مضامین

کاش کہ دل میں اتر جائے بات۔۔۔!

بنت اسلم برکاتی
13 اگست 2026
88
2
دین دشمنوں، باطل فرقوں اور بد مذہبوں نے آج ہمیں ایسے کاموں میں مشغول کر دیا ہے کہ جن کا دینِ اسلام سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں! آج اغیار نے ہمیں برتھ ڈے، انیورسریز، مدر ڈے، فادر ڈے، ایونٹس اور نہ جانے کیسے کیسے ان گنت کاموں میں لگا کر، خود اسلام کی نیو کو کھوکھلا کرنے کے مشن پر شب و روز لگے ہوئے ہیں اور آئے دن نت نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیں۔
ہم نے دوسروں سے ان کی تہذیب سیکھ لی اور اپنی اسلامی تہذیب سے ہاتھ دھو بیٹھے! ہر دن ایک نیا ٹرینڈ آتا ہے اور ساری قوم اسی میں لگ جاتی ہے۔ نہ دین کا درد، نہ امت کی بدحالی کا غم! آج ہم نے برتھ ڈے منانے اور مبارک باد دینے کو فرض نہ سہی؛ لیکن واجب تو ضرور سمجھ لیا ہے، الا ما شاءاللہ تعالی! اگر کسی کو وِش نہ کیا جائے، تو منہ پھلا لینا اور بات نہ کرنا عام عادت بنتی جا رہی ہے۔ کسی کے برتھ ڈے کو یادگار بنانے کے لیے، مہینوں پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور نئے نئے چوچلے کیے جاتے ہیں۔
اب تو حد ہی پار ہو چکی ہے۔ ایک بندے یا بندی کا برتھ ڈے سال میں دو دو بار منایا جاتا ہے۔ بلکل صحیح پڑھا آپ نے۔ سال میں دو بار اس طرح کہ ایک ہجری سال کی تاریخ کو اور ایک انگریزی تاریخ کو۔ اغیار نے تو ایک ہی دن برتھ ڈے منانے کا طریقہ سکھایا؛ لیکن ہم ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر دو دو دن منانے لگے۔ اور اس کو ہی کام یابی سمجھ بیٹھے کہ بھئی ہم تو ان سے آگے بڑھ گئے۔ 
ہمیں اِن بے سود کاموں کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا ہے۔ ہماری پیدائش کا مقصد تو  کچھ اور ہی ہے، جسے ہم نے سرے سے ہی بھلا دیا ہے۔ بس اپنی ذات کو خوش کرنے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے رات دن لگے پڑے ہیں۔ نہ رب کی رضا کی فکر، نہ رسول اللہ ﷺ کی خوش نودی کی تمنا، نہ وقت کی قدر، نہ علم پر عمل اور نہ ہی فکرِ آخرت!
اگر کسی سے برتھ ڈے یا انیورسریز کے لیے منع کیا جائے، تو سامنے سے جواب آتا ہے کہ اس میں کیا حرج ہے؟ ہماری نیت تو اللہ کا شکر ادا کرنے اور مومن کا دل خوش کرنے کی ہے۔ عزیزو! عرض یہ ہے کہ یہ سب بہانے بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ اس نے ایسا ذہن بنا دیا ہے کہ ہم ان کاموں سے باہر ہی نہ نکل پائیں! شیطان نے ان کاموں کو ہماری نظروں میں اس قدر خوش نما بنا دیا ہے کہ ان کی حقیقت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ کبھی کبھی نفس و شیطان ہمیں ایسے کاموں میں لگا دیتے ہیں، جو بظاہر تو اچھے اور نیک معلوم ہوتے ہیں؛ لیکن ان کا نتیجہ ناقابلِ ذکر ہوتا ہے!
ان کاموں میں فقط عوام ہی نہیں؛ بل کہ نام نہاد دین دار طبقہ بھی ملوث ہے۔ نتیجتاً وہ کرنے والے کاموں سے کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں، الا ما شاءاللہ تعالیٰ! عوام تو عوام ہے، وہ تو کرنے اور نہ کرنے والے کاموں میں فرق نہیں جانتی؛ لیکن خود کو دین دار کہنے اور سمجھنے والے بھی اگر ایسے کام کریں گے، تو عوام کا کیا ہوگا؟
دنیا میں فقط ایک ہی مبارک ذات ہے، جو اس بات کی حق دار ہے کہ صرف ان کا ہی یومِ ولادت منایا جائے اور وہ ہیں رب کے حبیب، ہمارے اور آپ کے پیارے نبی حضور تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ! لہٰذا اسی پاک ہستی کا یومِ ولادت منائیں۔ کریم آقا ﷺ کا یومِ پیدائش منانے کے ساتھ ساتھ، آپ ﷺ کی تعلیمات کو بھی عام کریں اور ان پر عمل کرنے اور کروانے کی کوشش میں لگ جائیں!
خدارا! ہوش کے ناخن لیں! اپنے اوقات کی قدر کریں اور اغیار کی چالوں کو سمجھیں! ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں نئے نئے ٹرینڈز میں لگا کر، دین دشمن ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دیں! اب بھی وقت ہے، خدا کے لیے! ان بے کار کاموں سے باہر آئیں۔ اپنی ذات اور نفسانی خواہشات سے باہر نکل کر، امت کے عروج اور خوشی کو اپنی خوشی اور کام یابی مانیں؛ کیوں کہ مومن کا تو یہی شیوہ ہوتا ہے۔
اگر آپ کو رب تبارک و تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرنا ہے، تو وارثانِ انبیائے کرام علیہم السلام اور مہمانانِ رسول ﷺ کی خدمت کریں، ان کی مالی امداد کریں، ان کی ضروریاتِ زندگی کو پورا کریں، غربہ و مساکین کی مدد کریں! اور جب یہ سب کام کر کے آپ ان سے دعا کی درخواست کریں گے، تو بلا شبہ آپ کی دنیا و آخرت سنور جائے گی۔
باتیں تو بہت ہیں؛ لیکن اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ جس مقصد سے یہ تحریر لکھی ہے، اللہ کرے کہ دل میں اتر جائے یہ بات! اللہ کریم ہمیں اپنے اوقات کی قدر کرنے والا بنائے۔ رب تبارک و تعالیٰ ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اغیار کی چالوں کو سمجھنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ20 محرم الحرام 1448
6 جولائی 2026، بروز پیر