ہر نعمت اپنے ساتھ ایک امتحان بھی لاتی ہے، اور سوشل میڈیا اس دور کا شاید سب سے بڑا امتحان ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں ایک کلک پر علم بھی مل سکتا ہے اور گناہ بھی، ہدایت بھی مل سکتی ہے اور گمراہی بھی۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی انگلیوں سے جنت کا راستہ تلاش کرتے ہیں یا جہنم کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔
افسوس! ہم روزانہ گھنٹوں اسکرین پر گزارتے ہیں، مگر کبھی سوچا کہ ان گھنٹوں کا حساب بھی دینا ہوگا؟ کتنی نمازیں سستی کی نذر ہو گئیں، کتنی تلاوتیں رہ گئیں، کتنی دعائیں مؤخر ہو گئیں، اور کتنے قیمتی لمحات صرف بے مقصد اسکرولنگ میں ضائع ہو گئے۔
یاد رکھیے! قیامت کے دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے کیا کیا، بلکہ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنا وقت کہاں گزارا۔ اگر یہی سوشل میڈیا قرآن کی ایک آیت سیکھنے، ایک حدیث پڑھنے، کسی کی اصلاح کرنے یا خیر پھیلانے کا ذریعہ بن جائے تو یہی عمل آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بھی بن سکتا ہے۔
رب تبارک و تعالیٰ ہر کلک، ہر نظر، ہر لفظ اور ہر نیت سے باخبر ہے۔ لوگ شاید آپ کی ہسٹری نہ دیکھ سکیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کی پوری زندگی کا ریکارڈ دیکھ رہا ہے۔
یاد رکھیں! سوشل میڈیا خود نہ اچھا ہے، نہ برا اصل سوال یہ ہے کہ آپ اس کا استعمال کس مقصد کے لیے کر رہے ہیں۔
اپنے موبائل کو صرف رابطے کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ اسے جنت تک پہنچنے کا وسیلہ بنا لیں اس میں آج کل علم حاصل کرنے کے ہر ذرائع موجود ہے لہٰذا اس کا صحیح استعمال کرکے اپنی آخرت سنواریں غلط استعمال کرکے اپنی آخرت کو تباہ نہ کریں۔
سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے؛ یہ علم و ہدایت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور گمراہی و غفلت کا سبب بھی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے رحمت بناتے ہیں یا زحمت۔