مسائل شرعیہ

شرعی رہنمائی

صباءکوثر سلطانی
01 ستمبر 2026
89
0
سوال نمبر 1۔ کافرین کے فوت شدہ بچوں کا کیا حکم ہے؟ کیا محشر میں وہ اپنے والدین کے ساتھ جہنم میں جائیں گے یا جنت میں؟
جواب:حدیثِ شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مشرکین کے بچوں کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: "اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔
یعنی اگر یہ بچے بڑے ہو کر کافر ہوتے تو جہنمی ہوتے اور اگر مؤمن ہوتے تو جنتی۔ چونکہ یہ فطرت پر پیدا ہوئے اور ان پر شرعی احکام لاگو نہیں ہوئے، اس لیے اکثر علماء کے نزدیک وہ اپنے ماں باپ کے تابع ہو کر اَعراف میں نہیں رہیں گے بلکہ جنتی ہوں گے، اور جنت میں اہلِ جنت کے خدام ہوں گے۔ کسی کو بلا قصور اللہ عذاب نہیں دیتا۔
 (فتاویٰ فخر ازہر: ج 1 ؛ ص 77)
سوال نمبر 2۔ اگر کوئی گستاخِ نبی پاک ﷺ گستاخی کرنے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں؟
جواب:۔ گستاخِ رسول کافر و مرتد ہے، اس کی توبہ صرف توبہ ہی نہیں بلکہ ایسے شخص پر تجدیدِ ایمان، تجدیدِ نکاح اور تجدیدِ بیعت لازم ہے۔ اگر توبہ نہ کرے تو ایسے شخص پر واجب القتل ہے، لیکن اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔
(فتاویٰ فخر ازہر: ج 1 ؛ ص 89)
سوال نمبر 3۔ سعودی عرب میں سنت مؤکدہ نہیں پڑھتے ان کے بارے میں کیا حکم ہے۔
جواب:۔ سنت مؤکدہ کا ایک بار ترک کرنے والا مستحق ملامت ہے اور بار بار ترک کرنے والا فاسق معلن ہے استاذ الفقها حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی۔ بلا عذر ایک بار بھی ترک کرے تو مستحق ملامت ہے اور ترک کی عادت کرے تو فاسق ، مردود الشہادہ مستحق نار ہے۔ اور جہنم کا حقدار ہے۔ اور بعض ائمہ نے فرمایا: کہ وہ گمراہ ٹھہرایا جائے گا اور گنہگار ہے، اگر چہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے۔
تلویح میں ہے، کہ اس کا ترک قریب حرام کے ہے۔ اس کا تارک مستحق ہے کہ معاذ اللہ شفاعت سے محروم ہو جائے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میری سنت کو ترک کرے گا ، اسے میری شفاعت نہ ملے گی سنت مؤکدہ کو سنن الہدی بھی کہتے ہیں۔
(فتاویٰ فخر ازہر: ج 1؛ ص 221/22)
سوال نمبر 4۔ کیا نماز میں ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے میں نماز ہو جاتی ہے؟
جواب:۔ ٹخنوں نیچے کپڑا رکھنا اگر تکبر کے لیے ہے تو حرام و مکروہ تحریمی ہے اور اگر تکبر کی نیت سے نہیں تو مکروہ تنزیہی ہے ۔
(فتاویٰ فخر ازہر: ج 1؛ ص 231)
سوال نمبر 5۔ رومال یا مفلر سے داڑھی چھپا کے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ 
جواب:۔ حالت نماز میں کان چھپانے میں کوئی حرج نہیں مگر داڑھی چھپانا مکروہ ہے کیوں کہ حضور ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ۔
(فتاویٰ فخر ازہر: ج 1؛ ص 231/232)
سوال نمبر 6۔ کیا 13 سال کے لڑکے کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟
جواب:۔ نابالغ کی امامت بالغ لوگوں کے لیے شرعاً درست نہیں ہے؛ البتہ اگر اس لڑکے کے اندر علامت بلوغ نہیں پائی گئی اور نہ ہی چاند کے حساب سے اس کی عمر 15 سال مکمل ہوئی تو اس کے پیچھے نماز صحیح نہیں ہوگی۔
 (فتاویٰ فخر ازہر: ج 1؛ ص 203)
سوال نمبر 7۔ کیا فلم دیکھنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور کیا نماز ہو جائے گی ؟
جواب:۔ فلمیں دیکھنا گناہ ہے اور اگر کوئی علی الاعلان فلم دیکھے تو ایسے فلم دیکھنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کہ وہ فاسق ملعن ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔
 (فتاویٰ فخر ازہر: ج 1؛ ص 201/202)
سوال نمبر 8۔ جھوٹ بولنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:۔ جھوٹ بولنے والے امام کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور جو شخص علانیہ فسق و فجور کرتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ 
(فتاویٰ فخر ازہر: ج 1؛ ص 196)