مسائل شرعیہ

فقہ کے متعلق سوالات وجوابات

حنا فاطمہ قادریہ
02 ستمبر 2026
32
0

سوال نمبر 31: فقہ کی تعریف کریں ؟
جواب:
فقہ کے معنی جاننے کے آتے ہیں اور اصولین کی اصطلاح میں فقہ کا اطلاق تفصیلی دلائل سے منتخب کردہ جزیات کو جان لینے پر ہوتا ہے جبکہ فقہا ہر ایسے شخص کو فقیہ کہنا روا سمجھتے ہیں جس کو جزی مسائل کے احکامات یاد ہوں اور اہل حقیقت اولیاء اللہ کے نزدیک فقیہ وہ شخص ہے جس کے علم و عمل میں مطابقت پائی جائے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا مقولہ مشہور ہے کہ فقیہ وہ ہے جو دنیا سے اعراض کرنے والا اخرت کی طرف رغبت رکھنے والا اور اپنے عیوب سے باخبر ہو ۔ 
( فتویٰ نویسی: ص،56)
سوال نمبر 32: علوم کے مراتب کتنے ہیں ان میں سے کم سے کم دو کی تعریف کریں؟
جواب :
 علوم کے مراتب چھ ہیں : 
فرض عین ،فرض کفایہ، مستحب، حرام، مکروہ اورمباح:
مکروہ: ایسے غزلیہ اشعار اور انسانوں کا علم جن میں اس کو محبت کی فرضی داستانیں بیان کی جائیں مکروہ ہیں۔
حرام: جادوگری کہانت رمل وجغر علم فلسفہ کے بعض اجزا کا جانناشرعا حرام ہے ۔
 ( فتویٰ نویسی:ص،64)
سوال نمبر 33: تفقہ کے سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کیا مشورہ ہے؟
جواب: 
اس سلسلے میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا تفقهوا قبل ان تسودوا کہ سرداری حاصل کرنے سے پہلے ہی تفق کی صفت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا اگر تم نے نو عمرے میں علم نہ سکھا تو بڑے ہونے کے بعد تمہیں کسی کی شاگردی کرتے ہوئے شرم آئے گی اور تم ج کے ج ہی رہ جاؤ گے اور اگر اپنے سے کم عمر سے مسئلہ پوچھو گے تو اس کی وجہ سے تمہارے عزت پر حرف ائے گا اور لوگ اس پر طعنہ دیں گے ۔ 
( فتویٰ نویسی:ص،65)
سوال نمبر 34: احسن الفتاوی کا مختصر تعارف پیش کریں؟ 
جواب:
احسن الفتاوی یہ حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدویانوی رحمت اللہ علیہ کیا علم و تحقیقی فتاوی کا نہایت معتبر اور مستند مجموعہ ہے،جو اٹھ جلدوں میں شائع ہوا چونکہ اس کی ترتیب و تہذیب خود صاحب فتوی نے کی ہے اس لیے اس میں تکرار بالکل نہ ہونے کے برابر ہے اور تحقیق و تخریج پر پہلے ہی توجہ دی گئی ہے مفتی صاحب موصوف کا مزاج مدلل گفتگو کرنے کا ہے اس لیے مجموعہ علماء و مفتیان کی نظر میں بہت قابل اعتماد اور باوزن سمجھا جاتا ہے۔
( فتویٰ نویسی: ص،76)
سوال نمبر 35: تفسیر کے کم سے کم تین کتابوں کے نام اور ان کا تعارف پیش کریں؟
جواب :
 تفسیر ابن کثیر: تفسیر القران بالقران اور تفسیر القران بالاحادیث والآثار اس کتاب کی خصوصیت ہے علامہ ابن کثیر نہر ایت سے متعلق احادیث اور ان کے ترک کو جمع کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔
 الجامع لاحکام القران للقرطبی : امام قرطبی کی یہ تفسیر مضامین کے تناو اور حسن ترتیب کے اعتبار سے بے مثال ہے لیکن عام تفسیروں کی طرح اس میں بہت سی اسرائیلی باتیں اور ضعیف اقوال و روایت بھی جمع کر دی گئی ہیں جن سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ 
