بزم سخن

نعت سرورِ کائنات

Shaheen  heer
01 ستمبر 2026
58
0
مجھ کو بھی طیبہ میں اک بار بلا لیں آقا 
سائے میں گنبدِ خضرا کے بٹھا لیں آقا 

نفسِ بدکار نے کرنے نہ دیا حُسنِ عمل 
نفسِ امّارہ کی بندش سے بچا لیں آقا 

گر میسر ہو ہمیں آپ کے در کی مٹی
 مثل سرمہ اسے آنکھوں میں لگا لیں,, آقا 

گر خبر ہم کو ملے آپ ہیں آنے والے 
آپ کی راہوں میں ہم پلکیں بچھا لیں آقا

رب تعالی سے ملے گا اُنہیں انعام بڑا 
گردنیں آپ کی خاطر جو کٹا لیں ،، آقا

اشک آنکھوں میں ندامت کے لیے ہوں حاضر
ہر برائی کو مرے دل سے نکالیں آقا

گر نہیں پاس مرے مال و گہر کچھ بھی مگر 
کیا عجب ہو کہ مجھے در پہ بلا لیں آقا

گر مقدر سے کبھی آپ کے در جانا ہوا 
خار بھی طیبہ کے نظروں میں بسا لیں آقا

ہیر جب گرنے لگے پل سے بروزِ محشر 
ربِّ سلّم کی صدا دے کے بچا لیں آقا 

از قلم شاہین ہیر فاطمہ