مضامین

فرقہ واریت کے طبقات اور شرعی حقیقت

سلمیٰ شاہین امجدی
30
0
آج کے دور میں مسلمانوں کے درمیان کئی ایسے گروہ موجود ہیں جو بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن ان کے عقائد اور اعمال اسلام کی اصل تعلیمات سے بہت دور ہیں۔ ان گروہوں میں غیر مقلدین اور دیوبندی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ علمائے اہلِ سنت نے ان کے مختلف طبقات کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور ہر طبقے کا الگ الگ شرعی حکم بیان کیا ہے۔

گمراہ گروہ میں شمار ہونے کی پہچان
سب سے پہلی بات یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی شخص کو کسی گمراہ جماعت کا حصہ کب سمجھا جائے گا۔ اس کی بنیادی طور پر تین نشانیاں ہیں۔
پہلی یہ کہ وہ شخص اس جماعت کے غلط عقائد کو صحیح سمجھتا ہو اور ان پر یقین رکھتا ہو۔ دوسری یہ کہ وہ خود کو اس جماعت کا حصہ کہے یا اس کی تائید کرے۔ تیسری اور سب سے اہم یہ کہ وہ اس جماعت کی مخصوص پہچان اور طور طریقوں کو اپنائے اور جب بھی پوچھا جائے تو انکار نہ کرے۔ اگر ان تین باتوں میں سے ایک بھی پائی جائے تو وہ شخص اسی گمراہ جماعت کا فرد شمار ہوگا اور اسی کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ ہوگا۔
غیر مقلدین کے طبقے
غیر مقلدین کے بارے میں علمائے اہلِ سنت نے واضح کیا ہے کہ ان میں ایک طبقہ وہ ہے جو کھلے عام کفریہ عقائد رکھتا ہے۔ مثلاً ختمِ نبوت کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ قرآنِ کریم میں انسانی ہاتھ کا دخل ہے۔ ایسے لوگ کسی بھی اعتبار سے مسلمانوں میں شمار نہیں ہوتے اور ان سے نکاح یا قریبی تعلق سراسر باطل اور ناجائز ہے۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو بظاہر اپنے آپ کو وہابی نہیں کہتا لیکن اس کے عقائد اور اعمال اہلِ سنت کے خلاف ہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جب تک وہ اپنی غلطی سے صاف الفاظ میں توبہ نہ کرے اور وہابیت سے برائت کا اعلان نہ کرے، اس کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو گمراہ شخص کے ساتھ ہوتا ہے۔
مذہبی اور قومی پہچان میں فرق
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ مذہبی پہچان اور قومی پہچان دونوں الگ الگ چیزیں ہیں اور ان کے احکام بھی جدا ہیں۔ مذہبی پہچان وہ ہوتی ہے جو کسی مخصوص دینی جماعت کی علامت ہو، جیسے کہ ان کا مخصوص طریقۂ نماز یا ان کے مخصوص عقائد۔ اگر کوئی شخص یہ علامت اپناتا ہے تو وہ چاہے زبان سے انکار کرے، اسے اسی جماعت کا فرد سمجھا جائے گا۔ جب تک کوئی واضح ثبوت اس کے برعکس نہ ہو۔
اہلِ سنت کے شعائر کی توہین کا حکم
ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جو شخص میلاد النبی ﷺ کی محفلوں کو بدعت کہے، بزرگانِ دین کے عرس کو فضول سمجھے اور اہلِ بیت کی توہین کرے۔ وہ آخر کس کیٹیگری میں آتا ہے؟
علمائے اہلِ سنت کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ سب خیالات خالص وہابی سوچ کا حصہ ہیں۔ جو شخص ان خیالات کو رکھتا ہو وہ اہلِ سنت سے تو خارج ہے ہی، بلکہ وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ایسے لوگوں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے۔
غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے ان طبقات کا یہ جائزہ محض تنقید کے لیے نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ایک عام مسلمان ان گروہوں کی حقیقت کو پہچانے اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کرے۔ اہلِ سنت کا راستہ ہی صحیح راستہ ہے اور اسی پر چلنے میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدھی راہ پر قائم رکھے۔ آمین۔