زمانے کے بدلنے کے ساتھ انسان کی رہائش، لباس اور طرزِ زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ پہلے لوگ کچے گھروں میں رہتے تھے، لیکن ان کے دل محبت، خلوص اور اپنائیت سے بھرے ہوتے تھے۔ رشتے مضبوط تھے اور لوگ ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ مگر آج صورتِ حال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ پکے اور خوبصورت مکانات تو بن گئے ہیں، لیکن افسوس کہ بہت سے گھروں اور دلوں میں پہلے جیسی محبت، خلوص اور اپنائیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اسی حقیقت کو یہ جملہ بیان کرتا ہے: کچے گھر کی پکی باتیں، اور پکے گھر کی کچی باتیں۔
پہلے زمانے میں اگرچہ گھروں کی دیواریں مٹی کی ہوتی تھیں، لیکن خاندانوں کی بنیادیں بہت مضبوط ہوتی تھیں۔ گھر کے تمام افراد کے درمیان بے پناہ محبت، اعتماد اور اپنائیت پائی جاتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہتے، حسبِ استطاعت ایک دوسرے کی مدد کرتے، بزرگوں کا احترام کرتے اور پڑوسیوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ ہر خوشی اور غم کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ اگرچہ ان کے گھر الگ الگ ہوتے تھے، مگر دل ایک دوسرے سے جڑے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی زندگی میں سکون، محبت اور خوشیاں زیادہ ہوا کرتی تھیں۔
آج لوگوں کے پاس زندگی کی بے شمار سہولتیں اور پکے، خوبصورت مکانات تو موجود ہیں، مگر مال و دولت کی خواہش اور مصروف زندگی نے رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود لوگوں کے درمیان پہلے جیسی محبت، خلوص اور اپنائیت نظر نہیں آتی۔ نہ پہلے جیسی بیٹھکیں رہی ہیں اور نہ ہی دلوں کو جوڑنے والی باتیں۔
آج لوگوں کے پاس موبائل فون پر گھنٹوں وقت گزارنے کے لیے تو وقت ہے، لیکن اپنے والدین، بھائی بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آج مکان تو مضبوط ہو گئے ہیں، مگر رشتے کمزور پڑ گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آج کے دور میں محبت اور خلوص ختم ہو گیا ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مصروف زندگی میں اپنے رشتوں کے لیے بھی وقت نکالیں۔ ہمیں اپنے والدین، بھائی بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے رشتوں کو وقت دیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں تو ہمارے درمیان محبت، اعتماد اور اپنائیت ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ گھر کی اصل خوبصورتی اس کے بہترین فرش، خوبصورت سجاوٹ، مضبوط دیواروں یا قیمتی سامان میں نہیں، بلکہ وہاں بسنے والے لوگوں کی محبت، خلوص اور باہمی اتحاد میں ہوتی ہے۔ جس گھر میں محبت، احترام اور اعتماد کا ماحول ہو، وہاں سکون اور خوشی خود بخود آ جاتی ہے۔ اگر رشتے مضبوط ہوں تو ایک کچا گھر بھی جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، اور اگر دلوں میں دوریاں ہوں تو عالی شان محل بھی ویران محسوس ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے رشتوں کی قدر کرنی چاہیے اور محبت و اخوت کو فروغ دینا چاہیے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں آپس میں مل جل کر رہنے، ایک دوسرے سے محبت کرنے اور رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں محبت اور خلوص پیدا فرمائے اور ہمارے گھروں کو خوشیوں اور سکون سے بھر دے۔ آمین یا رب العالمین۔