ترجمہ شیخ الہند مع فوائد عثمانی: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی نے حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی کے اردو ترجمہ کی تسہیل فرمائی ہے یہ دور حاضر کا مقبول ترین اردو ترجمہ قران پاک ہے اس کے ڈھائی پاروں کے مختصر اور جامعہ فوائد خود حضرت شیخ الہند کے تحریر فرمدہ ہیں جبکہ اخر تک فوائد کی تکمیل کا فریضہ اپ کے جیل القدر شاگرد حضرت علامہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے انجام دیا ہے ۔
( فتویٰ نویسی: ص،79)
سوال نمبر 36: صحاح ستہ کے علاوہ ذخیرہ احادیث میں سے کم سے کم دو کا تعارف پیش کریں؟
جواب :
 شعب الایمان للبیہقی: امام ابوبکر البیہقی کی یہ معرکۃ الارا کتاب بڑی مقدار میں احادیث شریفہ اثار صحابہ اور اقوال سلف کو شامل ہے بالخصوص اصلاح موضوعات پر اس کتاب میں مرتب مواد موجود ہے اور بہت سی نادر روایات اور حکمت کی باتیں بھی اس میں ملتی ہیں یہ کتاب برس دراز تک مخطوطہ کی شکل میں رہی پھر ممبئی سے اس کی اشاعت ہوئی مگر وہ ناقص تھی اب بیروت سے نو جلدوں میں شائع ہوئی ہے جس میں ایک جلد فہرست بھی شامل ہے اس کی امدہ کل روایت کی تعداد 1169 ہیں ۔
مصنف ابن ابی شیبہ : یا علامہ ابوبکر عبداللہ ابن محمد ابی شیبہ کی معرکۃ الارا تالیف ہے جو حیدراباد کے دارو احیاء المعارف العثمانیہ ہوئی تھی پھر اس کا عکس پاکستان سے شائع ہوتا رہا اس کے بعد اب یہ کتاب 1995 اس میں بیروت سے نئے ٹائپ اور عبدالسلام شاہین کی تصحیح کے ساتھ سات جلدوں میں شائع ہوئی ہے پھر اس کی دو جلدیں اس کے علاوہ ہیں اس کتاب میں احادیث و اثار کی تعداد 32930 ہے۔
( فتویٰ نویسی ص،83)
سوال نمبر 37: دوران افتاء کبھی دوسرے ائمک کی ارا کی تحقیق کی بھی ضرورت پیش اتی ہے ایسی صورت میں کن کتابوں سے رجوع کرنا مفید ہوگا؟
جواب : 
مختلف ائمہ کے اقوال کی تلاش کے لیے جن کتابوں کا مطالعہ مفید ہے ان میں سے چند یہ ہیں: مختصر اختلاف العلماء ،موسوعۃ الفقیہ،بدایۃ المجتہد،المغنی، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ۔
( فتویٰ نویسی ص،100)
سوال نمبر 38: حنفیہ کے مسائل کے دلائل کہاں تلاش کریں؟
جواب :
 مسائل حنفیہ کے نقلی وقلی دلائل تلاش کرنے کے لیے ہدایہ، بدائع اور حنفی علماء کی لکھی ہوئی شروحات حدیث مثلا عمدۃ القاری ،مرقاۃ المفاتیح طیبی، بذل المجہود،اوجزالمسالک، فتح الملہم وغیرہ کا مطالعہ کرنا چاہیے اس کے علاوہ چند کتابیں اور بھی ہیں جو صرف اسی مقصد پہ لکھی گئی ہیں وہ بھی مطالعہ کے لیے مفید ہیں : تقریب شرح معنی الاثار،نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ، آثار السنن، اعلاء السنن،الفقہ الحنفی وادلتہ ۔
( فتویٰ نویسی: ص،100)
سوال نمبر 39: احکام شریعت کے اسرار و حکم کی واقفیت پر مشتمل چند کتابوں کے نام اور تعارف پیش کریں؟ 
جواب :
