مسائل شرعیہ

متفرق مسائل

صالحہ بانو بنت محمد اعظم
49
2
١١) روزے کی حالت میں دوا کا ٹیکہ لگوانا جائز ہے؟
جواب: جی ہاں روزے کی حالت میں دوا کا ٹیکہ لگوانا جائز ہے خواہ رگ میں لگایا جائے یا گوشت میں۔
(فتاویٰ فیض الرسول:ح 1؛ ص 477)
نکاح و خانگی مسائل
١٢) نکاح میں ولی کی رضامندی کتنی ضروری ہے؟
جواب: نکاح میں ولی کی رضامندی کی حیثیت اور ضرورت کے بارے میں فقہی مکاتبِ فکر کی آراء مختلف ہیں؛ جمہور علماء (شافعی، مالکی، حنبلی) کے نزدیک ولی کی رضامندی نکاح کی صحت کے لیے شرط ہے، جبکہ فقہ احناف کے نزدیک عاقل اور بالغ عورت اپنا نکاح خود بھی کر سکتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔ [سنن ابي داود:ح: 2085]
١٣) عورت کا مہر معاف کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب:۔ عورت کا مہر معاف کرنا شرعاً جائز ہے اگر عورت ہوش حواس کی درستگی میں راضی خوشی سے معاف کر دے تو معاف ہو جائے گا اور اگر مارنے کی دھمکی دے کر معاف کرایا اور عورت نے مار کے خوف سے معاف کر دیا تو اس صورت میں شرعاً معاف نہ ہوگا ۔
(فتاویٰ فیض الرسول: ج 1، ص 648)
١٤) خلع اور طلاق میں کیا فرق ہے؟
جواب: مال کے بدلے میں نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں۔
نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہو جاتی ہے۔ اس پابندی کے اُٹھا دینے کو طلاق کہتے ہیں۔ 
(بہار شریعت:ح 8؛ ص 196/112)
١٥) شوہر کی نافرمانی کی شرعی حدود کیا ہیں؟
جواب: شریعت میں شوہر کی جائز اور نیک باتوں میں اطاعت کرنا بیوی پر فرض ہے، جبکہ اللہ کی نافرمانی یا گناہ کے کام میں شوہر کا حکم ماننا جائز نہیں ہے۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: 
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ
 ( سورہ نساء: 34)
مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے۔( کنزالایمان)
پردہ و لباس
١٦) عورت کے لیے پردے کی شرعی حدود کیا ہیں؟
جواب:عورت کے لیے شرعی پردے کی بنیادی حد یہ ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کے سامنے اپنا پورا جسم چھپائے، سوائے چہرے اور دونوں ہاتھوں کے۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
 وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪
-( سورہ نور: 31)
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔
 ( کنزالایمان)
١٧) کیا محارم کے سامنے بھی پردے کے کچھ آداب ہیں؟
جواب: جی ہاں، محارم کے سامنے اجنبی مردوں کی طرح مکمل نقاب یا حجاب فرض نہیں ہے، لیکن پھر بھی حیا اور پردے کے کچھ بنیادی آداب و حدود کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
 وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ 
( سورہ نور: 31)
 اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے۔
 ( کنزالایمان)
١٨) عورت کا میک اپ کر کے باہر نکلنا کیسا ہے؟
جواب: عورت کا میک اپ کر کے اور بناؤ سنگھار کے ساتھ نامحرم مردوں کے سامنے گھر سے باہر نکلنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اسلام نے عورت کی آبرو اور معاشرے کی پاکیزگی کی حفاظت کے لیے پردے اور عدمِ زینت کا حکم دیا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: 
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى 
( سورہ احزاب: 33)
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔ 
( کنزالایمان)
تعلیم و ملازمت
١٩) عورت کا باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب: عورت کا باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنا شرعاً جائز ہے۔ عورت کا شرعی پردے اور حدود کی پابندی کرتے ہوئے گھر سے باہر جا کر تعلیم حاصل کرنا بالکل جائز اور درست ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے۔
 (سنن ابن ماجہ: 224)
٢٠) خواتین کا مخلوط ماحول میں ملازمت کرنا جائز ہے؟
جواب: خواتین کا غیر محرم مردوں کے ساتھ بلا ضرورت مخلوط ماحول میں ملازمت کرنا شرعاً ممنوع اور ناجائز ہے، کیونکہ اس سے بے پردگی اور فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "خبردار! کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے، ورنہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
 (سنن ترمذی، ح: 2165)
واللہ اعلم باالصواب