کہانی

میلادمصطفیٰ (ﷺ) کی برکت

سعدیہ خاتون
28 اگست 2026
165
0
بشیر اپنی فیملی کے ساتھ ایک سادہ اور خوش حال زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس کی زندگی بالکل سادہ تھی۔ نہ کسی دولت و شہرت اور نہ ہی کسی عیش و آرام کی خواہش۔ بس اللہ رب العزت کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر اور آزمائش آنے پر صبر، اس کی زندگی کا معمول تھا۔
لیکن بشیر کے اندر ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنے والدین اور اپنی اولاد کی بہ نسبت رسولِ کائنات ﷺ سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔
وہ ہر ماہ کی بارہ تاریخ کو محفلِ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد کرتا تھا۔ ہاں، اتنا ضرور ہے کہ محفل اس طرح نہیں ہوتی تھی جس طرح لوگ آج کے دور میں کرتے ہیں؛ کہ لائٹنگ وغیرہ کا بہترین انتظام اور بڑے بڑے شعراء اور خطباء کو مدعو کیا جاتا ہے۔
محفل میں بس اہلِ خانہ اور کچھ باہر کے لوگ ہوتے اور لائٹنگ کا بھی کچھ خاص انتظام نہیں ہوتا تھا، کیونکہ وہ سادہ زندگی بسر کر رہا تھا۔ لیکن بشیر کا ہر ماہ کی بارہ تاریخ کو محفلِ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد کرنا، یہ رسولِ عربی ﷺ کی محبت کی دلیل اور ثبوت تھا۔
ایک دفعہ کی بات ہے کہ ابھی اسلامی مہینے کی بارہ تاریخ آنے میں کچھ دن باقی تھے کہ ایک شب اچانک اس کے لاڈلے اور پیارے بیٹے احمد کی طبیعت خراب ہو گئی۔
جب احمد کو ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ احمد کی کڈنی خراب ہو گئی ہے اور اگر اسے جلد تبدیل نہ کیا گیا تو زندگی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی، اور اس سب کے لیے لاکھوں کا خرچ آئے گا۔
ڈاکٹروں کی بات سن کر بشیر نے کہا: "جب تک رب تبارک و تعالیٰ نہ چاہے کسی کو موت نہیں آ سکتی۔"
ظاہری طور پر بشیر پریشان بالکل بھی نہیں تھا، لیکن اتنا زیادہ پیسہ کہاں سے آئے گا، یہ سوچ کر وہ تھوڑا پریشان ہوا۔ اس کے بعد اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے مدد طلب کی لیکن کسی نے بھی اس کی مدد نہیں کی۔ اب اس کی ساری امیدیں رب العالمین اور رحمت للعالمین ﷺ سے تھیں۔
دن گزرتے گئے لیکن پیسوں کا ابھی تک کوئی انتظام نہیں ہوا۔ ناگہاں اسلامی مہینے کی بارہ تاریخ بھی آ گئی۔
اس دن بشیر میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی تیاری کے لیے ہسپتال سے گھر آنے لگا تو ایک ڈاکٹر نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟
بشیر نے کہا کہ آج اسلامی مہینے کی بارہ تاریخ ہے اور میرا یہ معمول ہے کہ میں ہر اسلامی ماہ کی بارہ تاریخ کو اپنے گھر ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی محفل سجاتا ہوں، لہٰذا اسی کی تیاری کے لیے گھر جا رہا ہوں۔
ڈاکٹر حیران ہو کر بشیر کے چہرے کو دیکھنے لگا اور پھر بولا: "پاگل ہو گئے ہو؟ تمہارا بیٹا ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا ہوا ہے، تمہیں اس کے علاج کے لیے پیسے اکٹھے کرنے چاہییں اور جو تھوڑا پیسہ تمہارے پاس ہے وہ بھی تم کہیں اور خرچ کرنے جا رہے ہو؟"
بشیر بولا: "میں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہوں کہ جلد از جلد پیسہ اکٹھا کر کے اچھی طرح سے اپنے بیٹے کا علاج کراؤں اور میرا بیٹا جلد از جلد شفایاب ہو جائے۔ لیکن میرے اور تمہارے کوشش کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک کہ رب تبارک و تعالیٰ نہ چاہے، کیونکہ شفا اور موت دینے والی ذات صرف وہی ہے۔ لہٰذا وہ جو چاہے گا وہی ہوگا، اور میں اس کے ہر فیصلے پر راضی ہوں۔
اور رہی محفلِ میلاد النبی ﷺ کی بات تو وہ ضرور ہوگی، اور اس کی برکت سے ان شاء اللہ! میرا بیٹا بھی جلد از جلد شفایاب ہوگا۔"
یہ کہہ کر بشیر گھر آ گیا اور میلاد کی تیاری میں لگ گیا۔ آس پاس کے لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے لگے لیکن بشیر کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس نے اپنی حیثیت کے مطابق محفل کی تیاری کی اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی محفل سجائی۔