 احیا علوم الدین: حجت الاسلام ابو حامد محمد ابن محمد الغزالی الشافعی کہ یہ معرکۃ الارا اور شہرہ افاق کتاب نہ صرف مواعض و اصلاح نفس بلکہ شرعی اسرار و حکم کے بیان میں ممتاز حیثیت کی حامل ہے یہ چار زخم جلدوں پر مشتمل ہے اور عبادات معاشرت معاملات اور تذکرہ اخرت کے مضامین کا بھی بحا ذخیرہ ہے ترغیب و ترہیب سے متعلق احادیث میں چونکہ ہر طرح کی روایت اس میں جمع تھیں اس لیے بات کے فاضل علماء نے اس کتاب میں امدہ احادیث کی تخریج کا کام انجام دیا جس میں حافظ زین الدین عبدالرحیم ابن الحسین علیہ راقی کا کام سب سے نمایاں ہے موصوف نے اس موضوع پر دو کتابیں تعلیم فرمائی پھر علامہ کے شاگرد رشید حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس پر استدراک کرتے ہوئے کتاب لکھی نیز علامہ قاسم بن قطلوبغا نے بھی اس ادراکات پر مشتمل کتاب لکھی احیا العلوم کا ترجمہ مولانا محمد احسن صاحب صدیقی نانا دبی نے ذخیم چار جلدوں میں کیا ہے جو مستند اور قابل مطالعہ ہے۔
حجۃ اللہ البالغہ: حجت الاسلام حضرت اقدس مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی یہ نابغہ روزگار کتاب اپنے موضوع پر حرف اخر کی حیثیت رکھتی ہے علمائے راسخین نے اس کتاب کی عظمت کو تسلیم کیا ہے اور اسے اسلام کی صداقت کی ایک عظیم نشانی قرار دیا ہے علم میں گیرائی منشا شریعت سے واقفیت اور شریعت کے اسرار و حکم کی معرفت کے لیے یہ کتاب بے نظیر و بے مثال ہے۔
( فتویٰ نویسی:ص،106)
سوال نمبر 40: حوالہ جات کی درجہ بندی کی کیا صورت ہوگی؟
جواب :
 اپنے فتاوی اور فقہی تحریروں کو بازن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کتابوں کے حوالہ دیتے وقت درجہ بندی کا لحاظ رکھیں، تو اس میں پہلا درجہ فقہ کی اصل کتابوں مثلا شامی، بحر اور بدائع وغیرہ کا ہے، تو دوسرا درجہ وہ رسائل ہے جو کسی خاص موضوع کی تحقیق پر مبنی ہو جیسے رسائل ابن عابدین،رسائل ابن نجیم،جواہر الفقہ وغیرہ،وہیں تیسرا درجہ فتاوی اور مسائل کے عام مجموعے کا ہے مثلا فتوی رشیدیہ،امداد الفتوی کتاب المفتی وغیرہ،چوتھا درجہ فتوی سے منتخب مجموعہ جو اج کلام تر پر کتب خانوں میں دستیاب ہیں جیسے نماز کےمسائل ،مسائل زکوۃ وغیرہ۔پانچواں درجہ رسائل و جرائدمیں چھپنے والے مضامین کا ہے ان پانچوں درجوں میں پہلا درجہ سب سے زیادہ بازن ہے اور بقیہ درج دراصل اسی درجے کی کتابوں سے ماخوذ ہیں اس لیے ایک مفتی کی نظر رسالتا اسی اول درجے کی کتابوں پر رہنی چاہیے۔ ( فتویٰ نویسی: ص،111)
سوال نمبر 41: فتوی نویسی میں کس درجہ احتیاط کرنا چاہیے ؟ 
جواب :
 فتوی نویسی کا کام نہایت عظیم الشان اور باعث اجر و ثواب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر نہایت نزاکت بھی رکھتا ہے اس لیے کہ مفتی کی حیثیت اللہ تعالی اور بندوں کے درمیان واسطے کی ہے اگر وہ صحیح مسئلہ بتائے تو اپنی ذمہ داری سے عہدہ بر آر ہو کر مستحق اجر و ثواب ہوگا اور اگر خدا نہ خواستہ غلط مسئلہ بتائے تو مستفتی کے غلط عمل کا وبال بھی اسی پر ہوگا اس لیے فتوی دینے میں نہایت احتیاط لازم ہے جب تک مسئلے پوری طرح معلوم نہ ہو ہر فتوا نہ دے اور لاعلمی کے اظہار میں کوئی عار محسوس نہ کریں ، اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص بغیر علم کے فتوی دے اس پر فرشتے لعنت بھیجتے ہیں۔
( فتویٰ نویسی:ص،114)
سوال نمبر 42: گمراہی کی بنیاد کیا ہے؟
جواب :
