مضامین

محنت اور لگن کامیابی کا راز

مہناز نوری فاطمی بنت محمد نوراللہ برکاتی
38
1
محنت کا مفہوم اور کامیابی سے اس کا تعلق
محنت محض مشقت کا نام نہیں، بلکہ یہ کسی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلسل کوشش اور جدوجہد ہے، محنت ہی وہ عمل ہے جو معمولی انسان کو غیر معمولی بنا دیتا ہے اور قوموں کو عروج بخشتا ہے۔ زندگی کی ترقی کا دار و مدار ہی محنت پر ہے۔ کامیابی کا تعلق محنت ہی سے ہے کیونکہ جو شخص محنت نہیں کرتا، اسے زندگی میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، اس کے برعکس جو محنت کرتے ہیں، وہ کامیابی کی بلندیوں کو حاصل کر لیتے ہیں۔
قرآن کی روشنی میں محنت کی اہمیت
اسلام میں محنت کو بھی عبادت کا درجہ حاصل ہے، یعنی جو شخص محنت کرکے رزقِ حلال کماتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ (النجم 39)
ترجمۂ کنز الایمان ۔ اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ انسان کو جو کچھ بھی حاصل ہوتا ہے، اپنی محنت اور کوشش سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

محنت اور تقدیر ایک عام غلط فہمی کی وضاحت
بہت سارے لوگ ایسا گمان کرتے ہیں کہ محنت سے کیا فائدہ، ہماری تقدیر میں جو لکھا ہوگا، وہ ہمیں مل کر ہی رہے گا، تو یاد رکھیں، یہ بات بالکل بے اصل اور بے جا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لے اور گھر میں بیٹھا رہے، یہ گمان کرکے کہ جو اس کی تقدیر میں ہے، وہ اس تک پہنچ جائے گی، تو ایسا ہرگز نہیں ہے، جب تک وہ باہر نکل کر محنت نہیں کرے گا، اسے خود بخود رزق حاصل نہیں ہو سکتا۔
محنت کے اقسام
جسمانی محنت
جسمانی محنت یہ ہے کہ انسان اپنے ہاتھ پاؤں کے ذریعے رزقِ حلال کمائے اور اپنی دنیا سنوارے اور آخرت کے لیے اپنے ہاتھ پاؤں، جسم کی حرکت سے نماز ادا کرے، ہاتھ سے صدقہ، زکوٰۃ ادا کرے، زبان سے بھلائی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے، تو یہ بھی جسمانی طور پر اپنی آخرت کے لیے محنت کرنا ہے۔
ذہنی محنت
ذہنی محنت یہ ہے کہ اگر کوئی کام بگڑ جائے یا کسی کام میں دشواری پیش آئے، تو ٹھنڈے دماغ سے اس کا حل نکالے، بغیر محنت کیے پریشان نہ ہونے لگے اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کرے اور اس طرح اپنی ذہنی محنت سے ثواب کمائے۔
روحانی محنت
روحانی محنت یہ ہے کہ انسان اپنے دل و دماغ کو پاک رکھے، غلط خیالات، بغض، حسد اور کینہ سے اپنے دل کو صاف رکھنا اور اس کے لیے کوشش کرنا بھی محنت ہی ہے۔
کامیاب افراد کی زندگی میں محنت کا کردار
جتنے بڑے بڑے علما اور مفکرین ہوتے ہیں، ان کی کامیابی کا راز بھی محنت ہی ہے۔ وہ اپنی ذہنی، جسمانی اور روحانی محنت کے ذریعے ہی اللہ کے مقبول بندے بنتے ہیں اور اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھتے ہیں۔ کسان اور مزدور، جو دن رات محنت کرتے ہیں، ان کی محنت کی وجہ سے ہی ہمیں عمدہ پھل اور قسم قسم کے کھانے پینے کے سامان مہیا ہوتے ہیں اور مزدوروں کی محنت سے ہی ہمارے ہر کام میں آسانی ہوتی ہے۔ طالبات اور اساتذہ بھی محنت کے ذریعے ہی کامیابی حاصل کرتے ہیں اور جو طالبِ علم جتنی زیادہ محنت کرتا ہے، وہ اتنی ہی بلندی پر فائز ہوتا ہے۔
سستی اور کاہلی کے مضر اثرات
جو سستی اور کاہلی کرتے ہیں، اکثر ان کے کام کبھی مکمل نہیں ہوتے اور وہ زندگی میں کامیاب نہیں ہوتے۔ سستی کی وجہ سے انہیں جسمانی تکلیفیں بھی اٹھانی پڑتی ہیں۔ جو محنت کرنے کے بجائے دن بھر آرام کرتے ہیں، تو ان کے ذہن میں بس فضول خیالات آتے ہیں، جس سے ان کا ذہنی سکون تباہ ہو جاتا ہے اور ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
محنت میں استقامت، لگن اور صبر کی اہمیت
محنت میں استقامت اپنانا، یعنی ایسا نہ ہو کہ ایک بار محنت کرنے پر آپ کو کامیابی حاصل نہ ہوئی، تو محنت کرنا چھوڑ دیں، نہیں بلکہ محنت میں استقامت ضروری ہے، یعنی ایک بار محنت رنگ نہیں لائی، تو آپ بار بار کوشش کریں، لگن سے کریں اور صبر کرتے رہیں۔ اگر آپ کو جلدی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے، تو مایوس نہ ہوں، لگن اور استقامت کے ساتھ محنت کرتے رہیں، تو آپ کی محنت اور صبر کا پھل بہت ہی بہترین ہوگا۔
معاشرے کی ترقی میں محنت کا کردار
معاشرے کی ترقی کی بنیاد بھی محنت پر ہی ہے۔ جہاں لوگ محنت نہیں کرتے، تو وہاں کی پوری قوم پیچھے رہ جاتی ہے اور وہ کبھی کامیابی کی منزلوں کو نہیں چوم پاتے، اور جہاں سب لوگ مل کر محنت کرنا شروع کر دیں، تو معاشرے کی ترقی بلندیوں پر پہنچ جاتی ہے۔
محنت کامیابی کی اصل بنیاد ہے
محنت ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے، خواہ طلبہ ہوں، استاد ہوں، ڈاکٹر ہوں، انجینئر ہوں، علما ہوں، کوئی بھی ہو، سب کو کامیابی محنت کے ذریعے ہی ملتی ہے۔ اپنی آخرت کو بھی انسان محنت کے ہی ذریعے سنوار سکتا ہے۔ اگر کوئی رب تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ بھی عبادت کی محنت سے ہی حاصل ہوگا۔ غرض کہ کوئی بھی چھوٹا سے بڑا کام محنت کے بغیر نہیں ہو سکتا، محنت ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