مسائل شرعیہ

اردو زبان

حنا فاطمہ قادریہ
01 ستمبر 2026
51
0

سوال نمبر 21: زبان کی بنیاد کس پر ہوتی ہے ؟
جواب : زبان کی بنیاد اہل زبان کے استعمال پر ہوتی ہے۔
( قواعد املا وانشاء:ص،13)
سوال نمبر 22: قواعد اور زبان میں پہلے کس کا وجود ہوتا ہے؟
جواب : قواعد اور زبان میں پہلے زبان کا وجود ہوتا ہے پھر بعد میں قواعد وضع کیے جاتے ہیں۔
 (قواعد املا وانشاء: ص،13)
سوال نمبر23: اردو سے متعلق جو قواعد تحریر ہوئے ہیں وہ کتنے قسم کے ہیں ؟ ان کی تعریف کریں؟
جواب : اردو سے متعلق جو قواعد تحریر ہوئے ہیں اور تین قسم کے ہیں: 
   ۱۔ قواعد املا 
 ۲۔ قواعد صرف 
 ۳۔ قواعد نحو 
قواعد املا میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اردو میں استعمال ہونے والے حروف اور الفاظ کس طرح لکھے جائیں؟
قواعد صرف میں اسم فعل حرف کی انفرادی حالت اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی کیفیت بتائی جاتی ہے۔
قواعد نحو میں جملوں کے بنانے اور ایک دوسرے سے ملانے کی کیفیت کا بیان ہوتا ہے۔
 ( قواعد املا وانشاء: ص،13)
سوال نمبر24: ہائےملفوظ اور غیر ملفوظ کے میں فرق بیان کریں؟
جواب:  لفظ کے اخر میں انے والی ”ہ“کبھی ملفوظ ہوتی ہے یعنی اپنی اواز دیتی ہے اور کبھی خفی غیر ملفوظ ہوتی ہے یعنی وہ اپنی اواز نہیں دیتی،اگر ان دونوں کے درمیان فرق ظاہر کرنا مقصود ہو تو ہائے ملفوظ کے نیچے لٹکن لگا دیا جاتا ہے ورنہ اس کی بھی ضرورت نہیں ہے ،جیسے بہنا مصدر بہ٬، سہنا سے سہ٬، کہنا سے کہ٬ ۔
(قواعد املا وانشاء: ص،40)
سوال نمبر 25: اضافت کے متعلق اپنی معلومات لکھو؟
جواب:اضافت کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مضاف کے اخری حرف پر اضافت کا زیر ہو، جیسے ایک لفظ ہے ”سکون“ اس کا اخری حرف نون ہے کہ اضافت کی صورت میں نون پر زیر دے کر مثلا سکون دل پڑھیں گے ،ایسے لفظوں کے املا میں کوئی اختلاف نہیں ہے ،بعض صورتوں میں اہل زبان و املا کا اختلاف ہے۔ 
( قواعد املا وانشاء: ص،50)
سوال نمبر 26: ”کم تر ، بیش تر، ستم گر، پیش تر، پاس باں، جان ور، تاج ور، “ ان الفاظ کو کس نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ان کے لکھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟
جواب :
  ان الفاظ کو مشتقات کہتے ہیں ان کے لکھنے کا دونوں طریقہ رائج ہے یعنی الگ الگ بھی اور ایک ساتھ بھی البتہ دونوں کو ملا کر لکھنا چاہیے جیسے: بیش تر کو بیشتر، ستم گر کو ستمگر،پاس بان کو پاسبان،وغیرہ
 (قواعد املا وانشاء: ص، 58)
سوال نمبر 27: مضمون کے کتنے اجزاء ہوتے ہیں اور کیا کیا ہوتے ہیں ؟
جواب: مضمون کے تین جز ہوتے ہیں:
    ۱: تمہید 
  ۲:نفس مضمون 
   ۳: اختتامیہ 