 عموما گمراہی کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے کہ بعض لوگ محض کتابوں پر بھروسہ کر کے اور اپنے ناقص مطالعہ پر اعتماد کر کے خود ہی کو دینی مسائل میں رائے زنی کا اہل سمجھنے لگتے ہیں اور اس بات پر اس قدر جولانی دکھاتے ہیں کہ بڑے بڑے ماہرین اہل فن اور معتبر مفتیان کرام تک کو خاطر میں نہیں لاتے یہ صورتحال بہت ہی نازک اور خطرناک ہوتی ہے اور ایسے کم علم اور جاہل مفتی نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کے گمراہی کا بڑا سبب بن جاتے ہیں حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اخر زمانہ میں لوگ جاہلوں کو اپنا مقتدہ بنا لیں گے جو بغیر علم کے فتوی دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے فاذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤوسا جهالا فسئلوا فافتوا بغير علم فظلوا واظلوا ۔
( فتویٰ نویسی: ص،158)
سوال نمبر 43: اسلام میں قانون سازی کی بنیاد کیا ہے ؟
جواب : 
اسلام میں قانون سازی کی چار بنیادیں ہیں جن پر تمام ہی فقہ اسلامی کے مسائل کا مدار رکھا جاتا ہے اور سب ائمہ متبوعین ان کو پیش نظر رکھتے ہیں نمبر ایک کتاب اللہ یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قران کریم جس کی غیر ماول اور محکم اور مفسر ایتیں بلا شبہ قطعی اور یقینی طور پر قابل انقیاد و اتباع ہیں ۔ اس بنیادی ماخذ شریعت سے احکامات و قوانین کی تخریج کے لیے حضرات فقہاء نے مختلف اعتبارات سے 20 قسمیں نکالی ہیں جنہیں معلوم کے بغیر احکام کو نہیں پہچانا جا سکتا: خاص، عام، مشترک، مؤول، ظاہر،نص، مفسر ،محکم ،خفی ،مشکل، مجمل، متشابہ ،حقیقت ،مجاز ،صریح، کنایہ، عبارت النص، اشارۃ النص، دلالت النص اقتضاء النص،انہیں تقسیمات کے اعتبار سے دراصل احکامات کا تعین ہوتا ہے۔
 ( فتویٰ نویسی: ص،245)
سوال نمبر 44: استحسان کے متعلق کچھ بتائیں؟
جواب :
 قیاس اگر ایسا ہو کہ سطحی نظر سے ہی اس کی معقولیت سمجھ میں اجائے تو اسے مطلق قیاس یا قیاس جلی کہتے ہیں لیکن اگر اس میں علت نکالنے میں زیادہ گہرائی اور گہرائی کی ضرورت ہو تو اسے قیاس خفی کہا جاتا ہے اسی قیاس خفی کا نام استحسان بھی ہے عام طور پر کتب فقہ میں استحسان اسی معنی میں مستعمل ہے ۔
(فتویٰ نویسی: ص،353)
سوال نمبر 45: قیاس اور استحسان کی دلیل کیا ہے؟
جواب:
قیاس اور استحسان کی اہمیت اور حجیت سے متعلق حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث سب سے زیادہ واضح ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ کو یمن بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو پوچھا کہ اگر کوئی مسئلہ تمہارے سامنے ائے تو تم کیسے فیصلہ کرو گے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا حضور نے فرمایا اگر اللہ کی کتاب میں حکم نہ پاؤ تو کیا کرو گے حضرت معاذ نے جواب دیا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا اپنے فرمایا اگر اس پر بنا پاؤ تو حضرت معاذ نے جواب دیا کہ اس وقت میں بیلا کسی پرواہ کے اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر حضرت