بس فرق اتنا ہے کہ بعض لوگ وقت کو ضائع نہیں کرتے، بلکہ وقت کی قدر کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اسے ضائع نہیں کرتے، وہی لوگ کامیابی حاصل کرتے ہیں، اور دنیا انہی کے قدم چومتی ہے۔ اور جو لوگ وقت کو ضائع کر دیتے ہیں، وقت کی قدر نہیں کرتے، تو زمانہ انہیں غلام بنا لیتا ہے۔ دنیا و آخرت میں انہیں خسارہ ہی خسارہ ملتا ہے، اور آخر میں انہیں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قدر و اہمیت میں پوری ایک سورت نازل فرمائی ہے۔
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
`وَ الْعَصْرِۙ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ الَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠
_(العصر: ۱ تا ۳)_
ترجمۂ کنز الایمان: "اس زمانۂ محبوب کی قسم! بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔"
انسان کا نقصان یہ ہے کہ اس کی عمر، جو اس کی اصل پونجی اور سرمایہ ہے، وہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ برف کی طرح انسان کی زندگی پگھلتی جا رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس سرمایہ کو صحیح کاموں میں صرف کریں، دین کی خدمت کریں، اور لوگوں کو اور خود کو بھی فائدہ پہنچائیں، اور لوگوں کو حق بات اور مشقتوں پر صبر کی تلقین کریں۔
کامیاب لوگوں کی زندگی میں وقت بہت ہی قدر و اہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "میرے پاس آ کر اگر کوئی شخص لمبی باتیں کرتا، تو میں فرماتا: جلدی کرو، تم نے ایک زمانہ ضائع کر دیا۔"
مزید فرماتے ہیں: "جب میں اپنے استاذ سے کوئی کتاب پڑھتا، بعض دفعہ کوئی لفظ صحیح کرنے کے لیے درمیان میں کچھ وقفہ ہو جاتا، تو آپ اس وقفہ کو بھی ضائع نہیں کرتے اور اس کے درمیان آہستہ آہستہ اللہ کا ورد کرتے۔"
_(رسالہ وقت کی اہمیت: ص ۴/۵)_
ماشاءاللہ، سبحان اللہ! یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ کار ہے کہ وہ چند لمحوں کو بھی ضائع نہیں کرتے، بلکہ ان چند لمحوں میں یادِ خدا میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ سبحان اللہ!
وقت ضائع کرنا انتہائی نقصان دہ عادت ہے، جو انسان کو پستی کی طرف لے جاتی ہے، اور کامیابی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ وقت ضائع کرنے کے بہت سارے نقصانات ہیں، جیسے: پڑھائی میں پیچھے رہ جانا، اپنے مقصد کو حاصل نہ کر پانا، مستقبل میں ندامت اور پچھتاوے کا شکار ہونا، لوگوں کا آپ پر سے اعتماد اور بھروسہ کم ہو جانا۔ وقت کو ضائع کرنا غفلت اور نقصان کا باعث ہے۔
وقت کا صحیح استعمال زندگی میں نظم و ضبط، ترقی اور سکون کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے روزانہ کا نظام الاوقات بنانا اور اس کے حساب سے دن بھر کے کام سرانجام دینا چاہیے۔ روزانہ کے کاموں کو اس طرح ترتیب دیں کہ کوئی بھی نماز قضاء نہ ہو۔ ہر کام کو اس کے وقت پر کریں، کسی بھی کام کو کل پر نہ ٹالیں۔ سب سے پہلے جو ضروری اور انتہائی اہم کام ہو، اسے کریں۔ فضول مشاغل سے پرہیز کریں۔ اپنے وقت کو سوشل میڈیا، گیمز اور فضول باتوں میں ہرگز ضائع نہ کریں، اور غیر ضروری کاموں کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بنائیں۔ جو وقت بچ جائے، اسے دینی کتب کے مطالعہ اور فرائض و واجبات سیکھنے میں صرف کریں۔ دانشمند اور ترقی پسند انسان وقت کو صحیح استعمال کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
اسلام میں وقت ایک انمول نعمت ہے۔ وقت کی اہمیت پر رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، جو کہ حضرت عمرو بن میمون اودی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت جانو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، دولت مندی کو غربت سے پہلے، اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔"
_(مسند الشھاب: ص ۳۲۷)_
یہ حدیث مبارکہ علم، عمل، عبادت، وریاضت اور دنیا کے کثیر امور کو جامع ہے۔
اس حدیث پاک سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ بڑھاپے سے قبل جوانی کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ حاصل کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کریں، دین کی خدمت کریں اور اسے پھیلائیں، قبل اس کے کہ ہمارا جسم جواب دے دے اور ہم عبادت و اطاعت وغیرہ میں کمزوری محسوس کریں۔
اور اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانیں، کیونکہ صحت اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صحت و تندرستی میں ہر وہ نیک کام کریں جسے ہم کر سکتے ہیں، اس سے قبل کہ ہم بیمار ہو جائیں۔
اور دولت مندی کو غربت سے قبل غنیمت جانیں۔ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو دولت ہمیں عطا کی ہے، اس سے قبل کہ وہ ہمارے پاس سے ختم ہو جائے، اسے ہم عباداتِ مالیہ جیسے صدقہ، خیرات، مساجد و مدارس کی تعمیر وغیرہ میں صرف کریں۔
اور اپنی فراغت کو مشغولیت سے قبل غنیمت جانیں، کہ دنیا کے مسائل اور پریشانیاں تمہیں گھیر لیں۔
اور زندگی کو موت سے قبل غنیمت جانیں۔ زندہ رہتے ہوئے اعمالِ صالح کر لو، کیونکہ موت کے بعد عمل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
ہر طالبِ علم کے لیے وقت بہت ہی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو دوبارہ لوٹ کر نہیں آتی۔
ہر طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ وقت کا صحیح استعمال کرے۔ ایک نظام الاوقات بنا لے اور اس کے حساب سے ہر کام پر سختی سے عمل کرے۔ مطالعہ کے لیے اور امتحانات کی تیاری کے لیے بھی وقت مختص کرے۔ غیر ضروری کاموں اور فضول گوئی سے اجتناب کرے، اور علمِ دین حاصل کرنے میں وقت صرف کرے۔ موبائل وغیرہ کا استعمال ضرورت کے مطابق کرے، اور وقت کی قدر کرے۔ اس لیے کہ کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو وقت کی قدر کرتے ہیں۔
انسان کی زندگی بہت محدود ہے، جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ ہم گزرے ہوئے لمحات کو واپس نہیں لا سکتے، اور نہ ہی مرنے کے بعد ہم دوبارہ دنیا میں واپس آ سکتے ہیں۔ مرنے کے بعد ہمیں بروزِ قیامت اپنی زندگی کے ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا۔ یہ زندگی، جو معلوم نہیں کہ کتنے دن کی ہے، اسے ہمیں نیکی کے کاموں میں لگانا چاہیے۔ اور نیک عمل کرنے میں جلدی کرنی چاہیے، کیا پتہ موقع ملے یا نہ ملے۔
ہم اپنی زندگی کے بہت ہی قیمتی لمحوں کو ضائع کر دیتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم وقت کا صحیح استعمال کریں، اور اللہ ربّ العزت کی اس عطا کردہ نعمت کو اللہ و رسول ﷺ کی رضا حاصل کرنے میں صرف کریں، تاکہ ہماری دنیوی و اخروی زندگی دونوں کامیاب ہوں۔