مضامین

کرامات اور تعلیمات

بنت اسلم برکاتی
08 ستمبر 2026
90
1
حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے بچپن میں مُردوں کو زندہ فرما دیا۔ بارہ سالہ ڈوبی ہوئی کشتی کو نکال دیا۔ ایک پَل میں چور کو قتب بنا دیا۔
 حضور غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ نے آنا ساغر کو ایک ڈول میں لا دیا۔ 90 لاکھ کو بیک وقت کلمہ طیبہ پڑھا دیا۔ 
حضور اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے بے موسم بارش ہوئی۔ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے آئی۔ سی۔ یو ۔میں کڑھے ہو کر نماز ادا فرمائی۔
 یہ ہیں ہمارے بزرگان دین رحمہم اللہ علیہم کی کچھ کرامات ۔الحمدللہ! ہم سبھی کرامات پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اہل سنت و الجماعت کے عقائد میں سے ایک عقیدہ ہے۔ جو ان کا انکار کرے، وہ گمراہ ہے۔ اللہ ہمیں ہر گمراہی اور بد دینی سے محفوظ فرمائے۔ آمین! 
ذرا غور کریں!ان تمام کرامات کو سن کر ہم سبحان اللہ! تو کہہ سکتے ہیں؛  لیکن کیا یہ ہم کر سکتے ہیں ؟ نہیں نہ!! ہم یہ سب نہیں کر سکتے۔ تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ بزرگان دین رحمہم اللہ تعالی کی تعلیمات کو پڑھ کر، سمچھ کر اور سن کر ان ہر عمل کرنا تو ہمارے بس کا کام ہے نہ!! آہ !ہم جو کام کر سکتے ہیں اسی سے کوسوں دور ہیں۔ 
اللہ کے فضل سے بزرگان دین کی کرامات تو ہمارے بچے بچے کی زبانوں پر رواں ہیں، پر افسوس صد افسوس! ان کی تعلیمات پر عمل کرنا تو دور کی بات، ہم ان سے نا آشنا ہیں۔ الا ما شاءاللہ تعالیٰ!
حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے 30 سال تک تعلیم و تعلّم کا سلسلہ جاری رکھا۔ کیا ہم نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی اس سنت مبارکہ پر عمل کرنے کی کوشش کی؟ کرامات سنا کر اور سن کر سبحان اللہ کہنا جتنا آسان ہے، تعلیمات کو بیان کرنا اور ان پر عمل پیرا ہونا اتنا ہی مشکل۔۔!
خدارا ۔!جو کام کر سکتے ہیں، ان کو کرنے کی کوشش میں لگ جائیں! رب تبارک و تعالیٰ ہم سبھی کو بزرگان دین کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے اور ان کی تعلیمات کو سیکھنے، سمجھنے، عمل کرنے اور دوسروں کو بھی سکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ 
1/ رجب المرجب/1446
2/ جنوری/ 2025