وقت ایک بہترین نعمت ہے
وقت اللہ کریم کی عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جو ہر انسان کو ایک جیسے ملتی ہے اب وہ اس انسان پر ہے کہ وہ اس کی قدر کرے یا پھر اس کو برباد کرے وقت انتہائی قیمتی ہے ۔ہماری زندگی کے لمحات قیمتی ہیں کہ اگر ہم ان کو ضائع کر دیں گے تو ہمیں حسرت و ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم وقت کی قدر کریں کیونکہ اگر یہ ضائع ہو گیا تو دوبارہ نہیں مل سکتا۔ وقت کے صحیح استعمال سے انسان بلندی پر پہنچ سکتا ہے اس کو اونچا مقام و مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے لیکن وقت کے غلط استعمال سے انسان برباد ہو سکتا ہے۔بزرگان دین بھی وقت کی بہت قدر کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی نے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی: یا امیر المومنین! یہ کام آپ کل پر موخر کر دیجئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میں روزانا کام ایک دن میں مشکل سے مکمل کر پاتا ہوں،اگر آج کا کام بھی کل پر چھوڑ دوں گا تو پھر دو دن کا کام ایک دن میں کیسے کر سکوں گا۔
ہمیں وقت کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اور ہر کام کو اپنے وقت پر مکمل کر لینا چاہیے اور اوقات کی ترتیب و تقسیم کا درس ہمیں سنت نبوی سے بھی ملتا ہے،ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے کاموں کا شیڈول بنایا ہوا تھا۔ تو ہم میں بھی چاہیے کہ ہم اپنے کاموں کا شیڈول بنائیں اور ہر کام کو ترتیب با ترتیب کرتے رہیں اپنے وقت کو فضول چیزوں میں ضائع نہ کریں فضول باتوں میں ضائع نہ کریں فضول کاموں میں ضائع نہ کریں بے مقصد باتوں میں بہت سارا وقت ضائع ہوتا ہے اس لیے ہمیں جتنا ہو سکے اپنا سارا وقت فضول کاموں کے بجائے ہمیں اچھے کاموں میں گزارنا چاہیے نیکیوں میں ہمیں اپنا وقت گزارنا چاہیے وقت کو ضائع کرنے سے انسان ناکا میابی کی طرف جاتا ہے پھر جو وقت گزر جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا ہے پھر وقت کے گزرنے کے بعد ہمارے پاس پچھتاوے اور افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارا وقت موبائل فون اور انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال کرنے گیم کھیلنے اور کھیل خود میں وقت برباد کرنے اور بری صحبت اور اس طرح فضول گفتگو ان سب چیزوں میں وقت ضائع کرنا ہمارے لیے نقصان ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ وقت کو غنیمت جان کر اچھے کاموں میں گزاریں تاکہ جنت کا بلند ترین اور مرتبہ حاصل کرلیں۔
کامیاب لوگ وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں وقت کی قدر کرنا جانتے ہیں کہ وہ اپنے وقت کو فضول چیزوں میں گزارنے کے بجائے اچھے کاموں میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ جیسے دینی کتب پڑھنے نیکیوں میں زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ وقت ایسی نعمت ہے جو ہر انسان کو میسر ہوتی ہے لیکن ہر انسان اس کی قدر نہیں کر پاتا جو قدر کرتا ہے وہ نفع اٹھا لیتا ہے اور جو قدر نہیں کرتا وہ خسارے میں رہتا ہے۔ روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وقت کہتا ہے جو کام کرنا ہے تو کر لو آج کے بعد میں پلٹ نہیں آؤں گا۔ تو وقت ہماری زندگی کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔
طالب علم اور وقت
اور طالب علم کے لیے وقت کا صحیح استعمال کرنا اس کے لیے کامیابی ہے ایک طالب علم کو اپنا زیادہ سے زیادہ وقت دینی کتابوں کو پڑھنے میں ان کو سمجھنے میں گزارنا چاہیے کیونکہ ابھی وہ علم حاصل کرنے کے زمانے میں ہے اگر اس نے اس زمانے میں علم حاصل نہیں کیا تو پھر آگے جا کر اس کی زندگی کے لیے نقصان ہے اکثر طالب علم اپنی اس انمول وقت کو فضول گوئی میں فضول چیزوں میں کھیل کود میں فضول باتوں میں دنیاوی چیزوں میں گزار دیتے ہیں پھر جب ان کا یہ وقت چلا جاتا ہے اس کے بعد انہیں پچھتاوا ہوتا ہے۔ طالب علم کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ اپنے اس انمول وقت میں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی لگن میں رہے زیادہ سے زیادہ دینی کتب کا مطالعہ کریں بزرگان دین کی سیرتوں کو پڑھے صحابہ کرام کی سیرتوں کو پڑھے۔ تبھی وہ ایک کامیاب طالب علم کہلاتا ہے۔یاد رکھو کہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ٹھہرے جنہوں نے وقت کی قدر کی، بزرگان دین وقت کی بہت قدر کیا کر تے تھے ۔اللہ تبارک و تعالی کے فضل و کرم اور وقت کی قدر کرنے کی برکات کی اہمیت کو جاننے کی وجہ سے حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ غوث اعظم کہلائے، علی ہجویری رحمت اللہ علیہ گنج بخش کہلائے، اسی طرح معید الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ خواجہ غریب نواز کہلائے اور احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اعلی حضرت کہلائے اس لیۓ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وقت کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں گزاریں ۔فرمان امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اہل اللہ کی صحبت سے سیکھنے کو ملا کہ وقت تلوار کی طرح ہے تم اس کو نیک اعمال سے کاٹو ورنہ فضولیات میں مشغول کر کے وہ تم کو کاٹ دے ۔
وقت ہمارے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے وقت کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