مسائل شرعیہ

شرعی رہنمائی

بنت حبیب اللہ
02 ستمبر 2026
97
0

سوال نمبر1: بچّے کی پیدائش کے موقع پر مختلف رسمیں  پائی جاتی ہیں وہ کون سی  رسمیں ہیں؟
جواب:  وہ بری رسمیں یہ ہیں لڑکا پیدا ہونے پر عام طور پر زیادہ خوشی کی جاتی ہے اور اگر لڑکی پیدا ہو تو بعض لوگ خوشی کے بجاے رنج و غم محسوس کرتے ہیں 
پہلے بچہ پر زیادہ خوشی کی جاتی ہے پھر اور بچّوں پر خوشی منائی تو جاتی ہے مگر کم 
لڑکا پیدا ہو تو پیدائش کے چھ روز تک عورتیں مل کر ڈھول بجاتی ہیں
پیدائش کے دن لڈّو یہ کوئی مٹھائی اہل قرابت میں تقسیم ہوتی ہے 
اس دن میراثی ڈوم دوسرے گانے بجانے والے گھر گھیر لیتے ہیں اور بیہودہ گانے گا کر انعام کے خواستگار ہوتے ہیں منھ مانگی چیز لے کر جاتے ہیں 
بہن بہنوئی وغیرہ کو جوڑے روپیہ وغیرہ بہت سی رسموں کے ما تحت دیے جاتے ہیں
(اسلامی زندگی: ص، ۱۷)
سوال نمبر 2: لڑکی پیدا ہونے پر  رنج کرنا کس کا طریقہ ہے
جواب: لڑکی پیدا ہونے سے رنج کرنا کفار کا طریقہ ہے 
بلکہ حق یہ ہے کہ جس عورت کے پہلے لڑکی پیدا ہو وہ رب تعالیٰ کے فضل سے خوش نصیب ہے کیوں کہ حضور ﷺ کے دولت خانہ میں اول دختر ہی پیدا ہوئی تو گویا رب تعالیٰ نے سنت نبی عطا فرما دی
(اسلامی زندگی: ص، ۱۸)
سوال نمبر3:    بچہ پیدا ہونے پر کون سے ایسے کام ہیں اسلام میں جو کرنے چاہیے 
جواب:    بچہ پیدا ہوتے ہے غسل دیا جائے نال کاٹا جائے اور جس قدر جلدی ہو سکے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے خواہ گھر کا کوئی آدمی ہی اذان اور تکبیر کہ دے یا مسجد کا مؤذن یا امام کہے اور اگر اذان کہنے اور خیریت و صدقہ کی نیت سے اُن کی کوئی خدمت کر دی جائے تو بہت اچھا ہے کیوں کہ یہ حق تعالیٰ کا شکریہ ہے پھر یہ کوشش کی جائے کہ بچہ کو پہلی گھٹی کوئی نیک آدمی دے کیونکہ تفسیر رُوح البیان میں ہے کہ بچہ میں پہلی گھٹی دینے والے کا اثر اتا ہے اور اُس کے جیسے عادات پیدا ہوتی ہیں بلکہ سنت تو یہ ہے کہ بچہ کی تحنیک کر دی جائے
(اسلامی زندگی: ص، ۲۰)
سوال نمبر4: عقیقہ اور ختنہ کی کون سی مروّجہ رسمیں ہیں جو عام طور پر کی جاتی ہیں؟
جواب:    عام طور پر عقیقہ اور ختنہ کے موقع پر یہ رسمیں ہوتی ہیں بہت سی جگہ عقیقہ کرتے ہے نہیں بلکہ چھٹی کرتے ہیں وہ یہ کہ بچہ کی پیدائش کے چھٹے دن رات کے وقت عورتیں جمع ہو کر مل کر گاتی بجاتی ہیں پھر زچہ کو کوٹھری سے باہر لاکر تارے دکھا کر گاتی ہیں پھر میٹھے چاول تقسیم کئے جاتے ہیں گیت نہایت بیہودہ گائے جاتے ہیں یہ رسم خالص ہندوانی ہیں اور جو لوگ عقیقہ بھی کرتے ہیں تو وہ اپنی برادری کے لحاظ سے جانور ذبح کرتے ہیں میں نے یہ دیکھا ہے کہ بڑی برادری والے لوگ چھ سات جانور ذبح کر کے تمام گوشت برادری کے تقسیم کر دیتے ہیں یا پُرتکلف کھانا پکا کر عام دعوت کرتے ہیں اور جب ختنہ کا وقت آتا ہے تو ایسے رسمیں ہوتی ہیں خدا کی پناہ ختنہ سے پہلے رات جگ راتا ہوتا ہے جسے خدائی رات کہتے ہیں جس میں سب عورتیں جمع ہو کر رات بھر گانا گاتی ہیں اور گھر والے گلگلے پکاتے ہیں پھر فجر کے وقت جوان لڑکیاں اور عورتیں گاتی ہوئی مسجد کو جاتی ہیں وہاں جا کر ان گلگلوں سے طاق بھارتی ہیں یعنی گھی کا چراغ اور یہ گلگلے کچھ پیسے طاق میں رکھ کر گاتی ہوئی واپس آتی ہیں یہ رسم بعض جگہ شادی پر بھی ہوتی ہے 
(اسلامی زندگی: ص، ۲۱)
سوال نمبر5:   ان رسموں کی خرابیاں کیا ہیں؟ 
جواب: اُن رسموں کی خرابیاں یہ ہیں 
لڑکی کو سوا دو سال دودھ پلانا جائز نہیں لڑکی ہو یہ لڑکا دونوں کو دو دو سال دودھ پلایا جائے ماں باپ چاہیں تو دو سال سے پہلے دودھ چھوڑا دیں مگر دو سال کے بعد دودھ پلانا منع ہے جو بچے کی پرورش کے زمانہ میں اچھی صحبت نہیں پاتیں وہ جوان ہو کر ماں باپ کو بہت پریشان کرتے ہیں ہم نے بڑے فیشن ایبل صاحبزادوں کے ماں باپ کو دیکھا ہے کہ وہ روتے پھرتے ہیں مفتی صاحب تعویذ دو جس سے بچہ کہنا مانے جس سے ہمارے قبضے میں آئے مگر دوستوں فقط تعویذ سے کام نہیں چلتا کچھ ٹھیک عمل بھی کرنا چاہیے 
(اسلامی زندگی: ص، ۲۸)
سوال نمبر6:  بچّوں کی پرورش کا اسلامی طریقہ کیا ہے ؟ 
جواب: لڑکے اور لڑکی کو دو سال سے زیادہ دودھ نا پلاؤ جب بچہ کچھ بولنے کے لائق ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کا نام سکھاؤ پہلے مائیں اللہ اللّٰہ کہ کر بچّوں کو سلاتی تھیں اور اب گھر کے ریڈیو اور گانا بجانا بجا کر بہلاتی ہیں جب بچہ سمجھ دار ہو جائے تو اس کے سامنے ایسی حرکت نہ کرو جس سے بچے کے اخلاق خراب ہوں کیوں کہ بچّوں میں نقل کرنے کی عادت زیادہ ہوتی ہے جو ماں باپ کو کرتے دیکھتے ہیں وہی کرنے لگتے ہیں ان کے سامنے نماز پڑھو قرآن کی تلاوت کرے اپنے ساتھ مسجد میں لے جاؤ اُن کو بزرگوں کے قصے کہانیاں سناو 
(اسلامی زندگی: ص، ۳۰)