معاذ کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے اس نے رسول اللہ کے قاصد کو ایسی بات کی توفیق دی جس پر رسول اللہ راضی ہیں، اس واقعے سے صاف معلوم ہو گیا کہ تشریع اسلام کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیاد قیاس اور اجتہاد بھی ہے جس کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تحسین فرمائی ہے اس طریقہ علم کا انکار کرنے سوائے ضد اور عناد کے کسی اور امر پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔
( فتویٰ نویسی:ص:،355)
سوال نمبر 46: مذاہب اربعہ میں انحصار کی کیا وجہ ہے؟
جواب:
 بڑا سوال یہ تھا کہ تقلید شخصی کس کی کی جائے تو تجربہ اور تحقیق سے امت سمر پر متفق ہوئی کہ جامعیت اور تدوین کے اعتبار سے حضرات ائمہ اربعہ کے مذاہب سے زیادہ کوئی مسلک اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا اس لیے چوتھی صدی میں اس بات پر اجماع ہو گیا کہ میں عربہ کے علاوہ کسی کی تقلید شخصی با ضابطہ نہیں کی جائے گی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ چاروں مذاہب جو مدون و مرتب ہیں ان کی تقلید پر اج تک امت کے معتبر افراد کا اتفاق چلا ارہا ہے اور اس میں جو مصالح ہیں وہ مخفی نہیں خاص کر اس زمانے میں جب کہ لوگوں کی ہمتیں کوتاہ ہو گئی ہیں اور خواہش نفس لوگوں کے قلوب میں جاگزیں ہو چکی ہے اور اپنی رائے کو ہی اچھی سمجھنے کا دور دورہ ہے ۔
(فتویٰ نویسی:ص،363)

سوال نمبر 47: علامہ شامی نے فتوی تاتارخانیہ کے حوالے سے ایک حنفی شخص کا کسی صاحب حدیث کے لڑکی کو نکاح کے پیغام دینے کے سلسلے میں جو واقعہ نقل کیا ہے اس واقعے کو آپ اپنے الفاظ میں بیان کریں ؟
جواب:
واقعہ یوں ہے کہ ایک حنفی شخص نے کسی صاحب حدیث کی لڑکی کو نکاح کا پیغام دیا اس صاحب حدیث نے جواب دیا کہ جب تک تم اپنے حنفی مذہب کو چھوڑ کر ہمارے مذہب کے مطابق فاتحہ خلف الامام اور رفع یدین وغیرہ پر عمل پیرا نہ ہو گے میں اپنی بچی تمہارے نکاح میں نہیں دوں گا حنفی نے ان شرائط کو مان لیا اور محض نکاح کی خاطر حنفیت چھوڑ کر صاحب حدیث کے زمرہ میں شامل ہو گیا اس واقعے کی خبر جب شیخ ابوبکر جوز جانی کو پہنچی تو انہوں نے سر جھکایا اور فرمایا کہ نکاح تو خیر درست ہو گیا لیکن مجھے خطرہ ہے کہ اخری وقت میں ان کا ایمان نہ جاتا رہے اس لیے کہ اس نے اپنے اس مذہب کا استخفاف کیا ہے جسے وہ حق سمجھے ہوا تھا،اور اس نے محض ایک بدبودار دنیا کے مردار کے حصول کی غرض سے ترک کر دیا ۔
( فتویٰ نویسی ص،368)
سوال نمبر 48: قران کی تعلیم پر اجرت لینا کیسا ہے؟
جواب: 
پہلے زمانے میں علوم قرانیہ کی تعلیم کے لیے جو حضرات علماء اپنے وقت کو فارغ کرتے تھے ان کے وظائف اسلامی حکومتیں بیت المال سے دیا کرتی تھیں لیکن یہ سلسلہ بند ہوا تو عام ضرورت پیش ائی کہ تعلیم و تعلم بھی جاری رہے اور علماء کی معاشی کفالت کا بھی انتظام ہو اس لیے کہ غرورہ مفت میں پڑھائیں گے تو معاش کا مسئلہ کیسے حل ہوگا اور اگر معاش میں لگیں گے تو پڑھائی کیسے چلے گی اور مشکل یہ تھی کہ مذہب احناف میں اطاعت پر اجارہ مطلقا ناجائز ہے جس میں تعلیم قران بھی شامل ہے اسی بنا پر متاخرین نے عام ضرورت کا احساس کرتے ہوئے دین کے نقصان کے اندیشے سے اس سلسلے میں موالک و شوافع کے مسلک کو اختیار کیا اور تعلیم قران کے اجرت جائز ہونے کا فیصلہ قرار دیا ۔
