قبر کی تنہائی، حشر کا میدان، حساب کا لمحہ—ذرا تصور کریں! وہ وقت جب ہمارے جسم کے اعضا بھی ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔ ہمیں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا، اور ہمارے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ وہ لمحہ کیسا ہوگا؟ کیا ہم حساب دے پائیں گے؟ کیا ہم نے اس کے لیے تیاری کر لی ہے؟
جس دنیا کو ہم نے اپنا سب کچھ سمجھ لیا ہے، اور دنیا کی آسائشوں کو پانے کے لیے دن رات کوشش کرتے ہیں، کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ دنیا دائمی نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو ہمارے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔ جیسے کہ دنیا میں امتحان ہوتا ہے تو امتحان سے پہلے بچوں کو تیاری کے لیے کچھ دنوں کا وقت دیا جاتا ہے، جس میں کچھ بچے دن رات محنت کر کے پڑھائی کرتے ہیں تاکہ اعلیٰ نمبرات سے پاس ہوں، اور وہ اپنی نیند کو قربان کر دیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ امتحان میں کامیاب ہو گئے تو اس کے بعد چین سے سوئیں گے۔ جو اپنی تیاری میں جتنی زیادہ محنت کرتا ہے، اس کا نتیجہ اتنا ہی اچھا آتا ہے، اور جو محنت نہیں کرتے، وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔
ٹھیک اسی طرح ہماری زندگی بھی آخرت کی تیاری کے لیے مہلت کے طور پر دی گئی ہے۔ اس میں جتنی زیادہ محنت کریں گے، اعمالِ صالحہ کریں گے، اتنا ہی اچھا ہمارا انجام ہوگا۔ اور اگر ہم اس وقت کو غفلت میں گنوا دیں گے تو پھر آخرت میں، جب ہمارے اعمال نامے کھولے جائیں گے، اس وقت پچھتاوے کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں رہے گا۔
اس لیے اگر اصل آرام چاہتے ہیں، اصل سکون چاہتے ہیں، تو وہ دنیا میں نہیں ملے گا، بلکہ اصل آرام جنت کا ہے۔ لہٰذا اپنی آخرت کی فکر کریں، توبہ کریں، اللہ سے جڑیں، اور اپنے دائمی ٹھکانے کے لیے اعمالِ صالحہ جمع کریں۔
ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی زندگی کا رخ بدلیں۔ نماز کو اپنا سکون بنائیں، قرآن کو اپنا رہنما بنائیں، اور نیکی کو اپنی پہچان بنائیں۔
ذرا ٹھہر کر خود سے ایک سوال کریں: اگر آج ہی ہمیں اپنے رب کے سامنے پیش ہونا پڑ جائے، تو کیا ہم تیار ہیں؟ کیا ہمارے اعمال ہمیں بچا سکیں گے؟
یاد رکھیں! دنیا کی چمک دمک محض دھوکہ ہے، اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ موت بتا کر نہیں آتی، وہ کسی کو مہلت نہیں دیتی۔
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں، سچی توبہ کریں، اور اپنی آخرت کے لیے وہ سرمایہ جمع کریں جو ہمیشہ کام آنے والا ہے۔
اللّٰہ رب العزت ہم سبھی کو اپنی آخرت کی فکر کرنے اور آخرت کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