مضامین

قلم علم و ہدایت کا روشن چراغ

اے۔ایس۔رضویہؔ
14 اگست 2026
32
0
قلم رب العالمین کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ علم و حکمت کے تحفظ کا اہم وسیلہ ہے، جس کے ذریعے علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ انسان اپنے خیالات، تجربات اور علمی ذخیرے کو قلم کے ذریعے محفوظ کرتا ہے اور عوام تک پہونچاتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر دینِ اسلام میں قلم کو خاص مقام عطا کیا گیا ہے۔
قران کریم میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ: نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ(القلم ـ ۱)
ترجمۂ کنز الایمان: قلم اور ان کے لکھے کی قسم۔
اس آیتِ مبارکہ میں قلم کی عظمت اور اس کی اہمیت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قلم وہ عظیم وسیلہ ہے جس کے ذریعے انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات، علمائے کرام کے علمی ذخائر اور تاریخ کے اہم واقعات محفوظ ہو کر ہم تک پہنچے ہیں۔ اگر قلم نہ ہوتا تو انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات، علمائے کرام کی کاوشیں اور تاریخ کے اہم واقعات ہم تک نہ پہنچ پاتے، اور ہم ان کے علم و رہنمائی سے محروم رہ جاتے۔
قلم علم کی روشنی پھیلانے والا ایک بہترین چراغ ہے۔ یہ معاشرے کی اصلاح اور اخلاق کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک طالبِ علم اپنی کامیابی کے لیے قلم کا سہارا لیتا ہے، جبکہ اساتذہ اپنے علم و تجربے کو قلم کے ذریعے دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔
قلم کی طاقت تلوار سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ تلوار جسموں پر اثر ڈالتی ہے، جبکہ قلم دلوں اور ذہنوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسی لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے قلم کو ہمیشہ حق گوئی، سچائی اور بھلائی کے لیے استعمال کریں، کیونکہ قلم سے لکھی گئی باتیں ایک مسلمان کے لیے صدقۂ جاریہ بھی بن سکتی ہیں۔
قلم ایک امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے، اس لیے ہمیں اس سے ایسے کاموں میں استعمال کرنا چاہیے جو ہماری آخرت کی کامیابی اور نجات کا ذریعہ بنیں۔ اگر ہم اپنے قلم کے ذریعے علم، نیکی اور بھلائی کی باتیں لکھیں اور لوگوں کی رہنمائی کریں، تو ہمیں اس کا اجر و ثواب ملے گا۔ لیکن اگر ہم اسے جھوٹ، برائی یا گمراہی پھیلانے کے لیے استعمال کریں، تو یہ ہمارے لیے گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ہمیشہ اپنے قلم کو خیر، بھلائی اور حق کی خدمت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