 ( فتویٰ نویسی ص،395)
سوال نمبر 49: بار بار ایک لفظ اتا ہے یعقوب عن ابی حنیفہ تو یہ یعقوب کون ہے اور ان کی کنیت کیا ہے؟
جواب:
 یعقوب یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام ہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے امام محمد کو ہدایت کی تھی کہ جب وہ امام ابو حنیفہ کے ساتھ ان کا ذکر کریں تو کنیت کے ساتھ نہیں بلکہ اصل نام ذکر کریں چونکہ امام ابو یوسف کی کنیت ہے ابو یوسف تو امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے نام ذکر کرنے کو کہا تھا کنیت نہیں اپنے استاد کے ادب کے پیش نظر انہوں نے ہدایت کی تھی یہی وجہ ہے کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ جب امام ابو یوسف کے حوالے سے امام ابو حنیفہ کی کوئی روایت نقل کرتے ہیں تو لکھتے ہیں يعقوب عن ابي حنيفه (وهو اسم ابي يوسف اكبر واصحاب الامام) ۔ 
(فتویٰ نویسی:ص،190)
سوال نمبر 50: امام زفررحمت اللہ علیہ کے مفتی اقوال کتنے ہیں مختصر ان کا ذکر کریں ؟
جواب:
علامہ شامی نے رد المختار میں ان مسائل کی تفصیل ذکر کی ہے جن میں امام ظفر رحمۃ اللہ علیہ کا قول پر فتوی دیا گیا ہے ان کی نظر میں ایسے مسائل کی تعداد کل 20 ہے جن کا اجمال کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے: 
 ۱:مریض کا نماز میں تشہد کی حالت کی طرح بیٹھنا.۔
۲: متنفل کا تشہد کی طرف بیٹھنا۔
۳: زوجہ مفقود کے نفقے کا حکم 
۴: بیع مرابحہ میں عیب جدید کی نشاندہی اور اصل قیمت کا بیان۔
۵: وکیل بالخصوم وکیل بالقبض نہ ہوگا۔
۶: بادشاہ تک ناحق شکایت پہنچانے والا ضامن ہوگا۔
۷: مفعول بہ کو مجلس قضا میں سپرد کرنا۔
۸: تہ شدہ کپڑے کو اوپر سے دیکھنا کافی نہیں۔
۹: گھر کا خارجی حصہ دیکھنے سے خیار رویت ساقط نہ ہوگا۔
۱۰: گھٹیا درہموں کے بدلے میں عمدہ درہم ادا کرنا ۔
۱۱: طلب خصومت میں ایک مہینے کی تاخیر سے حق شفعہ کا سقوط۔
۱۲: لقطہ کو روکنے کے بعد ہلاکت کی صورت میں نفقہ کا سقوط۔
۱۳: انت طالق واحدۃ فی ثنتین کہنے کا حکم۔
۱۴: غلام کی تدبیر کو موت یا قتل پر معلق کرنا۔
۱۵: نکاح موقت کا حکم۔
۱۶: دینار اور درہم کا وقت۔
۱۷: اجنبیہ سے بیوی سمجھ کر وطی کر لینے پر حد کا مسئلہ۔
۱۸: محلوف علیہ کے وکیل کو عاریت پر دینا موجب حنث ہے۔
۱۹: عام نمازوں میں وقت نکلنے کے خوف سے تیمم کا جواز۔
۲۰: ضرورۃ گوبر کی طہارت کا حکم۔
نوٹ: یہ 20 مسائل علامہ شامی کی صراحت کے مطابق نقل کر دیے گئے ہیں مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں تین چار چھ سولہ اور بیس نمبر کی باتیں موضوع سے خارج ہیں اس لیے کہ ان میں مفتی بہ قول تنہا امام زفر کا نہیں ہے اور مسئلہ نمبر آٹھ میں آج کے عرف کے اعتبار سے ظاہر مذہبی پر فتوی دینا چاہیے نہ کہ امام ظفر کے قول پر لہذا مذکورہ مسائل میں صرف چودہ مسائل قابل لحاظ ہیں۔
( فتویٰ نویسی:ص،191)