اولیائے کرام کی معرفت اور ان کے مراتب کا بیان ہمیشہ سے اہلِ ایمان کے لیے باعثِ برکت و سرور رہا ہے۔ انہی اولیاء میں سب سے تابندہ اور سب سے بلند نام حضور غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جن کی عظمت و شان پر علماء و صوفیاء نے صدیوں سے کلام کیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک مشہور و معروف کڑی وہ شعر ہے جو زبان زدِ خاص و عام ہے:
غوثِ اعظم در میان اولیاء، چوں محمد در میان انبیاء
یعنی حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو اولیاء کے درمیان وہی مقام و مرتبہ حاصل ہے جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو انبیاء کرام کے درمیان حاصل ہے۔
بعض لوگوں کی جانب سے اس شعر پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں لفظ "غوثِ اعظم" کو پہلے اور "چوں محمد" کو بعد میں لایا گیا ہے، حالاں کہ ترتیبِ عقیدت و ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ذکرِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ہر جگہ مقدم رکھا جائے۔ اسی بنا پر بعض حضرات اس شعر کو نامناسب ترتیب کا حامل سمجھتے ہیں۔ تحقیق سے یہ اعتراض بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔
مذکورہ شعر بالکل درست ہے، اور اس کی تائید خود حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق ایسی روایات سے ہوتی ہے جو کتبِ دینیہ میں مروی ہیں۔
مروی ہے کہ آپ کے والدِ ماجد حضرت ابوصالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ نے خود سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بمعہ صحابہ کرام و اولیائے عظام کے، حضور غوث اعظم کی ولادت کی رات اپنے گھر میں جلوہ افروز دیکھا۔
اسی موقع پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوصالح کو مخاطب کرکے یہ بشارت عطا فرمائی کہ اللہ عزوجل نے انہیں ایک ایسا فرزند عطا فرمایا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کا محبوب ہے، اور اولیاء و اقطاب میں اسے وہی شان حاصل ہوگی جو انبیاء و مرسلین علیہم السلام میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے ۔
(مخطوطہ تفریح الخاطر، المنقبۃ الثانیہ فی ولادتہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ص: 26)۔
جہاں تک ترتیبِ الفاظ کا تعلق ہے کہ شعر میں "غوثِ اعظم" پہلے اور "چوں محمد" بعد میں آیا ہے، تو یہ محض عام شاعرانہ اسلوب اور رائج طرزِ کلام ہے، جس میں کوئی ادبی یا شرعی قباحت نہیں۔ بلکہ خود مذکورہ بالا روایت میں بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر اپنے تذکرے سے پہلے ہی کیا، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں۔
اس تحقیق سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ شعر کسی بدعت یا غلو پر مبنی نہیں، بلکہ اس کی اصل خود روایاتِ صحیحہ میں موجود ہے۔ جو حضرات محض ترتیبِ الفاظ کی بنا پر اس شعر کو نادرست قرار دیتے ہیں، ان کا اعتراض علمی و نقلی دونوں اعتبار سے کمزور ہے، کیوں کہ نصوص خود اس ترتیب کی تائید کرتے ہیں۔
حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی یہ منفرد شان ان کے فضل و کمال کی دلیل ہے، اور اس پر عقیدہ رکھنا اہلسنت کے مسلمہ عقائد کے عین مطابق ہے۔
نوٹ: اپنے مضامین شامل کرنے کے لیے ابھی رابغ کریں:
9005224744