سحر اور مریم دو قریبی سہیلیاں تھیں، مگر دونوں کی طبیعت ایک دوسرے سے مختلف تھی۔
سحر سنجیدہ، باقاعدہ اور مستقل مزاج لڑکی تھی۔ وہ کسی بھی کام کو چھوٹا سمجھ کر چھوڑنے کے بجائے روزانہ تھوڑا تھوڑا کرنے پر یقین رکھتی تھی۔
اس کے برعکس مریم کو مطالعے کا شوق تو بہت تھا، مگر اس کی عادت تھی کہ وہ کسی کام کے لیے ایک لمبا وقت نکالنے کا انتظار کرتی رہتی۔ وہ اکثر کہتی کہ جب اچھی طرح وقت ملے گا، تب سکون سے بیٹھ کر پڑھوں گی۔
ایک دن دونوں کے سامنے ایک کتاب رکھی تھی۔
سحر نے کتاب کھولی اور کہا: مریم! کیوں نہ ہم آج سے اس کتاب کا روزانہ صرف پندرہ منٹ مطالعہ کریں؟
مریم نے کتاب کے موٹے صفحات دیکھے اور ہنس کر بولی: صرف پندرہ منٹ؟ سحر! اتنی بڑی کتاب پندرہ منٹ روزانہ پڑھنے سے کب مکمل ہوگی؟
سحر نے مسکرا کر کہا: معلوم نہیں کب ہوگی، لیکن اگر ہم روزانہ پڑھتے رہے تو ایک دن ضرور مکمل ہوگی۔
مریم نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا: مجھے تو لگتا ہے پندرہ منٹ میں چند صفحات سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ اس سے بہتر ہے جب ایک دن فرصت ملے تو ایک ساتھ زیادہ پڑھ لیں۔
سحر نے جواب دیا: یہی تو مسئلہ ہے مریم۔ فرصت کا انتظار کرتے کرتے کئی کام شروع ہی نہیں ہو پاتے۔ ہم آج کے پندرہ منٹ سے آغاز کیوں نہ کریں؟
مریم نے کچھ لمحے سوچا اور پھر کہا: اچھا، ٹھیک ہے۔ آج سے پندرہ منٹ، اور یوں دونوں نے کتاب پڑھنا شروع کر دی۔
پہلے دن صرف چند صفحات پڑھے گئے، دوسرے دن پھر اتنا ہی وقت نکالا گیا۔
کبھی مریم کا دل نہ چاہتا، کبھی دن بھر کی مصروفیت اسے تھکا دیتی۔ ایک دن اس نے کتاب دیکھ کر کہا: سحر آج رہنے دو، کل ذرا زیادہ پڑھ لیں گے۔
سحر نے کتاب کھولتے ہوئے کہا: کل کے پندرہ منٹ آج کی کمی پوری نہیں کریں گے۔ آؤ، آج کے پندرہ منٹ ہی پڑھ لیتے ہیں۔
مریم مسکرا دی: تم واقعی پندرہ منٹ کے پیچھے پڑی ہوئی ہو۔
سحر نے ہنس کر کہا: کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ چھوٹی چیزیں جمع ہو کر بڑی بن جاتی ہیں، پھر یہی معمول چلتا رہا۔
ایک دن گزرا، پھر دوسرا۔ پندرہ منٹ کے یہ چھوٹے چھوٹے حصے صفحات میں بدلتے گئے، صفحات ابواب میں اور ابواب کتاب کے اختتام کے قریب پہنچ گئے۔
آخرکار ایک دن مریم نے آخری صفحہ پڑھا، کتاب بند کی اور چند لمحے خاموش بیٹھی رہی، پھر حیرت سے بولی، سحر ہماری کتاب مکمل ہوگئی۔
سحر نے مسکراتے ہوئے کہا: ہاں، صرف پندرہ منٹ سے۔
مریم نے ہنس کر کہا: اب سمجھ میں آیا کہ مسئلہ پندرہ منٹ کا نہیں تھا، میری سوچ کا تھا۔ میں پوری کتاب کو ایک ساتھ دیکھ کر سوچتی تھی کہ یہ کیسے ختم ہوگی، جبکہ مجھے صرف روز کے چند صفحات پڑھنے تھے۔
سحر نے کہا: بالکل۔ بڑی منزل کو دیکھ کر گھبرانے کے بجائے اگر انسان روزانہ ایک چھوٹا قدم اٹھاتا رہے تو راستہ خود مختصر ہوتا جاتا ہے۔
مریم نے کتاب کو ہاتھ میں لیا اور کہا: اب میں کبھی یہ نہیں کہوں گی کہ پندرہ منٹ میں کیا ہوگا۔ میں یہ سوچوں گی کہ اگر میں روزانہ پندرہ منٹ دیتی رہی تو چند ماہ بعد کتنا کچھ ہو چکا ہوگا۔
سحر مسکرائی: بس یہی فرق ہے آغاز کرنے والے اور صرف سوچتے رہنے والے میں۔
یہ صرف ایک کتاب کی کہانی نہیں تھی، بلکہ ایک چھوٹا سا سبق بھی تھا۔
وقت کم ہو تو کوشش چھوڑنی نہیں چاہیے، کوشش کو چھوٹا کر لینا چاہیے۔
روزانہ کے پندرہ منٹ شاید ایک دن میں بہت معمولی لگیں، مگر جب یہی پندرہ منٹ مسلسل جمع ہوتے رہیں تو ایک دن ان کا نتیجہ ہمارے سامنے ہوتا ہے۔
اس لیے آج یہ مت سوچیے: صرف پندرہ منٹ میں کیا ہوگا؟
بلکہ خود سے پوچھیے: اگر میں آج سے روزانہ پندرہ منٹ دوں تو چند ماہ بعد میں کہاں کھڑی ہوں گی؟
آج کے پندرہ منٹ، کل کی مکمل کتاب بن سکتے ہیں۔
تھوڑا پڑھیے، مگر مسلسل پڑھیے۔