ایک گمراہ کو راستہ مل گیا
دل لگی دل لگی میں خدا مل گیا
میری چشم تصور رہی بے خبر
مجھ کو انجانے میں کیا سے کیا مل گیا
مجھ کو جس دم زمانے نے تنہا کیا
تیرے در کا مجھے آسرا مل گیا
مجھ کو اپنی بھی اس دم خبر نہ رہی
جب سر راہ وہ بے وفا مل گیا
ایک مدت سے تھی گنجلک زندگی
پھر اچانک ہی اس کا سرا مل گیا
میرے رب کی یہ مجھ پر عنایت رہی
اپنی اوقات سے بھی سوا مل گیا
جس گھڑی زیست تاریک شب کی سی تھی
تیری الفت کا مجھ کو دیا مل گیا
دل کے اطراف میں ہو گئی روشنی
ایک روپوش کو آئنہ مل گیا
اصغر اپنی بھی کشتی کنارے لگی
اور اسے بھی کوئی دلربا مل گیا