پوری دنیا میں مومنین کے دل مسرور ہیں، چہروں پر خوشیاں ہیں، ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں آقا کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منانے میں مصروف ہے۔ کہیں گھروں کو روشنیوں سے سجایا جا رہا ہے، کہیں مسجدوں کو خوبصورتی سے سجایا جا رہا ہے، کہیں لنگر کے انتظامات ہو رہے ہیں۔ واقعی یہ سارے مناظر دیکھ کر دل شاد شاد ہو جاتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہے جو ہمیں اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہیے!
جب دنیا میں ہمارے کسی اپنے پیارے کی ولادت آتی ہے تو ہم کئی کئی ماہ پہلے سے اس کے لیے تحفہ تیار کرنے لگتے ہیں۔ تو اب جب ہمارے سب سے پیارے آقا کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا بابرکت مہینہ آ گیا ہے، ہم نے اپنے آقا ﷺ کے لیے کیا تحفہ تیار کیا ہے؟
کیا صرف ایک دن جلوس نکال لینا، ایک دن نعرے لگا لینا اور جذبات کا اظہار کر دینا ہی حقیقی محبت ہے؟
نہیں!
حقیقی خوشی تو یہ ہے کہ ربیعُ الاوّل ہمیں بدل دے۔ ہمارے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی ایسی لہر دوڑا دے جو صرف ایک دن تک محدود نہ رہے، بلکہ ہماری پوری زندگی میں نظر آئے۔ ہم صرف ربیعُ الاوّل میں نہیں، بلکہ پورے سال سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے پیروکار بن کر دکھائیں۔
اگر ہم واقعی اپنے آقا کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں تو: نمازوں کی پابندی کریں، کیونکہ نماز حضور ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔
سنتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
جھوٹ، غیبت، بدگمانی اور بدزبانی سے بچیں۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔
اور اپنے اخلاق کو اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق سنواریں۔
یہی حقیقی خوشی ہے، یہی محبت کا عملی اظہار ہے۔
اور آقا کریم ﷺ کی امت میں جو پریشان حال ہیں، ان کا سہارا بننا، کسی غریب کے گھر خوشی پہنچانا، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا اور علمائے کرام کا ادب و تعاون کرنا بھی ہماری محبت کا خوبصورت اظہار ہے۔
ہر وقت غلبۂ دین کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرتے رہنا، دین کی خدمت کرنا اور اسے اپنی زندگی میں زندہ رکھنا بھی حقیقی محبت کا تقاضا ہے۔
اور مدارس کے طلبہ کو کتابوں کا تحفہ دینا، ان کی تعلیم میں تعاون کرنا، مدارس کا سہارا بننا یہ بھی آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک نہایت خوبصورت تحفہ ہو سکتا ہے۔
کیونکہ یہی طلبہ کل کے علماء بنیں گے، یہی علمِ دین کو آگے پہنچائیں گے، یہی دین کا دفاع کریں گے اور یہی ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے علم و کردار کے ساتھ پہرہ دیں گے۔
تو پھر سوچیں
اس سے بڑھ کر خوبصورت تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
اس لیے اس ربیعُ الاوّل عزم کیجیے کہ اگر ہمیں اپنے پیارے آقا کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں کوئی تحفہ پیش کرنا ہے تو ہم مدارس کا تعاون کریں گے، طلبہ کو کتابیں دیں گے، کسی پریشان حال کا سہارا بنیں گے، دین کی خدمت کریں گے، اور ہر وقت اپنے آقا کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے لیے بیدار رہیں گے۔
آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور تعلیمات کو عام کریں گے، اور اپنی زندگی سے سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت ظاہر کریں گے۔
کیونکہ میلاد کی خوشی صرف ایک جذبہ نہیں یہ ایسی محبت ہے جو بارہ ربیعُ الاوّل تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ پورے بارہ مہینے ہماری زندگی میں نظر آنی چاہیے۔
صرف ایک دن محبت کا اظہار نہیں…
بلکہ پوری زندگی محبت کا ثبوت۔
یہی ہمارے آقا کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