بزم سخن

کلام کامران اصغر

سلمیٰ شاہین امجدی
14
0
شہر نبی کا منظر حد درجہ خوبرو ہے
مسکن مرا وہیں ہو یہ دل میں آرزو ہے

طیبہ میں زیست گزرے طیبہ میں موت آئے
مقصودِ زندگانی طیبہ کی جستجو ہے

عرفانِ مصطفی ہے عرفان حق کا زینہ
جس کو ملا یہ رتبہ وہ شخص سرخرو ہے

اس زیست کے سفر کا کچھ ماجرا عجب ہے
اللہ میرا رہبر، شیطان دُوبدُو ہے

یہ زندگی نبی کی ناموس پر ہو قرباں
قائم انھیں کے دم سے ہم سب کی آبرو ہے

لکھتا ہوں نعت جو بھی پڑھتا ہے آفریدی
فیضانِ مصطفی ﷺ سے کتنا وہ خوش گلو ہے

دو خصلتوں سے اصغر تم خود کو دور رکھنا
غصہ ترا مخاصِم غِیبت تری عَدو ہے