تمہید: یہ مضمون کا اہم اور پہلا حصہ ہے اس میں نفس مضمون سے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے چند ایسے موثر اور زوردار جملے لکھے جاتے ہیں جن سے پڑھنے والوں کے ذہن اصل موضوع کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی دلچسپی بھی بڑھے۔
نفس مضمون: یہ اصل مضمون کے درمیانی حصہ ہوتا ہے اس میں موضوع سے متعلق تفصیلی گفتگو کی جاتی ہے مضمون نگار کو چاہیے کہ اپنی بات پیش کرنے کے لیے جو بھی پہلو اختیار کرے وہ دلیلوں سے مزین اور حقائق کی روشنی میں ہو چونکہ یہ حصت طویل ہوتا ہے اس لیے اسے متعدد پیراگراف میں تقسیم کر لینا چاہیے۔
اختتامیہ: یہ مضمون کا اخری حصہ ہوتا ہے اس میں خیالات کا نچوڑ اچھے انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والا متاثر ہو اور اسانی سے مضمون پراپنی رائے قائم کر سکے یا اس سے کچھ نتیجہ اخذ کر سکے ان تینوں اجزاء کے درمیان ایسا مضبوط تعلق ہونا چاہیے کہ پڑھنے والی کو کہیں بھی بے ربطی کا احساس نہ ہو ۔
( قواعد املا وانشاء: ص،70)
سوال نمبر 28: کسی مضمون کو کیسے پھیلائیں؟
جواب : آپ جب کوئی عبارت لکھیں تو اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ ایک جملے کا دوسرے جملے سے ربط ہو اور ان کے درمیان مناسبت بھی پائی جائے ترتیب عمدہ اسان اور معقول ہو اور پورے مضمون میں یکسانی پائی جائے جیسے ایک جملہ ہے رمضان خیر و برکت کا مہینہ ہے اسے بھارت کو پھیلانا چاہیں تو یہ صورت اختیار کریں گے،
1 رمضان خیر و برکت والا مہینہ ہے ۔
2 اسم مبارک مہینے میں کوئی بھی عمل مستحب فرض کے برابر ہوتا ہے۔
 3 اور فرض 70 فرض کے برابر ۔
4 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کو تین حصوں میں تقسیم فرما کر ارشاد فرمایا اس کے پہلے دس دن رحمت نازل ہونے کے ہیں دوسرے دس دن گناہوں سے بخشش کے ہیں اور تیسرے 10 یا نو دن جہنم سے ازادی کے ہیں ۔
(قواعد املا وانشاء: ص، 84)
سوال نمبر 29: مضمون نگاری کی مشق کیسے کریں؟
جواب: مشقت طریقہ یہ ہے کہ پہلے دیا ہوا موضوع کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے اس موضوع کے تحت کون کون سی چیزیں ا سکتی ہیں اس کی روشنی میں مرکزی عنوان کے خاکے بنا لیں پھر اسے پھیلانا شروع کریں تاکہ ایک مضمون کی شکل ہو جائے مضمون تمہیدی کلمات سے شروع کریں اور لفظ مضمن پر گفتگو کے بعد اختتامیہ کی عبارت پر ختم کریں اس طرح مضمون پرکشش ہوگا اور فائدہ سے بھرپور بھی۔
 ( قواعد املا وانشاء: ص،88)
سوال نمبر 30: ان علامتوں کے نام بتائیں! 
۔ ، ؛ : :- ؟ ! () ”“ 
جواب: 
  اس کا نام کامل وقفہ ہے
، اس کا نام سکتہ ہے
؛ اس کا نام نیم وقفہ ہے
: اس کا نام تفسیریہ ہے
:-اس کا نام تفصیلیہ ہے 
؟اس کا نام استفہامیہ ہے
! اس کا نام ندا ئیہ ہے
() اس کا نام قوسین ہے
“” واوین ہے۔
(قواعد املا وانشاء: ص،61)