کیا آپ شرکِ اصغر کو جانتے ہیں؟
پیارے آقا و مولا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ»
یعنی:"مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے، وہ شرکِ اصغر ہے۔"
صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا:«يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ؟»یعنی:"یا رسول اللہ ﷺ! شرکِ اصغر کیا ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا "الرِّيَاءُ"یعنی: "ریاکاری۔"
اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ ریاکاری ہی شرکِ اصغر ہے اور اس سے سختی کے ساتھ بچنا چاہیے۔
اور اگر آج ہم اپنا اور اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو شاید ہمیں محسوس ہو کہ ریا اور دکھاوے کا رجحان ہمارے معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے۔
ہم اپنی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی نیکی بھی لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے لگے ہیں۔ کسی کی مدد کی، صدقہ کیا، کسی کو سہارا دیا تو فوراً اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا۔
افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب بعض لوگ اپنی عبادات تک کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے لگتے ہیں۔
پیارے مسلمانو!
ایک مرتبہ اپنے دل سے ضرور پوچھیں:
کیا ہم یہ نیکیاں واقعی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں؟
کیا ہماری نماز، روزہ، حج، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہیں، یا ہم لوگوں کی تعریف، واہ واہ، ویوز اور چند فالوورز کے لیے یہ سب کر رہے ہیں؟
یاد رکھیے! اعمال کی قدر و قیمت صرف ان کے ظاہری حسن سے نہیں بلکہ نیت کے اخلاص سے ہوتی ہے۔
ہماری ہر نیکی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہونا چاہیے۔ ہمیں لوگوں کی تعریف نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا مطلوب ہونی چاہیے۔
اگر کوئی عمل محض لوگوں کو دکھانے اور ان کی تعریف حاصل کرنے کے لیے کیا جائے تو ایسا عمل اجر سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔
اس موقع پر ایک حدیثِ پاک کا مفہوم ملاحظہ فرمائیے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہؓ حدیث بیان کرنے لگے تو شدتِ خوف سے رونے لگے، یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئے۔ کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک حدیث بیان فرمائی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا تو سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کو بلایا جائے گا:
(1) وہ شخص جس نے قرآن پڑھا اور پڑھایا۔
(2) وہ شخص جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا۔
(3) وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے بہت مال عطا فرمایا۔
پہلے قرآن والے شخص کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور پوچھے گا:
"تو نے میری دی ہوئی نعمت کے ساتھ کیا عمل کیا؟"
وہ عرض کرے گا:"میں نے قرآن پڑھا اور پڑھایا اور تیرے لیے اسے پڑھتا رہا۔"
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:"تو نے جھوٹ کہا؛ تو نے قرآن اس لیے پڑھا تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں، اور دنیا میں تجھے قاری کہا جا چکا۔"
پھر اسے حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو بظاہر اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا:"تو نے کیا عمل کیا؟"
وہ عرض کرے گا:"میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا۔"
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:"تو نے جھوٹ کہا؛ تو نے اس لیے جنگ کی تھی کہ لوگ تجھے بہادر کہیں، اور دنیا میں تجھے بہادر کہا جا چکا۔"
پھر اسے بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
پھر مالدار شخص کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور پوچھے گا:"تو نے میرے دیے ہوئے مال کے ساتھ کیا عمل کیا؟"وہ عرض کرے گا:"میں نے تیرے لیے صدقہ کیا اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کی۔"
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:"تو نے جھوٹ کہا؛ تو نے یہ سب اس لیے کیا تھا کہ لوگ تجھے سخی کہیں، اور دنیا میں تجھے سخی کہا جا چکا۔"
پھر اسے بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے انہی تین لوگوں کے ذریعے جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔"
جامع ترمذی، حدیث: 2382
پیارے مسلمانو!
اس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نیک اعمال کے ساتھ اخلاصِ نیت بے حد ضروری ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے ہر عمل سے پہلے اور بعد میں اپنی نیت کا جائزہ لیتے رہیں۔
اگر ہم کسی کی مدد کریں تو اللہ کی رضا کے لیے کریں۔
صدقہ دیں تو اللہ کی رضا کے لیے دیں۔
قرآن پڑھیں تو اللہ کی رضا کے لیے پڑھیں۔
نماز ادا کریں تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ادا کریں۔
لوگ تعریف کریں یا نہ کریں، ہمیں اس کی فکر نہیں ہونی چاہیے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے۔
اللہ پاک ہمیں ہر قسم کے شرک، ریا اور دکھاوے سے محفوظ فرمائے، ہمارے اعمال میں اخلاص عطا فرمائے اور ہماری تمام نیکیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
بنت محمد حنیف