے۔( بہار شریعت: ص، 508)
سوال 7:شرکتِ وجوہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: شرکتِ وجوہ وہ ہے کہ دو شخص بغیر سرمایہ (مال) کے شرکت کا عقد کریں اور اپنی وجاہت اور ساتھ کی بنیاد پر دکانداروں سے اُدھار مال خریدیں، پھر اسے فروخت کر کے قیمت ادا کریں اور جو نفع بچے اسے آپس میں تقسیم کر لیں۔
( بہار شریعت: ص، 513)
سوال 8:شرکتِ وجوہ کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب: شرکتِ وجوہ کی دو قسمیں ہیں: مفاوضہ ، عنان
( بہار شریعت: ص، 513)
سوال 9: حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا کیا حکم ہے؟
جواب: صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جب اِنسان مر جاتا ہے اُسکے عمل ختم ہو جاتے ہیں۔
( بہار شریعت: ص،525)
سوال 10: کن چیزوں کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، حدیث کی روشنی میں بیان کرے؟
جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد تین چیزوں کا ثواب اس کے اعمال میں درج ہوتے رہتے ہیں: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، ،نیک اولاد کی دعا۔
( بہار شریعت :ص،525)