بزم سخن

کلام کامران اصغر

سلمیٰ شاہین امجدی
10
0
ہونے لگی ہے ان سے ملاقات کی طلب
ہے روح کو بھی آج مدارات کی طلب

پہلو میں بیٹھ کر ترے آنسو کروں رواں
ہے دل کو آج میرے اس اک رات کی طلب

رب کی توجہات گنہگار پر رہیں
رحمت کی آرزو ہے عنایات کی طلب

ہر ایک لحظہ قلب پہ رحمت کا ہو نزول
ہے ان نشانیوں کی ان آیات کی طلب

رب سے قریب تر مجھے کر دیں جو ہر گھڑی
لطف و کرم کی مجھ کو ہے برسات کی طلب

سچا ہو عشق تو ہے تمنا بھی لاشریک
اُس ذات کا ہے شوق اسی ذات کی طلب

اس کے سوا قلم سے نہ نکلے کوئی بھی شعر
اک اشتیاقِ حمد ہو اور نعت کی طلب

روحانیت کی راہ مبرا غرض سے ہے
اس میں نہیں ہے کشف و کرامات کی طلب

تیرا کوئی عمل نہ شریعت کے ہو خلاف
دل میں اگر طلب ہو تو اس بات کی طلب

اس زندگی کو آج ہے درکار زندگی
لمحات کو بھی آج ہے لمحات کی طلب

اعمال میں ہے روح نہ باقی کوئی تڑپ
فکر و ہنر کو آج ہے جذبات کی طلب

ہے جستجو اگر تو ہے مالک کے قرب کی
نہ عدن ہے مراد نہ جَنّات کی طلب

بے لوث کر تو اپنی محبت کو کامران
کس بات کا تقاضا ہے کس بات کی طلب

دل سے نکلتے ساتھ رسائی ہو عرش پر
اصغر ہے آج ایسی مناجات کی طلب