یہ محفل بہ نسبت اور محفلوں کے زیادہ بابرکت رہی، کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ دعا خوانی کے وقت بشیر کے بیٹے احمد کے لیے محفلِ میلاد النبی ﷺ کا واسطہ دے کر خصوصی دعا کی گئی۔
محفل کے اختتام کے بعد بشیر نے تنہائی میں مصلیٰ بچھایا اور رب کے حضور سجدے میں گر گیا اور آقائے دو جہاں ﷺ کا واسطہ دے کر دعائیں مانگنے لگا: "مولیٰ! تو نے جس طرح محمد مصطفیٰ ﷺ کے واسطے سے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی، اور ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کی برکت سے ابولہب جیسے سخت کافر کو تو نے فیض عطا کیا، اور اس کی لونڈی ثویبہ کو آزادی دی۔ مولیٰ! اسی طرح اپنے محبوب ﷺ کے صدقے اور اس محفلِ میلاد النبی ﷺ کے صدقے میرے بیٹے کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرما۔"
اس کے بعد صبح ہوتے ہی بشیر ہسپتال گیا۔ ڈاکٹروں سے ملا اور اپنے بیٹے احمد کی خیریت دریافت کی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اب اس کی طبیعت میں کچھ سدھار آ گیا ہے، لیکن مکمل طور پر صحیح ہونے کے لیے اس کی کڈنی بدلنی ہوگی۔
بشیر نے کہا: "آپ دو دن بعد دوبارہ سے جانچ کریں، ان شاء اللہ! اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔"
لہٰذا دو دن بعد جب دوبارہ جانچ ہوئی تو ڈاکٹر حیران رہ گئے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ خراب ہوئی کڈنی دوبارہ صحیح ہو جائے۔ جب یہ خبر بشیر کو ملی تو اس کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ سجدے میں گر گیا اور رب تبارک و تعالیٰ اور رسولِ کریم ﷺ کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹروں نے حیران و پریشان ہو کر بشیر سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
بشیر نے جواب دیا کہ یہ سب محفلِ میلاد النبی ﷺ کی برکت ہے جو میں اسلامی مہینے کی بارہ تاریخ کو منعقد کرتا ہوں۔ لہٰذا دو دن قبل بھی میں نے محفلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا انعقاد کیا۔ میں نے اپنے بیٹے کی محبت پر رسول اللہ ﷺ کی محبت کو ترجیح دی۔ میں نے آزمائش کے وقت بھی ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی محفل سجانا نہیں چھوڑا۔
لہٰذا جب آپ کسی کام کو محض رضائے الٰہی اور رضائے مصطفے ﷺ کے لیے کرتے ہیں تو اس کی برکتیں بھی آپ کو دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ سب میرے رب کا فضل و کرم ہے کہ اس نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا کر دی۔
یہ کہانی محفلِ میلاد النبی ﷺ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مشکلات و پریشانی کے وقت میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی محفل سجانا، آقائے دو جہاں ﷺ کا ذکرِ جمیل کرنا، مشکلات و پریشانی کا حل ہے۔
لہٰذا محفلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ پر کوئی سمجھوتہ ہرگز نہ کریں، کیونکہ اس میں صرف اور صرف آپ کی بھلائی اور کامیابی پوشیدہ ہے۔ سمجھوتہ اس چیز پر کی جاتی ہے جس میں ناکامی کا اندیشہ ہو۔
اور یہ کہانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ذکرِ رسولِ مصطفیٰ ﷺ کرنے کے لیے لائٹنگ وغیرہ اور بڑے بڑے شعراء اور خطباء کی ضرورت نہیں۔ چند لوگوں کے ساتھ خالص اللہ و رسول ﷺ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کی جائے تو وہ قبولیت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔
یا اللہ! ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے، آزمائش پر صبر کرنے اور اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنا۔ 
یا اللہ! ہمارے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی سچی پکی محبت عطا فرما۔ 
آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ 🤲